zarbehaq
اگست 26, 2025
تبصرہ
کہا جاتا تھا کہ پیر نہیں اڑتے بلکہ مرید اس کو اڑاتے ہیں سہیل وڑائچ انتہائی قابل عزت اچھے صحافی ہیں لیکن اس نے کافی عرصہ سے خود کو مسلم لیگ ن کے پلڑے میں ڈال رکھا تھا اور پھر اس نے شاید محسوس کیا کہ جمہوریت کے مفاد کی خاطر عمران خان کو اپنے روئیے میں تبدیلی لانا چاہیے اور یہ مسلسل عرصہ سے بول رہے ہیں اب اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے اس نے جو بیان دیا تھا تو اس کے بیانیہ میں کوئی فرق نہیں تھا البتہ سہیل وڑائچ نے جب آرمی چیف سے ملاقات کا موقع ملا اور اس کے بیان سے سمجھ لیا کہ فیلڈ مارشل کا موڈ کیا ہے اوراپنا پرانا بیانیہ لکھ دیا تو صحافیوں نے اس میں ملاقات کی جگہ انٹرویو کا غبارہ بھردیا جس کی وجہ سے آئی ایس پی آر نے وضاحت کردی اور سہیل وڑائچ نے بھی وضاحت کردی لیکن لگتا ہے کہ اپنے اپنے مقاصد کیلئے اس میں غلط رنگ بھرے جارہے ہیں جب اپنی خواہشات کو صحافت کے ذریعے سے منتقل کیا جاتا ہے آئن سٹائن نے خدا کا انکار نہیں کیا لیکن جس کو سائیکل کا میکینک بننا چاہیے تھا اور بدقسمتی سے وہ صحافی بن گئے تو اپنی ذاتی مفادات کیلئے ایسا ٹارگٹ ڈھونڈ لیا جاتا ہے جس سے عوام میں آسانی سےمقبولیت مل جاتی ہے