معاذ خان اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ! یہ واقعہ بہت افسوسناک ہے اور آپ نے بہت اچھے لہجے میں بات کی ہے علماء نے مظاہرین کے ساتھ ظلم اور ظالموں کے خلاف آواز اٹھائی چند دن پہلے کوئٹہ کے قریب کچلاک میں ایک کراچی سے آئے ہوئے مہمان پرنسپل کو معافی مانگنے اور 10 ہزار جرمانہ ادا کرنے کے باوجود طالب علم کے ماموں نے قتل کردیا تھا سوات کے نرم خو اور مہذب لوگوں کی شرافت کا اس معلون مولوی نے غلط فائدہ اٹھایا اور مدارس کے خلاف جس طرح کی اور جس زبان میں مہم جوئی شروع ہوئی ان کا بھی استحقاق تھا کہ اپنے اپنے مزاج کے مطابق نفرت کرتے اور اس انتہائی بے دردی سے شہید کئے جانے والے بچے کے باپ نے بتایا کہ وہ فیس ادا کرتا تھا اور اس کی شرافت پر قربان ہوجاوں جس نے کہا کہ شکر ہے کہ میرے بچے کی قربانی سے باقی بچے بچ گئے اور اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ گومل یونیورسٹی بہاولپور اور پشاور یونیورسٹی سے لیکر تھانوں اور عدالتوں تک میں بھی بہت کچھ ہوتا ہے اور سوات کے علماء کو سلام ہے جو اپنے پیٹی بند بھائیوں کے ساتھ نہیں اور خاموش بھی نہیں بلکہ کھل کر مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ سوات کے پختون قوم کی شرافت ہی کا کمال ہے جس بچے کو بیڑیاں پہنائی گئی تھیں تو ایسے بچوں کو لینا غلط ہے جس کو باندھنا پڑے اور اب جو بھی الزام تراشی کرے تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن سارے بچوں کو بدنام کرنا بھی ٹھیک نہیں ہے جب افغانستان سے شروع کے اندر طالبان بھاگ کر آئے تھے تو سوات کے لوگ صوفی محمد اور وزیرستان کے لوگ مولانا معراج الدین کی قیادت میں افغانستان جہاد کیلئے گئے تھے البتہ مولانا معراج الدین لشکر سمیت واپس آگئے تھے اور صوفی محمد لشکر چھوڑ کر واپس آگئے تھے اور وزیرستان کے وزیروں نے ازبک طالبان کو رشتے تک دے دیئے تھے اور کہتے تھے کہ صحابہ کرام کی طرح لگتے ہیں لیکن جب ان سے معاملات بگڑ گئے اور ازبک نے محسود علاقے میں پناہ لے لی تو وزیر لوگ کہتے تھے کہ بیٹی اور بہن ایک ازبک کو دی تھی اور اس پر 8،8 اور10، 10 چڑھتے تھے حالانکہ پہلے بھی جھوٹ بولتے تھے اور بعد میں بھی اور کچھ نہیں تو محسود قوم کا خیال رکھتے جنہوں نے پناہ دی تھی وزیروں نے خوشی کیساتھ رشتے دیئے تھے اور محسود قوم نے رشتے تو نہیں دیئے لیکن یہ مشہور کردیا کہ زبردستی سے یاریاں بنائی ہیں اب اس کاعوام پر کیا اثر پڑے گا؟ منظور پشتین نے قومی عدالت کے موقع پر کہا کہ بتا نہیں سکتا ہوں اللہ سب کی عزت رکھے
Farhan Khan, 14, Tortur€d to De*th at a Madrassa in Swat — What Now?
اگست 15, 2025
تبصرہ