جاوید غامدی شاید عمر کے اس حصے میں پہنچے ہیں جب اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ومنہم من یرد الی ارذل العمر لکی لایعلم بعد علم شيئا اور بعض لوگ عمر کی اس حد کو پہنچ جاتے ہیں جس میں سمجھ کے بعد سمجھ ختم ہوجاتی ہے۔
ساری زندگی غامدی صاحب نے اپنے اصول پر قرآن اور احادیث کی تفسیر اور رد وقبول کے اپنے معیار پر گزار دی اور اب اپنے تضادات سنبھالے نہیں جاتے۔
ایک طرف یہ کہنا کہ طلاق اس طریقے کے مطابق دی ہے جو قرآن کے مطابق ہے تو نافذ نہیں ہوگی اور دوسری طرف یہ کہنا کہ نیت کو پرکھا جائے گا جب قرآن کا ایک طریقہ کار موجود ہے تو نیت کا اس سے پھر کیا طلاق بنتا ہے؟۔ مثلا قرآن میں ہے کہ اکٹھی تین طلاق منعقد ہوجاتی ہیں یا نہیں؟ پھر نیت کا اس سے کوئی تعلق نہیں بنتا ہے مگر غامدی صاحب اس کیلئے قرآن کے خلاف بالکل ایک حدیث سے استدلال پیش کرتا ہے جس حدیث کا کوئی معیار فقہاء کے نزدیک بھی ایسا نہیں ہے جس پر کسی مسلک کی تائید یا تردید کی بنیاد رکھی جائے چہ جائیکہ اس پر قرآن کی واضح آیات کے خلاف کوئی فیصلہ کیا جائے۔ اسلئے غامدی صاحب نے اپنے اس آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں صرف بڑے تضادات سے بھرپور مسائل نہیں بیان کئے بلکہ محض بکواسات ہی بکواسات کئے ہیں۔ مذہب کے نام پر جو اپنی چھوٹی سی ریاست اور بڑی دکان کھولی ہے اس پر اپنے داماد کو بٹھانے کیلئے اس دجال کا مشق ستم جاری ہے۔ احادیث میں 70 سے زیادہ دجال کا ذکر ہے جن میں 30 نبوت کا دعوٰی کریں گے۔
🔥 3 TALAQ Ki HAQEEQAT ‼️ HAZRAT UMAR Ka IJTAHAD 🔥 تین طلاق کا مسئلہ | JAVED AHMAD GHAMIDI
ستمبر 19, 2025
تبصرہ