مفتی عبدالواحد قریشی صاحب ! آپ یہ بتائیں کہ بات کیا ہوئی تھی؟ اور پھر نتیجہ کیا نکلا؟
خلیفہ عبدالقیوم کے اس وقت آپ ساتھی تھے اب آپ جمعیت علماء اسلام میں ہیں اور اس وقت آپ جمعیت کے کتنے خلاف تھے؟. خلیفہ صاحب نے کہا کہ ہمارے ساتھیوں کو دوسروں نے استعمال کیا ہے مجھے پتہ تھا کہ پیچھے مولانا فضل الرحمان اور اس کے بھائی تھے۔ ٹانک میں ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء کی خواہش پر پروگرام رکھا تھا لیکن مولانا فضل الرحمن نے اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ مولانا کے پاس میں خود گیا تھا اور اس نے لیت و لعل کے بعد مولانا عطاء اللہ شاہ سے شمولیت کا کہا مگر پھر ڈیرہ اسماعیل خان سے کوئی بھی نہیں آیا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ اچھا ہے ایک پروگرام ڈیرہ اسماعیل خان میں ہو جائے۔ خلیفہ صاحب ہمارے ساتھ تھانہ گئے مگر وہاں پتہ چلا کہ عدالت سے ہی ضمانت ہوسکتی ہے۔ ہمارا اس پر اتفاق تھا کہ درس نظامی میں قرآن کی تحریف پڑھائی جاتی ہے لیکن پھر قاضی عبدالکریم کافتوی لگوایا جس میں اس نے اپنے شاگرد مولانا شیخ شفیع کو خط لکھا تھا کہ آپ سے مجھے گلہ ہے کہ آپ سید عتیق الرحمن گیلانی کی تائید تحریری اور مجالس میں کیوں کرتے ہیں۔ یہ شخص اہل سنت کے اجماع کو نہیں مانتا۔ مہدی کی بات کوئی مسئلہ نہیں۔ شیعہ کے کفر پر اجماع ہے۔ جہاں تک مولانا فضل الرحمن کے گروپ کا تعلق ہے تو یہ قادیانیوں کا بھی استقبال کرتے ہیں۔
مزے کی بات یہ تھی کہ مولانا شفیع صاحب شہید نے میری تائید واپس لینے سے انکار کردیا اور جن پر قادیانیوں کی تائید کرنےکا فتوی لگایا تھا تو انہوں نے اس خط پر الجواب صحیح لکھ دیا۔ جمعیت علماء اسلام ٹانک کے امیر مولانا عبدالروف گل إمام نے بیان دیا کہ قاضی صاحب یہ بھونڈی حرکتیں چھوڑ دو۔ میں نے جواب میں لکھا تھا کہ تمہارا بھائی قاضی عبداللطیف ملی یکجہتی کونسل کا صوبائی امیر ہے جس میں شیعہ کے ساتھ معاہدہ ہے کہ ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کریں گے تو سب سے پہلا نشانہ وہ ہے اور پھر سعودی حکومت شیعہ کو حرم میں داخل ہونے دیتی ہے تو ان پر بھی فتوی لگادیا ہے۔ پھر قاضی صاحب مولانا عبدالروف سے معافی مانگنے پہنچ گئے اور جن دلوں اور دلالوں نے فتوی پر دستخط کئے تھے وہ متحدہ مجلس عمل میں شیعہ قیادت کو بھی اپنے اکابرین کہہ رہے تھے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ عتیق گیلانی نے کراچی کے اکابرین کو بدترین شکست دی، ہم نے جان بوجھ کر قاضی کو لڑا دیا جو ہر الیکشن میں ہم پر فتوی لگارہا تھا تاکہ فتوی لگانا بھول جائے۔ عتیق ہمارا اپنا آدمی ہے لیکن پھر مولانا فضل الرحمان کو بھی آئینہ دکھایا تھا جس کے بعد وہ صفائی دینے بھی آیا تھا کہ میں نے کبھی مخالفت نہیں کی ہے۔
مفتی قریشی صاحب ! کبھی سچ بھی بول دیا کریں اگر ضمیر نہیں کھویا ہو۔ اس واقعہ کے بعد میں کافی عرصہ وہاں رہا ہوں۔ یہ دنیا جانتی ہے کہ علی وزیر نے قومی اسمبلی میں کہا کہ ہمارے خاندان نے فوج کیلئے قربانیاں دیں ہیں لیکن جب قوم کو نقصان پہنچ رہا تھا اور جمعیت علماء اسلام اقتدار میں آئی اور وزیر اعلی اکرم درانی پر طالبان نے حملہ کیا تو اس نے کہا کہ اگر کسی نے طالبان کا نام لیا تو میں ہتک عزت کا دعوٰی کردوں گا۔ جمعیت علماء اسلام والے کہتے تھے کہ ایجنسیاں پیچھے ہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن الحمد للہ ہم نے ضمیر پر بوجھ نہیں رکھا اور ایک دفعہ مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور دوسری مرتبہ گھر پر حملہ کرکے 13 افراد شہید کردیئے پھر انہوں معافی مانگ لی اور محسود قوم ساتھ آئی۔ لیکن اگلی تاریخ پر کانیگرم میں دوبارہ پھر قوم کے نمائندے غائب تھے۔ ہم بالکل بہادر نہیں لیکن اللہ کی مرضی جس کو عزت دے۔ حکومت اور فوج کیلئے قربانی اس لئے نہیں دے سکتے کہ وہ خود طاقتور تھے اور پالے ہوئے بھی تھے۔ عوام کی حفاظت انہوں نے کرنی ہے لیکن یہ بھی نہیں کہ پالیں ہم اور حفاظت کی ذمہ داری ان پر ڈال دیں۔ ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا جنہوں نے کیا انہوں نے بتایا کہ ان کو غلط فہمی میں ڈالا گیا تھا اور اب پیسے تقسیم کرنے کی کہانی بھی بتائی گئی ہے۔ مولوی حضرات میں اچھے لوگوں کی کمی نہیں مگر کچھ بے ضمیر ہوتے ہیں۔ یہی حال طالبان اور عوام کا ہے اللہ اچھا وقت لاسکتا ہے۔