تبصرہ عتیق گیلانی
———
کامران یوسف صاحب !
آپ کے تجزیہ میں دلیل اور منطق بھی ہوتی ھے اور مفاھمت کی آخری حد تک کوشش بھی اور اپنے خیال کا اظہار بھی جس میں یہ کنفرم ھے کہ آپ اپنے طور پر کہتے ھیں کوئی لکھ کر آپ کو کچھ نہیں دیتا ۔ ۔ ۔ اور یہ بہت اچھی بات ھے ۔
ایک طرف اس خطے میں تعصبات کو ھوا دی جارھی ھے اور دوسرے بہت سنجیدہ قسم کے مسائل ھیں ۔ ۔ ۔ جس کا پاکستان کو سامنا ھے !
کچھ اھم نکات ذھن نشین بلکہ دل نشیں کرلیں۔
نمبر 1 ۔
ایک پاکستان اور افغانستان کے حکمران ھیں اور دوسرے عوام الناس دونوں کے معاملات کو سامنے رکھیں اگر ایک ایسا ماحول بنتا ھے کہ جب افغانستان کے عوام اور حکمران کو ایک طرف ھی دھکیل دیا جائے تو کیا پاکستان کی عوام اور فوج کا ایک جگہ پر اکٹھا رکھنا ضروری نہیں ھوگا ؟
اور اس کیلئے کیا چند افراد کی بک بک کرنا کافی ھے؟ خواجہ آصف کوئی معقول انسان نہیں ھے ۔ ۔ ۔ ۔ جب حامد میر نے برما کے مسلمانوں کو میانمار سے نکالنے کیلئے ن لیگی وزیر خواجہ آصف کے سامنے ان مسلمانوں کی مشکلات سامنے رکھی تھیں تو خواجہ آصف نے کہا کہ ۔ ۔ ۔ پاکستان کے جہاز ان کو لانے کیلئے تیار ھیں بس ھمیں صرف اجازت ملنی چاھیے ۔ ۔ ۔ اگر کسی اور پارٹی یا پیپلزپارٹی کا کوئی رھنما یہ حماقت کرتا تو جیونیوز نے تشہیر کرنی تھی۔ خواجہ آصف کا یہ خلوص تھا لیکن بہت بڑی کم عقلی بھی تھی۔
جب روس افغانستان سے نکلا تھا تو ولی خان نے روس کو امن کا ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تھا کہ افغانستان چھوڑ کر بہت اچھا کیا ھے ۔ ۔ ۔
جب امریکہ گیا تو خواجہ آصف نے ٹویٹ کی تھی کہ طاقتیں تمہاری ھیں اور خدا ھمارا ھے ۔
خواجہ آصف ولی خان سے زیادہ مخلص ھوگا مگر عقل کو دیکھیں ۔ ۔ ۔ جب تورا بورا کے پہاڑوں پر اسامہ بن لادن کی وجہ سے امریکہ نے بمباری کی تھی تو اسامہ بن لادن ایبٹ آباد سے برآمد ھوا تھا اور تورا بورا پر بمباری سے اسامہ بن لادن کی برآمدگی تک مسلم لیگ ن کے رہنما طالبان کے ساتھ امریکہ کے خلاف کھڑے تھے اور ۔ ۔ ۔ جنرل پرویز مشرف ، مولانا فضل الرحمان ۔ ۔ ۔ اے این پی اور پیپلزپارٹی کو امریکہ کا ایجنٹ سمجھتے تھے اور کہتے تھے جنگوں میں طاقت کا توازن برابر نہیں ھو تو ھار جیت ھوتی ھے ۔
کربلا میں یزید کی فوج نے ظلم کی تاریخ رقم کی تو کیا یہ یزید کا کمال تھا؟
جب فتح مکہ میں یزید کے اجداد نے سرنڈر کیا تو اس پر طعنہ بنتا تھا مگر نہیں دیا تھا !
جب غزوہ حنین میں زیادہ تعداد کے باوجود صحابہ کرام پیچھے ھٹے تو اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نبی ھوں جھوٹا نہیں اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ھوں ۔
امریکہ نے افغانستان اور عراق میں مظالم کئے تو کیا خواجہ آصف اپنے سینے یا چوتڑ پر ھاتھ مارکر فخر کرنے کا حق رکھتا ھے؟
عثمان ڈار نے تحریک انصاف چھوڑ دی اور اس کی ماں ریحانہ ڈار کے گھر میں جس طرح کی توڑ پھوڑ ھوئی ۔ ۔ ۔ خواتین سے بد سلوکی ھوئی تو کیا خواجہ آصف کو فخر ھے؟
پاکستان کی عوام نے گھاس نہیں کھائی ھے !
اسلئے خواجہ آصف اور عطا تارڑ کو تحریک انصاف تک محدود رکھنا چاہیے اور بولنے کی ضرورت نہیں۔
نمبر 2 ۔
پاکستان کے سوشل میڈیا پر پیش گوئی کے ماھرین یہ حدیث سناتے ھیں کہ ۔ ۔ ۔
خراب السندھ من الہند و خراب الہند من الصین
پاکستان کی تباھی ھندوستان کے ھاتھوں سے ھوگی اور ھندوستان کی تباھی چین کے ھاتھوں سے ھوگی ۔
ایسا نہیں ھو کہ ایک طرف چین ھندوستان کے ھاتھوں پاکستان کی تباھی ھونے دیں جس کو خدشہ ھوسکتا ھے کہ امریکہ کی ضرورت سے زیادہ پاکستان جوتے کی پالش میں لگا ھے اور پھر ھندوستان کو بعد میں تباہ کردے ۔ ۔ ۔ اور اس خطے میں تباھی و بربادی آئے ۔
افغانستان اور پاکستان دونوں حکمرانوں کے پاس عوام کا مینڈیٹ نہیں ھے اسلئے شاید مشکلات بہت بڑھ جائیں۔
کہتے ھیں کہ ایک بلا دوسری بلا سے کہہ رھی تھی کہ ۔ ۔ ۔
بلا : پنجاب کے لوگ بہت ھی اچھے ھیں لیکن خواجہ آصف اور عمران خان اور دیگر سیاسی رھنما اور صحافیوں کی اکثریت اپنے مفادات کیلئے فوج کی کبھی تعریف کرتے ھیں اور کبھی ان پر بھونکتے ھیں جس کی وجہ سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ھے اور عوام میں اعتماد کھو چکے ھیں ۔
بک بک سے کیا ہوگا ؟
نمبر 3 ۔
افغانستان اور پاکستان دونوں میں مختلف زبانوں کے لوگ ھیں جب لسانی تعصبات کو ھوا ملے گی تو دونوں ممالک کیلئے اندر سے مسائل پیدا ھوں گے افغان صحافی سمیع یوسفزئی نے فرزانہ علی سے پروگرام میں کہا تھا کہ اسرائیل بھی طالبان کو افغانستان سے ھٹادے گا تو افغان عوام خوش ھوں گے ۔ ۔ ۔ لیکن تعصبات کو ھوا دینے سے معاملات کو خراب کیا جارھا ھے ۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستان نے امریکہ کا افغانستان کے خلاف مجبوری میں ساتھ دیا تھا ۔ ۔ ۔ لیکن
ایک طرف کہیں کہ افغان طالبان کی پشت پر ھم کھڑے تھے اسلئے امریکہ نے شکست کھائی ۔ ۔ ۔اور
دوسری طرف کہیں کہ ھم امریکہ کے ساتھ کھڑے تھے ۔ ۔ ۔ اور
تیسری طرف کہا جائے کہ امریکہ کو ہم نے شکست دی؟۔۔۔۔۔
BREAKING: Next 48-hour crucial | Pakistan threatens Taliban
اکتوبر 31, 2025
تبصرہ