رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ امت سابقہ امتوں کے نقش قدم پر چلے گی۔ اس نقش قدم پر چلنا مشابہت ہے یا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی شلوار نہیں پہنی اور شلوار یہودی پہنتے تھے۔ پنجاب کے لوگ تہبند پہنتے ہیں اور علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات سب کے سب تقریبا یہودیوں کی طرح شلوار پہنتے ہیں۔ کیا یہ مشابہت مراد ہے؟۔ پھر تو مذہبی طبقات کو اعلان کرنا چاہیے۔ اور حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی بڑی مونچھیں تھیں اور لوگوں کے بطور سزا سر کے بال اور مونچھیں منڈوائی جاتی تھیں لیکن مذہبی طبقات خود ہی اپنے اوپر یہ شکل وصورت مسلط کئے ہوئے ہیں۔ پٹھان، سندھی، بلوچ، پنجابی، عرب اور مختلف علاقوں کے لباس الگ الگ ہیں۔
جب اسلام آیا تو مکہ میں مشرکین کا لباس تہبند تھا اور مدینہ میں یہود کی شلوار۔ کیا مسلمانوں نے ان سے الگ لباس اور شکل وصورت بنائی تھی؟۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی طرح داڑھی سفید چمکانے سے منع فرمایا۔ بڑے علماء ومشائخ کی سفید داڑھیاں ہوتی ہیں۔ اہل حدیث اسلئے رنگتے ہیں۔ خصائل نبوی میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لباس میں تکلف نہیں کرتے تھے جو مل جاتا اور جہاں سے تحفہ آتا قبول کرکے پہن لیتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عوام کے اندر مذہبی طبقات کی طرح جدا لباس اور حلیہ سے نہیں پہنچانے جاتے تھے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہود ونصاری کی مشابہت مذہبی طبقات نے شروع کردی ۔ حلالہ کی لعنت میں یہ مبتلا ہیں اور سود کو انہوں حلال کردیا۔ زکوۃ کی رقم پر تجارت یہ کرتے ہیں۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی کتاب "عصر حاضر حدیث نبوی کے آئینہ میں” کو مارکیٹ سے غائب کردیا گیا ۔