مجھے اسلامی نظریاتی کونسل کے فتوے سے قطعی اتفاق نہیں ہے۔ بہت افسوس ہے کہ اس ادارے کے اندر زیادہ تر سیاسی اور مفاد پرستی کی بنیاد پر بھرتیوں کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے۔ لیکن جن لوگوں نے یہاں اپنی مہارت دکھانے کی کوشش کی ہے وہ بہت غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ جب عیسی علیہ السلام کی بعثت کے بعد یہودیوں نے بدتمیزی کی انتہا کردی تو عیسائیوں نے غلبہ حاصل کرنے کے بعد یہود سے خوب انتقام لیا تھا۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا تو عیسائی پھولے نہیں سماتے تھے اسلئے کہ سورہ مریم میں حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مریم کے تقدس کو مانا گیا تھا۔ اسلام میں کسی انسان کو جتنا مقدس درجہ دیا جاسکتا تھا وہ قرآن نے دیا تھا جس کا قرآن نے تذکرہ بھی کیا ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر بدترین دشمنوں سے حسن سلوک کیا اس سے پہلے صلح حدیبیہ اور میثاق مدینہ بہت بہترین پیکج تھے۔ اسی طرح حجہ الوداع کے خطبہ میں عادل بادشاہ نجاشی کے ساتھ تعارض نہ کرنے کی تلقین اور بعثت سے پہلے حلف الفضول پر فخر اور عرب وعجم اور کالے گورے میں تعصبات کا خاتمہ بہت بڑا پیغام تھا۔ انصاف اور چوری میں حضرت فاطمہ اور ایک عام خاتون کی برابری اقوام متحدہ سے بھی زیادہ بہتر منشور تھا۔ لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قاتل بیٹے عبیداللہ کو قصاص میں ریمنڈ ڈیوس کی طرح رعایت دی گئی اور اس سے پہلے ایران کے بادشاہ کی بیٹیاں مال غنیمت میں فروخت کے لیے رکھنے کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے ایک عبداللہ بن عمر دوسری حسین بن علی اور تیسری محمد بن ابی بکر کے سپرد کر دی گئی تو اس کے بعد حضرت عثمان کی شہادت سے حضرت حسین کی شہادت اور اس کے بعد جو واقعات پیش آئے اور پوری دنیا کو مسلمان یا پھر لونڈی و غلام بنانے کا بھوت سوار ہوا لوگوں کی بیویاں چھین لینے کے قصے رپورٹ ہوئے تو عیسائی مصنف نے اس کو خطرناک کھیل اور دجالی حکومت کا پیش خیمہ قرار دیا۔ لیکن ایک مصنف کی بات عیسائیوں کی ترجمانی نہیں تھی۔ جیسے "100 بڑے لوگ” میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی نہیں مانا گیا مگر انسانیت کی خدمات میں پہلے نمبر پر حضرت عیسی علیہ السلام پر بھی ترجیح دی گئی ہے ۔
علامہ شہر یار رضا عابدی اسلام اور مسلمانوں کی جو تصویر پیش کرتا ہے تو اس طرح کی گھٹیا سوچ عیسائی بھی اسلام کے بارے میں نہیں رکھ سکتے۔ انجینئر محمد علی مرزا ایک جاہل، احمق اور مفاد پرست انسان ہے۔ اس نے دیوبندی اور بریلوی کو مرزائیوں کے ساتھ کھڑا کردیا لیکن ساتھ میں کہا کہ ایک کافر اور دوسرے مسلمان ہیں۔ جب عقائد ایک ہیں تو فرق کیوں؟۔ اور ایک نہیں تو سب کو ایک صف میں کیسے کھڑا کردیا؟۔ اور ڈیڑھ ارب مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کو دجال سمجھتے ہیں اسلئے کہ مجذوب فرنگی کی کہانی ہی ایسی تھی۔ سب کو رنڈی کی اولاد کہتا تھا۔ اپنی قوم کی محمدی بیگم سے شادی کیلئے جھوٹ کا الہام یا وحی گھڑ دی۔ کسی غیرتمند قوم سے تعلق رکھتا تو اس جھوٹ پر اس سے بلیک میل ہونے کے بجائے گانڈ میں گولی مار دیتا۔ احمق انسان مرزا جہلمی نے قوم پرستی کی لہر میں بہہ کر قرار دیا کہ 2 ارب عیسائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔سمجھتے ہیں۔ یہ جھوٹ ہے اسلئے کہ عیسائیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے اتنی ہدایت پائی ہے کہ طلاق کو جواز بخش دیا ہے۔ لیکن وہ مسلمان اسلئے بھی نہیں ہوتے کہ بخاری میں ایک روایت غلط جگہ درج ہوئی ہے جس کی وجہ سے حلالہ کی لعنت یہود کی طرح عام ہوگئی ہے۔ جس سے اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے خدشات ہوں گے اور مرزا محمد علی جہلمی جیسے لوگ اس کے ذمہ دار ہی نہیں بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔