تبصرہ عتیق گیلانی
———–
محترم احمد جاوید صاحب !
آپ کا سوال بہت ھی معقول ھے ۔ ۔ ۔ اور وجہ بھی واضح ھے کہ ۔ ۔ ۔
پشاور اسکول کے ساتھ آرمی کا لفظ لگا ھوا تھا ! اور اس سے پہلے جتنی قتل وغارت گری تحریک طالبان پاکستان نے کی تھی تو کوئی سوال نہیں تھا !
اور ۔ ۔ ۔ ۔
یہ بھی بتاؤں کہ ۔ ۔ ۔
2007ء میں مولانا فضل الرحمان ایک تو اپوزیشن لیڈر تھے جس کو عمران خان اور نوازشریف دونوں کی حمایت بھی حاصل تھی ۔
اور دوسری پختونخواہ کی حکومت بھی متحدہ مجلس عمل کی تھی ۔ ۔ ۔ گویا ۔ ۔ ۔
وہ تمام مکاتب فکر کے اتحاد کی قیادت بھی کررھے تھے ۔
اور ۔ ۔ ۔
اس وقت تحریک طالبان کے کچھ لوگوں نے مغالطے سے ھمارے اوپر حملہ کرکے 13 افراد شہید کر دیئے تھے ، جس کی اس وقت کے طالبان کے مختلف گروھوں نے بھی شدید مخالفت کی تھی اور جس گروپ کے افراد نے یہ قتل کیا تھا تواس نے کہا تھا کہ ۔ ۔ ۔ اسرائیل کے یہودی فلسطین میں بھی اس طرح کے مظالم نہیں کرتے ۔ ۔ ۔ اور فضا طالبان کی سخت خلاف بن گئی تھی ۔
اور ۔ ۔ ۔ مولانا فضل الرحمان نے مسجد میں جمعہ کی تقریر کرتے ھوئے ابن ماجہ شریف کی حدیث پڑھ لی کہ ۔ ۔ ۔
خراسان سے دجال کا لشکر آئے گا ، اس کی یہ نشانیاں ھوں گی اور ۔ ۔ ۔ طالبان کو دجال کا لشکر قرار دیا ۔
لیکن ! کسی بھی اخبار اور ٹی وی چینل پر مولانا فضل الرحمان کے بیان کو شائع نہیں کیا گیا تھا ۔
آج جنہیں خوارج کہا جاتا ھے کل کچھ پتہ نہیں کہ ۔ ۔ ۔ پختونخواہ کی حکومت دے دی جائے ۔
فتوے کا مسئلہ نہیں !
ریاست کی پالیسی پہلی بار واضح ھوئی ھے ۔ ۔ ۔
لیکن !
طاقت کے مقابلے میں طاقت کیوں ناکام ھے؟
آپ نے بھی تازہ بیان میں کھل کر اظہار کردیا ھے ۔
A Question to the Scholars | علما سے ایک سوال | Ahmad Javaid
جنوری 8, 2026
تبصرہ