شہریار وڑائچ صاحب! آپ کے سوالات کے جواب ایک سنجیدہ مسئلہ ہے پہلی بات یہ ہے کہ اگر حور سے جنت میں کام چل سکتا تھا تو پھر حضرت آدم علیہ السلام کیوں حضرت حوا کے بغیر غمگین ہوتے؟ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے پہلے کے ایک عالم ملا جیون نے اپنی کتاب نورالانوار میں لکھ دیا ہے کہ شادی کیلئے عورت کا آدم زاد ہونا ضروری ہے اس کتاب میں سمندری انسان کا تصور پیش کیا گیا ہے جس میں عورت کی ساخت گوشت پوست عام انسانوں جیسا ہی ہوگا لیکن بری اور بحری کا فرق ہوگا اسلئے نکاح جائز نہیں ہے جب حور کا تعلق انسان کے جنس سے نہیں ہوگا تو اس سے جنسی تعلقات بھی قائم نہیں ہوں گے یہ کتاب علماء درس نظامی میں پڑھاتے ہیں تیسری بات یہ ہے کی حدیث میں اس کو اللعبہ کھلونا قرار دیا گیا جس کا تعلق جنت نہیں دنیا سے ہونے کی بھی وضاحت ہے چوتھی بات یہ ہے کہ قرآن میں ہے کہ انہ ظن ان لن یحور بیشک وہ سمجھتا ہوگا کہ اس کی اچھی حالت بری میں تبدیل نہیں ہوگی اور حدیث میں پناہ مانگی گئی ہے کہ الحور بعد الکور سے اللہ بچائے یعنی کور اچھی حالت اور حور بری حالت کو کہتے ہیں آپ گوگل کرکے دیکھ لیں۔ قرآن میں جن آیات کے معانی سمجھ میں نہیں آتے تھے تو ان سے حوریں مراد لی گئی ہیں اور قرآن میں دنیا کی نعمتوں کا ذکر ہے لیکن جب وہ نعمتیں موجود نہیں تھیں تو مطلب بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا جیسے سمندری جہازوں کا سورہ رحمان میں ذکر ہے جو پہاڑوں جیسے ہیں یہ تو بہت بعد میں بنے ہیں۔ سورہ رحمان میں دو باغات کا ذکر ہے جس میں دو چشمے ہوں گے اور یہ پاکستان کی سرزمین پر بھی ڈیموں سے صاف پانی اور ہر گھر کے آگے پیچھے دو گارڈن بناسکتے ہیں جس سے ماحولیاتی آلودگی کا بھی خاتمہ ہوگا اور اس کے علاوہ بھی دو باغات کا ذکر ہے جس میں نسبتا زیادہ آسائشیں وی آئی پی کیلئے ہوں گی اس میں دو فوارے ہوں گے جبکہ آخرت کی جنت کیلئے قرآن میں ہے کہ دوڑو اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے اس میں صرف دو چشمے کیسے ہوں گے؟ سورہ قیامت کے بعد سورہ دھر کا تعلق دنیا سے ہے اور اس میں ویٹروں کا ذکر ہے جو 24 گھنٹے اس طرح ڈیوٹی دیں گے جیسے ہمارے اسٹوڈنٹ یورپ میں دیتے ہیں۔ جنت میں نہریں نکالنے کی ضرورت نہیں ہوگی لیکن پاکستان اور بھارت کو نہروں سے جنت بناسکتے ہیں۔ جنت میں کہاں سے یتیم قیدی اور مسکین ہوں گے سورہ دھر کا ترجمہ اور تفسیر مولانا مودودی کی دیکھ لیں تو بھی ہنسی آئے گی اس وقت ایکسویٹر نہیں تھے ورنہ آسانی سے نہریں نکالنے میں جنت کی جگہ مودودی صاحب کا دماغ دنیا کی طرف بھی جاسکتا تھا۔ قرآن میں عروبا اترابا کا ذکر ہے پہلے گاڑیاں نہیں تھیں تو اس سے ہم عمر حور مراد لی گئی ہے حالانکہ قد کے موافق گاڑیاں اب مراد لے سکتے ہیں اس طرح قاصرات الطرف کا معنی چھوٹی چیزیں ڈبہ پیک جیساکہ موجودہ دور میں ان ٹچ ایبل کی اصطلاح ہے قرآن میں یہی کہا گیا لیکن ملاؤں نے دنیا کی عورتوں کو پلید کرکے حوروں کو پاکیزہ بنادیا ہے ڈبہ پیک جیولری کراکری موبائل اور مختلف چیزوں کیلئے مردوں سے بھی زیادہ عورتیں مرتی اور خوش ہوتی ہیں اس لئے ٹینشن لینے کی ان کو ضرورت نہیں ہے پنجابی اگر جہیز مانگتا ہے اور پٹھان حق مہر کے نام پر بیچ دیتا ہے تو اس میں اسلام کا کیا قصور ہے
Jannat – Kiya Sirf Murd Ke Liye
اگست 26, 2025
تبصرہ