تبصرہ
بہت افسوسناک واقعہ ہے۔ دوخواتین کا قتل پھر اس خاندان کے دوسرے لوگوں کا کیا حال ہوگا؟۔ اس واقعہ کے تناظر میں قرآن کی آیت سمجھنا بہت آسان ہے۔ البقرہ آیت 230 میں آللہ نے در اصل حلالہ کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ سابق شوہر کے اس شر اور غضب سے بچایا ہے جس میں غیرت کی بنیاد پر کسی اور شوہر سے نکاح کرنے میں رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے۔ جب اس سے پہلے دو آیات 228 اور 229 میں عدت کے اندر باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رجوع کی اجازت ہے اور اس کے بعد کی دوآیات 231 اور 232 میں عدت کے بعد بھی معروف طریقے سے اور باہمی رضا مندی سے رجوع کی اجازت ہے اور آیت 230 سے پہلے وہ صورت واضح کی گئی ہے جس میں رجوع کے امکانات کو بھی بالکل ختم کردیا گیا ہے تو کیسے اس کو حلالہ کی لعنت کا حکم قرار دے سکتے ہیں؟۔ پڑھے لکھے اور سمجھ دار طبقات حقائق کی طرف توجہ کریں۔