مشاہد اللہ خان بہت اچھے اور دبنگ انسان تھے۔ حلالہ کے خلاف واحد سیاستدان تھے جس نے جرآت مندانہ بیان دیا۔ لیکن جب ماڈل ٹاؤن لاہور میں پنجاب پولیس اور سیاسی حکومت نے بندے مارے تھے تو مشاہداللہ خان نے اس کا الزام بھی اس وقت ایک ڈیبیٹ میں خفیہ ایجنسی پر لگایا تھا۔ سیاسی بیانات کو بطور دلیل کے پیش کرنا ہے تو پھر تاریخ میں کچھ بھی صحیح نہیں ملے گا۔ ملالہ یوسف زئی کا منہ ٹھیڑا ہے پھر بھی تحریک انصاف کی سابقہ ایم این اے گولی لگنے کے واقعہ کو جھوٹ کہہ رہی ہے جو ابھی مسلم لیگ ن میں ہے اور ساتھ میں اس وقت کے لحاظ سے خوف کی بات بھی کرتی ہے کہ بولنا نہیں چاہیے۔ سیاسی لوگوں میں کچھ عجیب قسم کی خامیاں ہوتی ہیں لیکن سب میں نہیں اچھے لوگ بھی ہیں مگر کم۔
دین و دنیا (@DeenDunya-c7p):
اس کےعلاوہ بھی بہت شواہد آچکے ہیں ان کو ہی مان لو۔
عتیق گیلانی کا دین و دنیا (@DeenDunya-c7p) کو جواب:
مجھے کسی کی وکالت کا شوق نہیں ہے۔ مفتی عبدالرحیم ایک گھٹیا قسم کا انسان رہا ہے۔ اب پتہ نہیں ہے لیکن یہ بحث بڑھتی جارہی ہے۔ اس نے کہا کہ ایک بچی کا بھی ثبوت پیش کریں تو وہ معافی مانگ لے گا اور کسی ایک بچی کا نام پیش کرنا مشکل کام نہیں ہے۔