محترمہ آپ کے جذبات کو سلام ہے۔ مجھے بہت عزت اور احترام کے ساتھ یہ گزارش کرنی ہے کہ صدیوں سے جن اہل سنت میں یہ احساس تک نہیں ہے کہ کیا اسلام ہماری عزتوں کو بچانے کیلئے آیا تھا یا حلالہ کی لعنت کے نام پر عزتوں کی دھجیاں بکھیرنے کیلئے نازل ہوا ہے؟۔ میاں بیوی کے تعلق کو توڑنے کیلئے آیا ہے یا جوڑنے کیلئے؟۔ پھر کیوں اپنی عزتوں کے لٹوانے اور گھروں کے برباد کرنے کا احساس نہیں ہے؟۔ جس چیز کی وجہ سے لوگ اسلام کے درست تصور کی طرف آسکتے ہیں اس کی طرف دعوت دیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت فرمائی صحابہ کرام نے گھروں کو چھوڑ دیا اور خلافت کی مسند پر یزید بنوامیہ بنوعباس اور خلافت عثمانیہ نے قبضہ کیا۔ آپ کو سیلاب زدگان کے حالات نظر نہیں آتے؟۔ ایک ہی رٹ لگائی ہوئی ہے جس کے پیچھے امہات المؤمنين کو بھی برا بھلا کہا جاتا ہے۔ کیا کسی کی گھر والیوں کی عزت پر حملہ کرنا باغ فدک سے بڑا مسئلہ نہیں ہے؟۔ آپ بتائیے کہ جائیداد بڑی چیز ہے یا عزت پر حملہ؟۔ میں مان لیتا ہوں کہ باغ فدک کے علاوہ حضرت علی خلافت کے لیے زیادہ موزوں شخصیت تھے۔ امیرمعاویہ سے زیادہ حضرت حسن تھے لیکن حضرت علی اور حضرات حسنین کا رویہ کیسا تھا؟ جب پورے کا پورا اسلام واقعی ناکام ہوا ہے تو اہل تشیع کی طرح رجعت یا ہندو کی طرح دوسرے جنم کا انتظار کرنا چاہئے۔
اگر ایک ہزار سال سے زیادہ إمام مہدی غائب نے غیبت میں گزار دئیے تو 25 سال تین خلفاء کے زمانے کو بھی برداشت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
فرقوں کا اختلاف ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہے اور اگر آپ اگلے محرم میں ماتم کرتے ہوئے اپنے چہرے کو زخموں سے چور چور کرتی نظر آؤ تو یقیناً افسوس ہوگا لیکن
اگر حسین کیلئے اپنی ناک اور اپنے کان کاٹنے کا بھی کوئی رواج شروع ہوجائے تو ہندو عورتیں اپنے شوہروں کے پیچھے خود کو ستی کرتے ہوئے جلا دیتی تھیں اور حسین کی محبت شوہروں سے زیادہ ہونی چاہئے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ سے پہلے احرام باندھا اور پھر بیعت الرضوان جہاد حضرت عثمان کا بدلہ لینے کیلئے کرنا پڑا تھا تو پھر بعد میں وہ حالات بھی لوگوں نے دیکھے کہ مسند خلافت پر شہید کردیا گیا۔ جیسے عمرے کے خواب کی تعبیر میں مغالطہ ہوا تھا اور بعد میں اس کی تکمیل ہوگئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اکابر صحابہ کرام سب شامل تھے اسی طرح ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا ہو کہ باغ فدک آپ کی ملکیت ہے اسلئے کہ ازواج مطہرات کے بعد اس کا کوئی دوسرا وارث نہیں تھا۔ اہل بیت کو اس کی وراثت ملنی تھی جو حضرت فاطمہ کی اولاد تھے۔ لیکن جب تک ازواج مطہرات حیات تھیں تو ان کے مصارف اسی سے پورے ہونے تھے اور حضرت عمرفاروق نے حضرت علی اور حضرت عباس کے حوالے ان مصارف کو کیا تھا۔ اب حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ اہل تشیع کی ضد میں حضرت علی اور حضرات حسنین پر بھی جاوید غامدی اور اس کے شاگردوں کے علاوہ کافی لوگوں نے انگلیاں اٹھانے کا آغاز کردیا ہے۔ شیعہ ذاکرین اپنی عوام سے داد اور مال وصول کرنے کے چکر میں منافرت کو ہوا دے رہے ہیں جس کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے۔