جاوید غامدی صاحب اب عمر کے اس حصے میں پہنچ گئے ہیں شاید جب دماغ کام چھوڑ دیتا ہے۔ ائمہ مجتہدین نے کیا اجتہاد کیا تھا؟ اگر قرآن میں یا حدیث میں کوئی چیز موجود ہوتو اجتہاد نہیں ہوتا ہے۔ حضرت عمر نے کوئی اجتہاد نہیں کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب عورت نے تین طلاق کے بعد کہا کہ وہ رجوع کیلئے راضی نہیں ہے۔ حضرت عمر کو پتہ تھا کہ اگر شوہر طلاق دے اور عورت پھر رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو قرآن کی آیت 228 میں واضح ہے کہ ایسی صورت میں رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ اگر ایک طلاق غصہ یا مذاق میں بھی دی ہوتی اور عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہوتی تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیم تھی کہ پھر قرآن کے مطابق رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔
پھر یزید، مروان، عبدالملک، ولید اور سلیمان تک بنوامیہ کے حکمرانوں نے حضرت عمر کے نام کو غلط استعمال کرکے جاہلیت اولی کیساتھ حلالہ کے نام پر مذہبی ہیرہ منڈی تشکیل دے دی تھی۔ اسی کو مفاد پرست عناصر نے قبولیت کا درجہ دیا۔ جہاں تک ائمہ اربعہ کا تعلق ہے تو اس قدر کچی ذہنیت کے لوگ نہیں تھے کہ اجتہاد کے نام سے نیا دین تشکیل دیتے۔ انہوں نے اتنا کہا اور ٹھیک کہا کہ اگر شوہر نے تین طلاق دی ہے اور عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہے تو عورت آزاد ہے اور یہ بالکل قرآن وسنت اور خلافت راشدہ کے مطابق درست فیصلہ تھا۔ البتہ إمام ابوحنیفہ وامام مالک کا موقف یہ تھا کہ اس شخص کا اس طرح سے طلاق دینا بدعت گناہ اور ناجائز ہے اور اس کی دلیل محمود بن لبید کی روایت ہے۔ إمام شافعی نے کہا کہ اکٹھی تین طلاق سنت مباح اور جائز ہیں اور دلیل لعان کے بعد عویمر عجلانی والا واقعہ تھا جس میں اکھٹی تین طلاق دی تھیں۔ لیکن ان کے نزدیک یہ احادیث قرآن کی آیات کیلئے ناسخ نہیں تھیں کیونکہ قرآن میں باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رجوع کی گنجائش موجود ہے اور ان احادیث کی بنیاد پر وہ اس گنجائش کو ہرگز ختم نہیں کرسکتے تھے۔
جاوید غامدی کو یزیدیت کے نام سے نئے دین کا شوق ہے اسلئے رکانہ بن عبد یزید کی ضعیف حدیث سے قرآن کی آیات کے منسوخ ہونے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ حالانکہ وہ اس کے والدین کا واقعہ تھا جس میں تین طلاق اور عدت کی تکمیل کے بعد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع کا فرمایا تھا۔ غامدی صاحب اپنے داماد کو ضرور اپنا جانشین بنائیں اور خانقاہ کا لنگر چلے تو بیٹی کو بھی بٹھائیں مگر جھوٹے اجتہادات سے قوم کو گمراہ نہیں کریں۔