احمد جاوید صاحب ! آپ کا اپنا ایک مزاج ہے اور بہت اچھا ہے اور اس تک پہنچنے کےلئے بہت وقت درکار ہوگا۔ آج کل زیادہ تر لوگ اتنی بات سمجھنے کیلئے زیادہ فرصت بھی نہیں پاتے آپ نے جس شائستگی کے ساتھ اصل مسیج دیا ہے وہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اجتہاد اور تقلید کا مسئلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے اور ایک عرصہ سے تقلید کے نام پر لوگ چار إمام کو جانتے ہیں۔ اب غامدی صاحب نے مسئلہ طلاق پر اس حوالے سے بہت لمبی گفتگو کی ہے جس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ مسئلہ طلاق پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اجتہاد کیا ہے۔ جب حضرت عمر نے خبردی کہ عبداللہ نے حیض کی حالت میں طلاق دی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق کا طریقہ سمجھایا کہ طہر میں اپنے پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے پھر طہر اور حیض آئے اور پھر طہر آئے تو چاہو تو طلاق دیدو اور چاہو تو رخصت کردو یہی وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طرح طلاق کا حکم دیا ہے۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق کو منعقد نہیں کیا۔
اگر غامدی صاحب ان حضرات کا حوالہ دیتے تو اچھا ہوتا اور ان لوگوں کی بات میں تھوڑا وزن بھی ہے کہ جیسے حج رمضان کے روزے اور نماز اپنے وقت سے پہلے پڑھی جائے تو ادا نہیں ہوتی لیکن غامدی صاحب دوسروں کی بات نقل کرکے اپنے اجتہاد پر آنچ شاید نہیں آنے دینا چاہتے ۔
پھر غامدی صاحب نے اس کو مقدمہ اور قضیہ قرار دیا ہے حالانکہ قضیہ اور مقدمہ ہوتا تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اجتہاد کرکے رجوع کا حکم اسلئے نہیں دیتے کہ قرآن نے واضح کیا ہے کہ صلح واصلاح اور معروف اور باہمی رضا مندی کے بغیر شوہر رجوع نہیں کرسکتا ہے۔ یہ نہ تو قضیہ تھا اور نہ ہی مسئلہ بلکہ ایک وقوعہ تھا جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں تھا کہ عورت طلاق پر خفا ہے۔ محمود بن لبید کی روایت میں أشخاص کے نام نہیں لیکن دیگر روایات میں واضح ہے کہ یہی واقعہ تھا جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہوکر اٹھ گئے اور حضرت عمرفاروق نے پیش کش کردی کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں اور صحیح مسلم میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اکٹھی تین طلاق دی تھی اصل معاملہ یہی تھا کہ عورت طلاق پر پریشان تھی اور اللہ نے عدت اور عدت کے خاتمے پر بھی رجوع کی اجازت دی ہے بلکہ بار بار ترغیب دی ہے۔ اس کو اجتہادی معاملہ بنانا بدنیتی ہے یا حماقت؟ یہ آپ پوچھ لیجئے گا۔
دوسری حدیث میں رکانہ بن عبد یزید کا حوالہ دیا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کردیا کہ پریشان ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا نیت کیا تھی اس نے کہا کہ ایک طلاق کی پھر قسم دی تو اس نے قسم کھائی جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طلاق کا فیصلہ کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ طلاق کی آیات پڑھ لی کہ اے نبی جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو عدت کیلئے دو اور مرحلہ وار دو۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس آیت میں ہے کہ اگر ایک طلاق کی نیت سے تین طلاق دی تو ایک ہوجائے گی۔ اگر حکم مرحلہ وار طلاق کا دیا اور اس کی خلاف ورزی ہوگئی تو کیا زنا کرنے سے اللہ نے منع کیا تو کرنے سے ہوگا یا نہیں؟
حالانکہ رکانہ کے والد نے رکانہ کی والدہ کو تین طلاق سورہ طلاق کے مطابق مرحلہ وار دی تھیں پھر اس نے دوسری عورت سے شادی کی اور جب اس عورت نے نامرد کا الزام لگایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا فرمایا کہ اس کے بچے اس سے کتنے مشابہ ہیں اور اس عورت کو طلاق کا حکم دیا اور پھر فرمایا کہ رکانہ کی ماں سے رجوع کیوں نہیں کرلیتے؟۔ انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور سورہ طلاق کی پہلی دو آیات تلاوت فرمائیں۔ قرآن اور حدیث کا ایسا جوڑ ہے کہ منکر حدیث بھی قائل ہوجائے اور لگتا یہ ہے کہ خدشہ تھا کہ رکانہ کی والدہ رجوع سے ناراض ہوکر انکار نہیں کردے کہ دوسری نے مسترد کیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمت عملی سے صلح کی راہ ہموار فرما دی۔
اب آئمہ مجتہدین کا حال دیکھ لیں کہ اکٹھی تین طلاق صرف واقع کرنے کیلئے مسلک حنفی اور مالکی کے نزدیک ایک ہی حدیث ہے جس میں محمود بن لبید نے شخصیات کا ذکر نہیں کیا اور امام شافعی نے اس کو مسترد کیا کہ محمود بن لبید سے سماع ثابت نہیں اور عویمر عجلانی کے واقعہ میں لعان کے بعد ایک ساتھ تین طلاق دی تھی جس کو مالکی اور حنفی سمجھتے ہیں کہ لعان کے واقعہ کے بعد اس کی اہمیت نہیں ہے۔
حضرت عمرفاروق نے اکٹھی تین طلاق کا فیصلہ اجتہاد کی بنیاد پر نہیں کیا بلکہ یہ پہلا قضیہ اور مقدمہ تھا اور حضرت عمر نے قرآن کے عین مطابق فیصلہ دیا اسلئے کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تو پھر رجوع کا حق اللہ نے نہیں دیا ہے۔
غامدی صاحب نے اجتہاد کی بنیاد پر حلالہ کا گند نہ صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر ڈال دیا بلکہ ایک ضعیف روایت بلکہ من گھڑت روایت کی بنیاد پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھی زہر گھول دیا اور طلاق دینے والوں اور طلاق سے رجوع کا فتوی دینے والوں کیلئے بھی مستقل ذہنی امراض کا سلسلہ کھول دیا۔ حالانکہ قرآن مومنون کیلئے شفا اور رحمت ہے۔
جب اللہ نے واضح فرمایا کہ عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہر رجوع کے زیادہ حق دار ہیں تو کیا اجتہاد کرکے فتوی دیا جاسکتا ہے کہ اس صورت میں اصلاح کے بغیر بھی رجوع کے حق دار ہیں ؟ اور اس صورت میں اصلاح کے باوجود بھی رجوع کے حق دار نہیں ہیں؟۔ جاوید غامدی نے طلاق کے مسئلے پر وہ کردار ادا کیا ہے جس کے بعد اس کے دیگر اجتہادات کا پول بھی واضح طور پر کھل گیا ہے۔
جب اعراب نے کہا کہ ہم ایمان لائے تو اللہ نے فرمایا کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو کہ اسلام لائے اسلئے کہ ایمان تمہارے دلوں میں ابھی تک نہیں پہنچا ہے۔ جاوید غامدی دین کے مجموعی تصور کو لوگوں کے دلوں سے نکال کر دماغ میں ڈال رہا ہے وہ بھی بہت بھونڈے طریقے سے۔ بس ان کو مرزا غلام احمد قادیانی دجال کا شیطان "ٹیچی ٹیچی” نظر نہیں آتا لیکن وہی لگتا ہے کہ حلول کر گیا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے غامدی صاحب نے کہا کہ اگر بعثت نہیں ہوئی تو سب برابر لیکن اگر ہوئی تو پھر تم کیا کروگے۔ مولانا محمد امیر بجلی گھر مشہور خطیب نے کہا کہ میں نے مولوی سے کہا کہ مردوں کو خدا نے نہیں بخشنا ہے زندوں کا کام کیوں خراب کرتے ہو؟ غامدی صاحب دین کے نام پر جو کچھ پارہے ہیں اور جواپنے داماد اور بیٹی کیلئے چھوڑ رہے ہیں یہ دنیا کے کسی اور فن سے نہیں کما سکتے ہیں۔ جیسے جعلی پیروں اور مولوی حضرات کا حال ہے وہی اس کا بھی ہے لیکن یہ واردات کامیاب ہے۔