قیصر صاحب! آپ نے جاوید غامدی اور حسن الیاس کو جس مشن کا حصہ قرار دینے کے دلائل دیئے ہیں اس کا ٹائٹل اور کچھ مقاصد اور ان کا سلیس الفاظ میں ترجمہ ہوجائے تو بہت اچھا ہوگا۔ باقی کچھ معاملات بالکل واضح ہیں کہ کچھ لوگ وہ ہیں جو خلوص کی بنیاد پر بدترین گمراہ ہیں۔ ڈاکٹر منظور احمد سابق پروفیسر فلاسفی امریکہ کراچی یونیورسٹی اور وائس چانسلر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے کتاب لکھی ہے جو اسلام ہی کے حوالے سے ہے اور اس میں بہت خطرناک بات یہ لکھی ہے کہ دو یا تین سو سال اسلام کے ساتھ گزارہ کرنا پڑے گا پھر اس کا وجود ختم ہوجائے گا۔ اس کے چہرے پر کوئی داڑھی نہیں ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی سیکرٹری جنرل بھی مولانا مودودی کے زمانے میں رہے ہیں۔ ان کی شخصیت اور کتاب میں منافقت نہیں خلوص نظر آتا ہے۔ انہوں نے یہ فکر پیش کی ہے کہ
"اسلام میں اجتہاد تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ طلاق میں اجتہاد کیا اور ایک مرتبہ پر فیصلہ جاری کردیا۔ اگر تقلید کی بیماری نہیں آتی تو اجتہاد کے ذریعے آج قرآن کا نام ونشان بھی نہیں ہوتا۔ تقلید نے اسلام میں اجتہاد کی روح کا خاتمہ کردیا اور جب دوبارہ اجتہاد شروع ہوگا تو اسلام تحلیل ہوجائے گا”۔
اس کی فکر غامدی صاحب کی فکر سے زیادہ واضح الفاظ میں ان مقاصد کو پورا کررہی تھی جس کو آپ نے سازش قرار دیا۔ لیکن اس کے باوجود وہ شخص بڑے عالم سمجھدار مخلص اور ایمان سے بھرپور نظر آتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کتابی شکل میں نہیں ہے بلکہ اورل ہے اور اسلام کے تحلیل ہونے کا نظریہ ویسے رکھتے تھے۔ جب میں نے چند آیات سے واضح کیا کہ مولوی کے نصاب میں کتاب اللہ سے متعلق غلط اصول فقہ کی تعلیم دی جارہی ہے اور طلاق کا مسئلہ سمجھایا تو انہوں نے کہا کہ آپ نے میرے اندر ایمان کو دوبارہ لوٹا دیا ہے۔
غامدی صاحب کا معاملہ بالکل جدا نظر آتا ہے۔ علماء کرام میں آپس کے تضادات بھی غامدی صاحب کے مقابلے میں کم نہیں ہیں۔ لیکن غامدی صاحب نے جان بوجھ کر خباثت کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے۔ جس چیز کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اگر یہ یہودیوں کی کتاب پروٹوکول ہے تو میرے پاس اس کا ترجمہ ہے دیکھ لوں گا۔ میں نے یہ کوئی 1980 میں پڑھ لی تھی جب اس پر پابندی تھی اور اس کی فوٹو اسٹیٹ ایک کلاس فیلو نے دی تھی۔ حسن الیاس نے غامدی صاحب اور علماء کی فکر میں اختلاف کے عنوان سے ایک ملازم ٹائپ آدمی کیساتھ تازہ ویڈیو بنائی ہے جس پر میرا تبصرہ موجود ہے اور اس مرتبہ کے اخبار نوشتہ دیوار شمارہ اکتوبر2025میں بھی اور پچھلے شمارے میں بھی اس کی خبر لی تھی مگر بہت ڈھیٹ قسم کی مخلوق ہے۔