تبلیغی جماعت والے کہتے ہیں کہ اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین لیکن جب اچانک بیوی کو تین طلاق دیتے ہیں تو دارالعوام کراچی سے ان کو حلالہ کا فتوی ملتا تھا۔ اب وہ یہ یقین کرسکتے تھے کہ حلالہ کی لعنت میں کامیابی کا یقین ہوسکتا ہے؟ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ اللہ نے آیت 228 میں عدت کے اندر باہمی اصلاح سے رجوع ہوسکتا ہے اور آیت 229 میں بھی عدت کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق کی بات ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کی کتاب میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ آیت 228 میں بھی رجوع کیلئے عدت کی مہلت تھی اور آیت 229 میں بھی رجوع کیلئے مہلت ہے۔ لیکن اگر مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے فیصلے پر قائم تھے تو اللہ کا حکم یہ ہے کہ پھر شوہر کیلئے بیوی سے کوئی دی ہوئی چیز واپس لینا جائز نہیں البتہ اگر دونوں کو اور فیصلہ کرنے والوں کو خوف ہو کہ اس چیز کی وجہ سے رابطہ ہوگا اور دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو پھر وہ دی ہوئی چیز عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں حرج نہیں اسلئے کہ یہ عزت بچانے کا فدیہ ہے۔ جس انسان کی جان بھی فدا ہو پہلے تو اس کو خلع قرار دینا حماقت ہے۔ لیکن بالفرض خلع مراد لیا جائے تو یہ تین مرتبہ کے بعد خلع ہوگا۔ اور اس کے بعد آیت 230 البقرہ میں اس طلاق کا ذکر ہے جس کے بعد اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی اور شوہر سے شادی ہوجائے۔ حنفی مسلک میں اس کا تعلق خلع سے ہے۔ لیکن فتوی پھر بھی اکٹھی تین طلاق پر حلالہ کا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ تو وہی صورت ہے کہ جب مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے بعد یہ فیصلہ ہوچکا ہو کہ کوئی ایسی چیز بھی نہیں چھوڑنی جو رابطے کا باعث ہو تو پھر یہ طے ہوگیا کہ انہوں نے رجوع نہیں کرنا۔ لیکن پھر کتنے تبلیغی جماعت کے افراد کی عزتوں کا مینا بازار لگا دیا گیا؟۔ پھر اس کی بعد کی آیات میں معروف اور باہمی رضا مندی کی شرط پر رجوع کی ترغیب دی گئی ہے۔
جو تبلیغی آپ کو خط لکھ رہا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ سود کے جواز اور حلالہ کی لعنت کے فتوؤں نے تیرا دل مزید اور سخت کردیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ ہدایت دے۔ جس طرح تصویر کے مسئلے کو سمجھ کر اپنے مفاد کی خاطر معاملہ بدل دیا ہے اسی طرح تبلیغی جماعت کے کارکنوں اور عوام کے مفاد میں حلالہ کے ناجائز فتوے بھی چھوڑ دو۔
Kya Deen Ka Kam Sirf Tablighi Jamat Hi Kar Rahi Hai? Mufti Taqi Usmani |دین کا کام صرف تبلیغی جماعت
اکتوبر 6, 2025
تبصرہ