میجر گواریہ صاحب ! سلام آداب نمستے۔ امید ہے کہ خیریت سے ہوں گے۔ اللہ خوش رکھے آپ نے ایک عرصہ سے تقریروں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ فوجی کا کام تقریریں نہیں کردار ہوتا ہے۔ ایک آدمی اچھا خطیب ہوگا یا اچھا جنگجو دونوں کی دونوں چیزیں ایک ساتھ مشکل ہوجاتی ہیں۔ تمہارا نریندر مودی فوجی نہیں لیکن اچھا مقرر ہے۔ اب مقرر جنگ کی بات کرے گا تو سندور جنگ کے جاری رکھنے کا اعلان بھی کرتا رہے گا اور جنگ بھی نہیں ہوگی۔ ہمارے حافظ صاحب نے جنگ بھی بند کردی اور فیلڈ مارشل کے تمغے بھی لگ گئے اور کوئی تقریر بھی نہیں کی۔ اگر مودی صاحب سے کہتے کہ سندور کی ڈیڈ لائن دیں تو بھی عزت رہتی۔ ایک بھارتی دفاعی تجزیہ نگار نے پاکستان کی کامیابی کا ذکر بہت اچھے انداز میں کیا ہے۔ وہ ایک کوالٹی اور معیار کی شخصیت لگتے ہیں۔ میجر عدنان شہید نے اپنے سپاہی پر جان دیدی اس کے بیٹے کا جملہ سوشل میڈیا پر دیکھ لو۔
میں مسلمانوں اور ہندو میں محبت اتحاد اور حسن سلوک کا قائل ہوں۔ ہمیں لڑا کر ٹینشن میں رکھا گیا ہے لیکن کچھ ہمیں خود بھی جہالت کے جذبات ابھارتے ہیں۔ آپ کو بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہے لیکن مقصد کو نہیں سمجھتے۔ آپ جتنی بھی بات کریں لیکن سیندور کے جاری رکھنے کی پریشانی کا حل نہیں نکال سکتے۔ مسلمانوں کے نزدیک ایک وہ دفعہ ہی میں دنیا کی آمد کے بعد پھر دوبارہ نہیں آتا، لیکن پھر بھی نیٹو کو شکست دے دی اور خودکش حملوں کی بوچھاڑ کردی۔ ہندو سمجھتا ہے کہ کئی جنم ہیں لیکن مرنے سے پہلے سزا کھانے کا عقیدہ رکھتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جب دوستیاں بڑھ جائیں تو دونوں کا فائدہ ہے۔ پاکستان کے ذریعے بائی روڈ یورپ جاؤ گے تو ساری تلخیاں بھول جاؤ گے۔ ہار جیت جنگ کا حصہ ہوتا ہے پہلے آپ ہی جیتتے رہیے ہیں اگر ایک بار چھوٹے بھائی کو جتوادیا تو مسئلہ نہیں۔
آپ نے پہلے بھی مارنے کا بولا اور پھر ابھی تک تمہارا لہجہ بتارہا ہے کہ ابھی تک سیندور کے زخم نہیں بھولے۔ مجھے افسوس ہے کہ حافظ تیمور لنگ نے ہندوستان میں بہت قتل عام کیا تھا حالانکہ ہندو لوگوں کا کوئی قصور نہیں تھا مگر حافظ صاحب نے جہالت سے ثواب سمجھ کر بہت غلط کیا۔ اب تمہارے ہاں تعصبات کو ابھارا جارہا ہے جس کے نتائج اچھے نہیں نکل سکتے۔ آرمی چیف سے کہیں کہ 20 اور بیان دے دیں کیونکہ مودی بے چارے کا گلا بیٹھ چکاہے لیکن ہمیں امن تجارت خوش حالی کی بات کرنا چاہیے۔ ورنہ پھر حافظ جی چھوڑیں گے نہیں۔