غامدی صاحب! آپ اپنے اس داماد کو مستقبل کا جانشین بنانے کیلئے غلط اور بکواس باتیں کرنا چھوڑ دیں۔ تمہارے اس بیان میں بہت تضادات ہیں۔
نمبر1: دیانتداری کا تقاضہ یہ تھا کہ آپ اس بات کو واضح کردیتے کہ طلاق کا ایک مفہوم غلام احمد پرویز سے آپ نے لیا ہے اور اس پر پھر قائم بھی رہتے کہ تین مرتبہ طلاق سے مراد یہ ہے کہ زندگی میں جب تیسری مرتبہ طلاق دی جائے تو پھر اس کے بعد حلالہ کے بغير رجوع نہیں ہے۔ حالانکہ قرآن وسنت میں اس کا بھی کوئی تصور نہیں ہے البتہ مسلک حنفی نے اس کو احسن طلاق قرار دیا ہے۔ آپ کھلم کھلا دجل سے کام لے رہے ہیں نہ تو احناف کی وضاحت کررہے ہیں اور نہ غلام احمد پرویز کی بلکہ دونوں موقف میں بہت نفاق اور منافقت سے جھول رہے ہیں-
نمبر2: آپ نے بعض متقدمین کی رائے لی ہے کہ حیض میں طلاق نہیں ہوتی ہے لیکن اگر اس بات کو درست تسلیم کرلیا جائے تو پھر اس موقف کی گنجائش نہیں رہتی ہے کہ طلاق پر اجتہاد کیا جائے کہ تمہاری نیت طلاق دینے کی تھی یا نہیں؟ اور یہ اجتہاد
کیا جائے کہ نیت طلاق کی تھی یا نہیں؟ اور نیت قابل قبول ہے یا نہیں ہے؟ جبکہ یہ باتیں متضاد اور متصادم ہونے کے ساتھ ساتھ مستند ذرائع سے نقل بھی نہیں ہوئی ہیں-
نمبر3: طلاق سے رجوع کیلئے قرآن نے بہت واضح احکامات بیان کردیئے ہیں جس کے بعد اس پر مزید اس طرح کے لغو اجتہادات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ آللہ نے ایک اصول واضح کردیا ہے کہ رجوع کیلئے باہمی اصلاح، باہمی صلح، معروف طریقہ اور باہمی رضا مندی ضروری ہے۔ جب بھی عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضا مندی ہو تو قرآن کی آیات واضح ہیں کہ رجوع ہوسکتا ہے جس میں کوئی ابہام اور تضاد نہیں ہے۔
نمبر 4: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اجتہاد کی بنیاد پر قرآن اور معاشرے کا دشمن قرار دینا بہت ہی غلیظ قسم کی ذہنیت ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں کوئی اجتہاد نہیں ہے بلکہ قرآن کے عین مطابق ہے۔ حضرت
عمر نے کوئی دارالافتاء نہیں کھولا تھا کہ مسئلہ پوچھنے کیلئے لوگ آتے تھے بلکہ عدالت تھی جس میں لوگوں کو انصاف ملتا تھا قرآن و سنت کے عین مطابق۔ جب ایک تنازعہ آگیا کہ شوہر نے اکٹھی تین طلاق دی ہیں اور عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہے تو یہ قرآن کا واضح فیصلہ ہے کہ شوہر رجوع نہیں کرسکتا ہے۔ حضرت عمر تک یہ معاملہ محدود نہیں تھا بلکہ حضرت علی نے بھی حرام کے لفظ پر تنازعہ کے بعد یہی فیصلہ دیا تھا اور طلاق اور حرام کے لفظ کی تصریح تو بڑی بات ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایلا کیا تب بھی آللہ نے ازواج مطہرات کو علیحدگی کا اختیار دینے کا واضح حکم قرآن میں فرمایا ہے۔ حضرت عمر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتنوں کیلئے بند دروازہ ہیں جس کو توڑ دیا جائے گا جو لوگ حضرت عمر کے ٹھیک کردار کو غلط قرار دیتے ہیں تو وہ فتنوں کا دروازہ کھول رہے ہیں پھر حضرت علی باب العلم ہیں جس نے حرام کے ایک لفظ سے بھی رجوع کی اجازت نہیں دی اسلئے کہ عورت راضی نہیں تھی نہ کہ اسلئے کہ سورہ تحریم کی دھجیاں بکھیر دیں۔ حضرت عمر اور حضرت علی کے دشمن یزید کے اسلام کو کربلا سے زندہ کررہے ہیں لیکن اب إمام حسین رضی اللہ عنہ اور امام حسن رضی اللہ عنہ کی قیادت میں صلح اور مزاحمت کی ایک نئی تاریخ ہم رقم کررہے ہیں۔
نمبر5: سورہ بقرہ آیت 228 میں واضح ہے کہ عدت میں باہمی اصلاح کی بنیاد پر ان کے شوہر ان کے لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں پھر کسی کی کیا مجال ہے کہ عدت میں اصلاح کے باوجود بھی اجتہاد کی بنیاد پر رجوع کا حق کوئی چھین لے؟ یا پھر اصلاح کے بغیر بھی طلاق رجعی کا حکم جاری کرکے عورت کو مجبور کردے؟ دونوں صورتوں میں قرآن کے واضح حکم کی خلاف ورزی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم یہ نہیں کرتے-
نمبر6: جاوید احمد غامدی ریاست کو ہر چیز میں گھسیٹ رہا ہے تو پھر خود گدھ کی طرح ٹی وی پر بیٹھ کر فقہاء کی بوسیدہ ہڈیاں کیوں نوچ رہا ہے؟۔ ریاست کا کام ریاست پر چھوڑ دے- علماء اور مدارس اور مساجد کو سنبھالنا جب ریاست کا کام ہے تو اتنے بڑے میڈیا چینلوں کے منبر سے دین کی غلط تشریحات جھاڑنا ٹھیک لگتا ہے؟۔ اخلاقیات کا یہی پیمانہ ہے؟۔ اگر کوئی شادی شدہ عورت شائستگی سے گرل فرینڈ بنائی جائے تو کیا اس کو جواز بخش دیا جائے گا؟- علماء اور ائمہ کرام اپنے فن کے ماہر ہوتے تھے لیکن اب فنکار میدان میں آگئے ہیں جن کا پول کھولنا چاہیے-
نمبر7: حضرت حسین رضی اللہ عنہ اقتدار کے بھوکے نہیں تھے لیکن پھر حضرت علی اور حسن کے بعد یزید کے خلاف کیوں میدان میں آئے؟- اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جیسے صحیح بخاری کی روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حج وعمرہ کے اکٹھے احرام پر پابندی لگائی تو امام عالی مقام باب العلم حضرت علی نے مزاحمت کی کہ میں دیکھتا ہوں کہ کون پابندی لگاتا ہے۔ حضرت علی جانتے تھے کہ حضرت عمر نے ٹھیک اجتہاد کرکے گرمیوں میں بدبودار ماحول سے بچنے کیلئے مشترکہ احرام پر پابندی لگائی ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان کی تقلید میں امت کو حد سے باہر نکالنے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک ظالم گورنر ضحاک نے کہا کہ جو ایک ساتھ حج و عمرے کا احرام باندھ دے تو وہ بڑا جاہل ہے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ساتھ احرام باندھتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر یزید کے دور میں اجتہاد کرکے کسی کو حلالہ کیلئے مجبور کرنا اور کسی کو عورت کی رضا مندی کے بغیر رجوع کا حکم دینا اس یزیدیت کا خطرہ تھا جس کے خلاف حضرت امام حسین نے قیام کرکے امت کو جگانے کی تحریک چلائی تاکہ اسلام یزیدیت کے آغوش میں اجنبیت کا شکار نہیں ہوجائے۔ جاوید احمد غامدی کی غرض قرآن وسنت اور خلفاء راشدین سے نہیں بلکہ اپنی بیٹی کے شوہر کیلئے اپنی یزیدیت والی ریاست کو چھوڑ رہے ہیں لیکن انشاءاللہ ناکامی ہوگی
غامدی کی باتوں میں تضاد ہی تضاد ہے کبھی کہتا ہے کہ تین مرتبہ طلاق سے مراد احسن طلاق ہے جو پرویز کا بھی موقف ہے لیکن نہ طلاق احسن کا قائل ہے اور نہ پرویز کے موقف کا اقرار کرتا ہے پھر کہتا ہے کہ طلاق حیض میں واقع نہیں ہوتی پھر کہتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عزم اور ارادہ معلوم کیا کہ ایک کا تھا یا تین کا؟۔ پھر حضرت عمر کی طرف غلط اجتہاد کی نسبت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ معلوم ہوا کہ اس کے نقصانات ہیں حالانکہ قرآن میں طلاق کے حوالے سے جتنی وضاحتیں ہیں اور کسی معاملے پر نہیں ہیں۔ یہ دجال قرآن کی بات کرتا ہے اور قرآن سے طلاق کے مسئلے کو الجھا رہا ہے یہی بہتر ہے کہ بوڑھی عورتوں کیساتھ بیٹھ کر خانقاہ کا ناٹک رچائے۔
آپکا جو اعتراض ھے ایک ایک کر کے بات کر لیتے ھیں۔ اتنی لمبی تحریر اور کوئی ایک موضوع بھی نہیں ، اس سے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رھا کہ آپ کہنا کیا چاہ رھے ھیں
عتیق گیلانی کا ڈاکٹر جن من کو جواب
@dr.jinmin قرآن میں طلاق کا مسئلہ جتنا واضح ہے تمہیں اس گدھ کی فضول بکواس سنائی نہیں دیتی ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اجتہاد کا بہتان لگانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ طلاق کے عزم کا قرآن میں ذکر ہے لیکن اس کا معنی بالکل واضح ہے کہ اس سے پہلے کی دو آیات میں دل کے گناہ پر پکڑنے کی وضاحت ہے آیت 225 البقرہ پھر آیت 226 البقرہ میں عدت کے چار مہینے کا ذکر ہے جس میں ایک ماہ کے اضافی عدت 226 میں ہے جو طلاق کے عزم کا اظہار نہ کرنے کی صورت میں ہے۔ اگر عزم تھا تو اس پر پکڑ ہوگی آیت 227 اور طلاق کے اظہار کی صورت میں تین ادوار یا تین ماہ کی عدت ہے۔ آیت 228 البقرہ۔ یزیدیت سے پرویزیت تک غامدیت کا گدھ پتہ نہیں کونسی ہڈیاں چبا رہا ہے اس کو اپنی مذہبی ریاست کیلئے اپنے داماد کو تیار کرنا ہے لیکن ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا ہے۔
عتیق الرحمٰن صاحب۔ آپ جو کوئی بھی ہیں اپنے لہجے میں نرمی لائیں اور الفاظ کا چناو سوچ سمجھ کر کیا کریں جزاک اللہ خیرا۔سلام علیکم
عتیق گیلانی کا سلطان محمود کو جواب
الفاظ کے چناؤ سے بڑا مسئلہ امت مسلمہ کا صحیح مسائل کی طرف توجہ دلانا ہے۔ قرآن اور احادیث میں سب سے زیادہ طلاق کے مسئلہ کی وضاحت ہے۔ غامدی صاحب جان بوجھ کر اس کو الجھا رہے ہیں۔ اس کی باتیں آپس میں بھی نہیں ملتی ہیں۔ قرآن کی آیت 228 البقرہ میں بھرپور وضاحت ہے کہ عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے۔ اب اگر کوئی کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجتہاد کیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے یا کوئی کہے کہ صلح واصلاح کی شرط کے بغیر بھی رجوع ہوسکتا ہے تو یہ دونوں قرآن کے واضح اصل کے خلاف ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کبھی ایسا اجتہاد نہیں کرسکتے تھے جو قرآن کے واضح حکم کے خلاف ہو۔ غامدی صاحب کا دماغ اتنا کام نہیں کرتا ہے کہ اپنی طرف سے اصول ایجاد کرلئے لیکن جب قرآن کی وضاحت ہوگئی تو عوام کو پھر گھما گھما کر گمراہ کررہا ہے یہ غلط بات ہے۔ دور جاہلیت میں طلاق رجعی کا تصور تھا جس میں عورت کی مرضی شامل نہیں ہوتی تھی اور مرد رجوع کرلیتا تھا اور عورت کا استحصال ہوتا تھا اور اکٹھی تین طلاق پر حلالہ کی لعنت تھی قرآن نے دونوں جہالتوں کا آیت 228 البقرہ میں خاتمہ کردیا اور شوہر کو اصلاح کی شرط پر عورت کے لوٹانے کا زیادہ حقدار قرار دیا۔ غامدی صاحب کہتے ہیں کہ یہ حکمران کا اجتہادی اختیار ہے جو انتہائی لغو اور بے بنیاد بات ہے۔
@dr.jinmin