محترمہ آپ کے جذبات اور احساسات کا بہت بڑا احترام اور آللہ انجینئر محمد علی مرزا کو جلد از جلد رہا کردے اور میں ذاتی طور پر مرزا صاحب سے ملاقات کرنے آیا ہوں۔ میں اس کی نیت پر بھی شک نہیں کرتا اور کچھ معاملات میں ان کی افادیت بھی سمجھتا ہوں لیکن جب کسی اور کے لئے ماحول کو خراب کروگے تو لوگ بھی نفرت رکھیں گے۔ انجینئر محمد علی مرزا انتہائی احمق انسان ہے۔ اگر حماقت میں اس سے کچھ غلط ہوا ہے یا پھر بہت ہی زیادہ غلط ہوا ہے تو میری دانست میں درگزر کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جن غلط چیزوں کو اپنے سننے والوں کے دماغ میں ڈالا گیا وہ خود ہی اس کو نکال سکتا ہے۔ یہ اس کی بہت بڑی حماقت اور گدھا پن تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو دجال اور قادیانیوں کو کافر کہتا تھا۔ اور ساتھ میں دیوبندی اور بریلوی لوگوں کو بھی اسی صف میں شامل کرتا تھا اور دوسری طرف کہتا تھا کہ میں سب کو مسلمان سمجھتا ہوں۔ جب ایک طرف سب کو ایک صف میں شامل سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ میں نے ختم نبوت کا اصل دفاع کیا ہے اور باقی صرف ایک فرقہ کے خلاف ہیں تو پھر ایک کو کافر اور دوسرے کو مسلمان سمجھنا اور قرار دینے کا کریڈٹ لینا کس قدر بڑی حماقت اور گدھا پن ہے۔ اگر آپ کو ملاقات کا موقع مل جائے تو میرا یہ مسیج ضرور پہنچادو۔ مجھے بالمشافہ ملاقات میں اس نے بات کرنے نہیں دی ورنہ بہت کچھ وہ بدل جاتا اور لوگوں اور علماء کرام میں بھی مثبت تبدیلی کا باعث بنتا۔
جس طرح ایک انجینئر اس بات کو سمجھتا ہے کہ جس مولوی نے جدید تعلیم حاصل نہیں کی ہو تو وہ معاملات کو ٹھیک طرح سے نہیں سمجھتا ہے اسی طرح انجینئر محمد علی مرزا قرآن اور احادیث کی الف ب بھی نہیں سمجھتا ہے اگر سمجھتا تو مجھے ان کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ میں یہی چیز سمجھانے جارہا تھا۔ ایک دن سید بلال قطب نے سسر سے بہو کی شادی کو جائز قرار دینے والے مولانا جميل آزاد سے مسئلہ پوچھا اور شکر ہے بعد میں جاہل نے رجوع کرلیا۔ اسی طرح انجینئر محمد علی مرزا نے بھتیجی کی بیٹی سے نکاح کو جائز قرار دیا اور پھر بعد میں رجوع کرلیا۔ ان جاہلوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی جہالت کی وجہ سے قرآن وسنت تو بڑی بات ہے انسانی فطرت کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ چونکہ تمہارے نزدیک علماء کرام کے مقابلے میں اصل علم اسی کے پاس ہے تو سمجھانا پتہ نہیں فائدہ دے گا یا نہیں۔ لیکن اس بات کو یاد رکھیں کہ جب عقیدت ہوتی ہے تو پھر بت میں بھی سب کچھ نظر آتا ہے۔ پنجاب پر سکھوں نے پختون خواہ سمیت حکومت کی اور مظالم بھی کئے انگریزوں سے گٹھ جوڑ بھی کیا اور الگ دین بھی ایجاد کرلیا جس کے الہامی ہونے کا دعوٰی بھی ہے اور مسلمان اور ہندو دونوں کو غلط بھی سمجھتے ہیں لیکن اس کے باوجود مسلمان اس کو دجال نہیں کہتے نفرت نہیں رکھتے اور کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگاتے لیکن مرزائیوں کے خلاف نفرت کیوں ہے؟ اسلئے کہ مرزائیوں نے اپنے نہ ماننے والوں کو دل کھول کر گالیاں دی ہیں جو کسی شریف انسان کا کام نہیں ہوسکتا ہے۔ پھر جب پاکستان میں ان پر سختی کی گئی تو پوری دنیا میں پھیل گئے اور مزید خوش حال ہوگئے۔ عیسائیوں کے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے زیادہ احترام ہے جتنا سکھوں کے بابا گروہ نانک کا مسلمانوں کے دلوں میں ہے اور قرآن میں اس کی وضاحت ہے۔ یہود ان کی مقدس شخصیات کی جو توہین کرتے تھے تو قرآن نے ان کو بہت احترام دیا اور کتاب 100 بڑے لوگ کے عیسائی مصنف نے اپنے پیغمبر حضرت عیسی علیہ السلام پر ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ترجیح دی اور مرزا محمد علی کہتا ہے کہ دو ارب عیسائی ۔۔۔۔۔۔۔سمجھتے ہیں؟ یعنی ڈیڑھ ارب مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کو دجال سمجھتے ہیں تو جیسے بریلوی دیوبندی بھی قادیانیوں کے صف میں کھڑے کردیئے اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک بڑی فیگر سے حساب برابر کردیا؟ مجھے اس کی اس حماقت اور گدھا پن پر رحم آتا ہے۔ کاش اپنی حماقت کو سمجھ جائے اور توبہ کرلے۔ ابھی تک تو علماء اور عوام اس کی حماقتوں سے آگاہ نہیں ورنہ جن کی ہمدردی ہے وہ بھی ختم ہوجائے۔