تبصرہ عتیق گیلانی
———-
26 ویں ترمیم سے چیف جسٹس کی جنس تبدیل ھورھی تھی جیسے خواجہ سرا کے حوالے سے بحث چلی تھی ۔
پہلے بھی قومی اسمبلی میں ھارس ٹریڈنگ سے معاملہ ڈنکی ٹریڈنگ میں اس وقت بدل گیا تھا جب محکمہ زراعت کے نام پر مسلم لیگ کے رہنماؤں کی وفاداریاں تبدیل کردی گئیں تھیں ۔ ۔ ۔
اور جیونیوز نے نوازشریف کی محبت اور عمران خان کی مخالفت میں کارٹون فلم ڈنکی راجہ کے ڈرامے کی زبردست تشہیر کی تھی !
اور جب عمران خان سیاستدانوں کو گدھے کہتا تھا اور جنرل قمر جاوید باجوہ وغیرہ اور خود کو زیبرا سمجھتا تھا اور کہتا تھا کہ لکیریں مارنے سے گدھا زیبرا نہیں بن سکتا ھے تو ھم نے بتایا تھا کہ زیبرا بھی جنگلی گدھا ھی ھوتا ھے ۔
قرآن میں اللہ نے گھوڑے خچر اور گدھے کیلئے فرمایا ھے کہ ۔ ۔ ۔
یہ سواری اور زینت کیلئے ھیں ۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے اور گھوڑے پر سواری بھی کی ھے ۔
ھم نے پہلے لکھا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین گدھے پر سواری اور سنت کے مطابق کالی پگڑی نہیں پہنتے جس کے بعد قاضی حسین احمد اور مفتی تقی عثمانی نے کالی پگڑی کی سنت پر عمل کیا ۔
میرے دوست اشرف میمن نے کہا تھا کہ موجودہ دور کا گدھا موٹر سائیکل ھے اور آپ بے تکلفی سے اس سنت پر عمل کرتے ہیں ۔
آج ڈونلڈ ٹرمپ اور شہبازشریف اور فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر جس قسم کی کرسی یا صوفے پر بیٹھ کر بات چیت کرتے ھوئے نظر آتے ھیں تو اس کی نسبت ھمارے علماء کرام و مفتیان عظام بڑے بڑے صوفوں پر بیٹھے ھوئے اس میں بونے دکھائی دیتے ھیں ۔
قرآن کی آیات پر عمل کرانے میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں ھے بلکہ ۔ ۔ ۔ سود کو جب جواز بخش دیا ھے تو پھر ان سے اور کیا توقع ھوسکتی ھے ؟
جیسے گھوڑے اور گدھے سے تیسری جنس خچر کی پیداوار آتی ھے ویسے زیبرا اور گدھی کا جنسی ملاپ ھوسکتا ھے !
۔ ۔ ۔ جس سے ایک نئی چیز پیدا ھوگی ۔
جنسی ملاپ کیلئے ضروری نہیں کہ زیبرا ساری دنیا کے سامنے تماشہ لگائے یہ عمل بند لفافے میں بند ترمیم کے ذریعے سے بھی ھوسکتا ھے ۔
جیسے کتیا کے گرم ہونے کا وقت آتا ھے تو کتوں کا ریلہ پیچھے لگتا ھے !
اس طرح ھر چیز کا اپنا موسم ھوتا ھے ۔
جب 26 ویں ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس کی جنس بڑے آپریشن سے تبدیل کی جارھی تھی تو رانا ثناء اللہ نے حافظ حمداللہ کے سامنے میڈیا پر کہا کہ 75 فیصد ھماری بات مان لی گئی ھےتو حافظ صاحب نے کہا تھا یا پھر کوئی دوسرا جمعیت علماء اسلام کا رہنما تھا کہ میڈیا پر تو ھمیں خراب مت کرو ۔
اب ایک طرف عدالت کے ججوں کی جنس تبدیل کی گئی تھی تو دوسری طرف سینیٹ اور قومی اسمبلی کی جنس بھی خود بخود تبدیل ھوگئی ۔ ۔ ۔ اور
گدھے ڈنکی راجہ سے گدھی رانی بن گئی ۔
جب 26 ویں ترمیم کے آپریشن میں گدھے کی جنس تبدیل کرکے گدھی بنادیا گیا تو اس کے بعد آرمی چیف اور کچھ دیگر عہدے کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کردی گئی ۔
احمد نورانی ۔ ۔ ۔ حافظ عاصم منیر اور فوج کا سب سے بڑا ناقد ھے لیکن اس نے بتایا کہ اس میں فوج کی خواھش نہیں بلکہ مخالفت تھی ۔
اگر آرمی چیف کی تین سال ایکسٹینشن کی جاتی تو پھر عاصم منیر اس کو ریجیکٹ کردیتے لیکن جب پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت سے 5 سال تک مدت ملازمت بڑھائی گئی تو اس پر حافظ صاحب کچھ نہیں کرسکتے تھے ۔
اب تحریک انصاف کے لوگ خاص کر شہباز گل صاحب پیچھے پڑگئے تھے کہ نومبر کی فلاں تاریخ کو آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ ھے !
وہ شہباز گل جس نے جلسہ عام میں کہا تھا کہ میری اور اعظم سواتی کی شلوار اتار کر زوم۔ ۔ ۔ کرکے تصویریں لی گئی ھیں
اور ۔ ۔ ۔
اب جم پوچھنا چاھتے ھیں کہ ۔ ۔ ۔
شلواریں پہن لیں؟
جب نواز شریف کی پارلیمنٹ ٹھنڈی بیٹھ گئی تھی تو فیلڈ مارشل کی جان پر آئی ھوئی تھی کہ کیا پتہ ھے کہ مدت ملازمت واپس لے یا برطرف کردے ! جس کا ذکر جاوید چوھدری نے اپنے آخری ولاگ میں کیا ھے ۔
رانا ثناء اللہ نے بالکل درست کہا ھے کہ ۔ ۔ ۔
یہ آئینی ترمیم ایک معمول کی بات ھے جس کو اپوزیشن اور کچھ صحافیوں نے ایشو بنادیا ۔
جب بنگلہ دیش میں پاک فوج نے تاریخی شکست کھائی تھی تو ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کی قوت کو تقسیم کرنے کی غرض سے بحریہ ، فضائیہ اور بری فوج کو الگ الگ کردیا تھا جو غلط تھا
مگر !
فوج اس قابل نہیں تھی کہ مزاحمت کرتی ۔
سب کو ایک کمانڈ کے نیچے رکھنے کیلئے ایک جوائنٹ چیف کا فضول عہدہ رکھا گیا تھا ۔ ۔ ۔ جس پر ساحر شمشاد تعینات ھیں ۔
اس آئینی ترمیم میں وہ عہدہ ختم نہیں ھوا ھے بلکہ فنکشن کردیا گیا ھے
لیکن !
بحث مباحثہ سے بچنے کیلئے اس میں تشہیر کی کوشش کو بے معنی سمجھا گیا تھا ۔
اور جب جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت حکومت میں پیپلزپارٹی کے ساتھ ن لیگ نے وزارتوں کا حلف لیا ، صرف جاوید ہاشمی نے نہیں لیا تھا ۔
اور پھر پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا اور سیٹھ وقار نے انتہائی ذلت آمیز سزا دینے کا عدالتی حکم سنایا تھا تو ۔ ۔ ۔ حافظ صاحب نے بھی اپنی عزت کو عزیز سمجھ کر حفظ ما تقدم کے طور پر صدر کی طرح آئینی تحفظ حاصل کیا ۔
مولانا فضل الرحمان کا کردار اس حد تک درست تھا کہ نوازشریف کی خواھش کو پورا کرنے کیلئے چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم کو ایکسٹینشن نہیں دی گئی تھی ۔ ۔ ۔ اور اب پیپلزپارٹی کی وجہ سے صوبائی کرپشن کو تحفظ مل گیا ۔
اور ۔ ۔ ۔
جب عمران خان کی باری آئے گی تو NFC ایوارڈ کے مسئلے کو بھی حل کردیا جائے گا ۔
قوم کو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ھے !
خلیفہ بنانے کا راستہ ھموار کیا جارہا ھے ۔
جب ۔ ۔ ۔
نوازشریف کا بس چلتا ھے تو وہ مغل بادشاہ بنتا ھے !
اور عمران خان کی چاھت تھی کہ تاحیات صدر بن جائے !
جنرل قمر باجوہ کو تاحیات اسلئے ایکسٹینشن دینے کا جھانسہ دیا تھا جس کا عمران خان نے ندیم انجم کے جواب میں انکار کی جگہ اعتراف بھی کرلیا کہ ۔ ۔ ۔
دوسروں نے پیشکش کی تھی تو میں نے بھی کردی ۔
صدام حسین اور کرنل قذافی بھی فوجی تھے ملک آئین سے چلتے تو 1947 میں پاکستان بنا اور 1973 میں پھر آئین بنادیا گیا اس سے پہلے بھی آئین تھا مگر ملک ٹوٹ گیا ۔
1973 کے بعد بھٹو نے کس آئین پر عمل کیا ؟
سارے اپوزیشن رھنماؤں جو کہ حیدر آباد جیل میں بغاوت کے مقدمہ میں پھانسی دینے کا معاملہ چل رہا تھا ۔ ۔ ۔
تو جنرل ضیاء الحق مسیحا بن گیا ۔
سیاستدانوں اور صحافیوں کو شعور اور سچ عام کرنے کی ضرورت ھے ۔
27th Amendment Draft Controversy – Hafiz Hamdullah – Crossing Lines With Yasir Rashid | EP47
جنوری 11, 2026
تبصرہ