شہریار وڑائچ صاحب! آپ نے جس موضوع پر بات کی ہے اس میں تاریخ اور فرقہ واریت کی تلخ یادیں ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ سیاست اور فرقہ پرستی میں تاریخ کو کیسے لکھا گیا ہوگا؟ میری نظر میں دو باتیں ہیں ایک شرعی معاملہ دوسرا تاریخی اور اخلاقی۔ آج کسی عورت کا شوہر جب فوت ہوجاتا ہے اور اس کا چھوٹا سا مکان رہ جاتا ہے پھر اس کی بیوہ اور بیٹے مشکل سے اس میں رہتے ہیں اور داماد بھی عدالت میں پہنچ جاتے ہیں کہ مکان میں ہمیں اپنا حصہ چاہیے۔ ایک اس بات پر حکومت عمل درآمد کراتی ہے اور دوسرا جب شوہر عورت کو 3طلاق دیتے ہیں تو حلالہ کی لعنت پر عمل ہوتا ہے۔ خیر اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ حضرت عائشہ صدیقہ اپنے حجرے کی اکیلی مالک تھیں حضرت ابوبکر وعمر بھی ان کی اجازت سے مدفون تھے۔ إمام حسن کو اجازت دی تھی لیکن إمام حسن نے کہا تھا کہ جب میں فوت ہوجاؤں تو پھر بھی اجازت لے لینا ہوسکتا ہے کہ دل سے اجازت نہیں دی ہو تکلف کیا ہو۔ اسلئے کہ ایک ہی قبر کی جگہ تھی اور حضرت عائشہ صدیقہ خود بھی وہاں دفن ہونے کی وصیت کرسکتی تھیں۔ لیکن حضرت عائشہ صدیقہ نے پھر بھی اجازت دیدی تھی۔ اگر مروان خبیث نے کوئی غلط حرکت کی تھی تو جس طرح حکمران اپنی طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں تو ممکن ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے فساد کو رکوانے کیلئے بات کی ہو۔ قرآن ازواج مطہرات کو مومنون کی مائیں کہتا ہے۔ شیعہ خود کے علاوہ دوسروں کو مومن بھی نہیں مانتے اور قرآن کے اندر مذکور مومنوں کی ماؤں کو بھی نہیں مانتے اگر امت اعتدال پر آجائے تو بہتر ہوگا۔
@rungrez8557 شہریار وڑائچ کے کمنٹس کا جواب:
وڑائچ صاحب! آپ واقعی فرقہ پرست نہیں ہیں۔ آج اگر ایک ایک دن کی تاریخ کا جائزہ لینے کی زحمت کریں تو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ن لیگی اور انصافی صحافت میں بھی بقول سہیل وڑائچ کے کھلا تضاد ملے گا۔ تاریخ کو بھی دوطرح کے تاریخ دانوں نے ہی مرتب کیا ہے تاریخ سے زیادہ احادیث ان کی صحت اور مسند راویوں کے ذریعے مرتب ہوئی ہے صحیح بخاری میں یہ بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی 13 سال تبلیغ میں بسر ہوئی ہے اور یہ بھی ہے کہ 10 سال مکہ میں تبلیغ کے بعد ہجرت فرمائی ہے۔ بعض لوگوں کو نوادرات کا شوق ہوتا ہے۔ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کے حوالے سے قرآن احادیث اور تاریخ کا درست تجزیہ کریں تو حقائق بالکل مختلف ہیں۔ بخاری کے جس راوی ہشام بن عروہ نے روایت ذکر کی ہے اس کا انتقال 146 ہجری میں ہوا تھا جب بنوامیہ کے اقتدار کا خاتمہ 132ھ میں ہوا تو ہشام نے خلیفہ سے یہ مطالبہ کیا کہ مجھ پر 10 لاکھ کا قرضہ ہے مجھے دیں۔ خلیفہ نے کہا کہ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں دے سکتا ہوں۔ یہ ایک حکمران عبداللہ بن زبیر کے پوتے اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کے پڑپوتے تھے جو بڑے تاجر تھے لیکن پھر ذریعہ معاش روایات بیان کرنا بن گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، خلافت راشدہ، صحابہ کرام، تابعین عظام میں سےایک سو بیس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ 6 سال کی عمر میں نکاح اور 9 سال کی عمر میں رخصتی ہوئی تھی۔ آج جاوید احمد غامدی اور اس کے داماد نے نئی دکان کھول دی ہے۔ مسئلہ طلاق پر کوئی سنے گا تو کہے گا کہ یہ حضرت عمرفاروق اور حضرت علی سے بھی بڑا مجتہد ہے لیکن اس کی نالائقی اس میں روز روشن کی طرح عیاں ہیں اس نے اپنی بیٹی اور داماد کیلئے دکان چھوڑ نے کا فیصلہ کیا اسلئے بہت محنت شاقہ کررہے ہیں۔