اس میں کوئی شک نہیں کہ غلام احمد پرویز ایک جرآت مند اور باصلایت انسان تھے۔ علماء کرام نے اس پر ہوائی فائرنگ کی ہے جس میں وہ کھڑے رہے اور جو کچھ بھی اس نے لکھنا تھا اس پر اپنے آپ کو ثابت قدم رکھا لیکن یہ کوئی نئی فکر نہیں تھی سرسید احمد خان سے پہلے تفسیر کے امام علامہ جاراللہ زمحشری صاحب کشاف اور إمام زید بن زین العابدین بن إمام حسین کے استاذ واصل بن عطاء بھی معتزلی تھے۔ اور علامہ تمنا عمادی بھی حنفی منکر حدیث اور معتزلی تھے۔ غلام احمد پرویز نے جہاں سے اپنی فکر کشید کی ہے اور اس نے پھر جنرل ضیاء الحق کو موقع دیا کہ ڈکٹیٹر شپ نافذ کرے۔ شیعہ سنی اختلافات میں سنی اکثریت کو خوش کیا اور پنجاب کے مذہبی جذبات کو کیشن کرنے کا فائدہ اٹھایا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ پرویز نہ پاجامہ تھا اور نہ ہی کرتا دوسروں کی چڈیاں چوری کرکے گزارا کیا ہے۔
حنفی مسلک میں طلاق کی تین اقسام ہیں طلاق احسن، طلاق حسن، اور طلاق بدعت۔ غلام احمد پرویز کو حنفی مسلک کی طلاق احسن سمجھ میں آگئی اور اسی کو قرآن قرار دے دیا۔ حالانکہ طلاق احسن کا نظریہ طلاق بدعت سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک واردات تھی۔ جس کی وجہ سے زیادہ مشکلات پیدا ہوگئی تھیں۔ جبکہ إمام جعفر صادق کا مسلک قرآن و حدیث دونوں سے بہت زیادہ قریب تر اور قرین قیاس تھا۔ لیکن پرویز نے قرآن و حدیث سے زیادہ حنفی ذہنیت کی اکثریت کی ہمدردیاں حاصل کرنی تھیں۔ اسلئے شیعہ کے مسلک پر غور نہیں کیا۔ لیکن قرآن پر بھی نہیں کیا بلکہ طلاق احسن سے محبت ہوگئی اور رشتہ جوڑ دیا۔ حالانکہ قرآن وسنت کا یہ کمال تھا کہ عورت صلح کیلئے راضی ہو اور شوہر اپنی اصلاح کرے تو معروف طریقے سے رجوع کرے اور جس آیت 230 البقرہ میں رجوع کی اجازت نہیں تو اس سے پہلے وہی صورت بیان کی گئی ہے۔ لیکن پرویز صاحب نے قرآن و حدیث کے پرخچے اڑا دیئے اور اپنی چوری شدہ چڈی کو اپنا کمال سمجھا تھا۔
قرآن مجید میں کسی عورت پر بہتان لگانے کی سزا 80 کوڑے ہے۔ اگر آج بھی دنیا کو یہ پتہ چل جائے کہ ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان کی سزا اور عام خاتون کی سزا میں اسلام نے کوئی فرق نہیں رکھا ہے جو قرآن اور حدیث سے ثابت ہے تو پوری دنیا کے لوگ اسلام کی حقانیت کو مان جائیں گے۔ اسلئے کہ دنیا میں طاقتور اور اشرافیہ کے لیے ہتک عزت کے قانون میں فرق ہے۔ کسی کی عزت اتنی نہیں کہ عدالت اور وکیل کی فیس ادا کرسکے اور کسی کا ہتک عزت پر اربوں کا دعوٰی ہوتا ہے۔ جرمانہ کی سزا بھی غریب کیلئے تھوڑی بھی بہت ہے اور مالدار کیلئے بہت بڑا جرمانہ بھی کچھ نہیں ہے۔ لیکن 80 کوڑے کی سزا سب کیلئے برابر ہے اور عزت کی کوئی قیمت بھی نہیں جو عوض بن سکے۔
قرآن نے امہات المؤمنين کیلئے ایک طرف عام عورت کا قانون رکھا اور دوسری طرف عام عورت کی نسبت امہات المؤمنين سے غلطی ہو تو اس کی سزا عام عورت کی نسبت ڈبل رکھی۔ یہی وجہ تھی کہ اسلام نے طاقتور برسر اقتدار اور اشرافیہ کے لیے امتیازی قوانین نہیں رکھے ہیں اور سپر طاقتوں کو شکست دینے کی وجہ بھی عدل وانصاف کی روح کا قیام تھا جس نے سپر طاقتوں کو متزلزل کردیا تھا۔ اگر غلام احمد پرویز قرآن و حدیث اور فطرت سے انحراف نہیں کرتا تو جنرل ضیاء الحق پاکستان میں توہین رسالت کے قانون سے لوگوں کو بلیک میل کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان سے زیادہ توہین رسالت اور اذیت رسول کیا ہوسکتی ہے؟۔ جس کا پرویز نے انکار سے راستہ ہموار کیا۔ ہمارے ہاں ایک پاگل جہانگیر شیخ تھا جو غصہ ہوکر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکتا تھا۔ اس کے خاندان میں بریلوی اور دیوبندی تو پہلے سے تھے۔ بعد میں اہل حدیث بھی بن گئے لیکن کسی نے تھپڑ تک نہ مارا۔ پنجاب کے لوگ جذباتی ہیں۔ پرویز نے کہہ دیا کہ شیعہ لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بدنام کرنے کیلئے احادیث گھڑی ہیں تو تحقیق کی بازی میں شرکت کئے بغیر بقول علامہ اقبال کے صیاد کی تاویل کے پھندے کا شکار ہوگئے۔ جس سے شیعوں سے نفرت بڑھ گئی تھی کہ اس حد تک گئے کہ ہماری بخاری میں بھی احادیث ڈال گئے۔ حالانکہ شیعہ تو اس واقعہ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا مراد لیتے ہی نہیں بلکہ حضرت ماریہ قبطیہ سے متعلق یہ واقعہ سمجھتے ہیں۔ جس کی بنیاد محمد اجمل خان نے رسول عربی کتاب میں فراہم کی تھی جو پرویز کا اصل باپ تھا۔ لیکن پرویز انتہائی نالائق، خود غرض اور مفاد پرست انسان تھا اور پرائے گو پر پاد مارکر اس کا کریڈٹ لیتا تھا۔ علامہ زمحشری تفسیر کے بجا طور پر إمام تھے اسلئے کہ اندھوں میں کانا راجہ ہوتا ہے۔ لیکن بعض بہت بنیادی غلطیاں کی ہیں۔ جیسے قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ یوم ندعوا کل اناس بامامھم اس دن ہم عوام میں سے ہر ایک کو اس کے إمام کیساتھ بلائیں گے۔ عربی میں إمام سردار کو کہتے ہیں۔ قرآن میں کفر کے اماموں کا بھی ذکر ہے۔ علامہ زمحشری نے دور ازکار عربی لغت میں إمام سے ماں مراد لیا اور وجہ یہ تھی کہ بعض لوگوں نے کہا کہ جب سب کو اس کے باپ کے نام سے پکارا جائے گا تو عیسی علیہ السلام کے والد نہیں ہوں گے ان کا دل رکھنے کیلئے سب کو ماں کے نام سے پکارا جائے گا۔ حالانکہ اس سے یہ بات چھپے گی نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام حضرت مریم کے بیٹے ہیں۔ جیسے مولا کے بہت معانی ہیں اور کوئی کہے کہ سورہ بقرہ کی آخری آیت میں اللہ نے خود کو انسانوں کا خادم اعلی کہا ہے کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں تو وہ ہماری بات کے تابع ہے اس طرح دور ازکار تاویلات اور بکواسات بعض لوگوں کا مشغلہ ہوتا ہے اور بے عمل لوگ تماشا دیکھنے میں اپنی عافیت محسوس کرکے اس کو قبول کرتے ہیں۔ عربی کی وسیع لغت اور نفس پرستی کی پہلی مثال غلام احمد پرویز تھے اور دوسری اس کا بے نام چھوکرا جاوید احمد غامدی ہے۔
فرقہ یا مکتب فکرSect or School of Thought Allama Parwez as Mujtahid Mutlaq Asif Jaleel,Ghulam Parwez
اکتوبر 6, 2025
تبصرہ