شہریار وڑائچ صاحب! آپ کو پہلے حور کے حوالے سے ویلاگ میں کافی تفصیلات کے ساتھ لکھ دیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں اللعبہ(کھلونا کو کہتے ہیں عربی میں ) حور کا ذکر ہے جس کی تائید حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے۔ اس روایت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس حور کا تعلق جنت سے نہیں بلکہ دنیا سے ہے اور اس پر لکھا ہوا ہوگا کہ "اگر کسی کو مجھ جیسی چاہیے تو وہ اچھا عمل کرے” اس کا تعلق ترقی یافتہ دنیا کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ روبوٹ نما فلم کی کہانی ہوگی اور جس طرح فلم اور ڈرامہ اسکرین پر ہوتا ہے وہ روبوٹ فلم اور ڈرامہ ہوگا۔
جہاں تک آپ نے ہندو مذہب کے حوالے سے بات کی ہے تو جس طرح ہم لوگوں نے حقائق بگاڑ دیئے ہیں ہوسکتا ہے کہ انہوں نے بھی بات کا بتنگڑ بناکر کہانیاں گھڑ دی ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں مذاہب میں ایک جیسی چیزیں ہوں اور حقائق تک رسائی میں ابھی دنیا کے عروج کے دن باقی ہوں۔ اسلئے کہ آج سے 100 سال پہلے روبوٹ کا تصور نہیں تھا اور آنے والے دنوں میں مزید دنیا عروج کو پہنچے اور جس طرح جانداروں پر تجربات ہوتے ہیں گھوڑے پرندے اور فارمی اشیاء کے تصورات کی طرح حوروں کے حالات کیلئے بھی مزید ترقی ہو۔ اسلئے کہ حدیث میں حیاتیاتی مٹی سے گوندھ لینے کا بھی ذکر ہے ۔
شہریار وڑائچ: لیکن مولانا اسحاق تو اس بات کو بالکل ہی رد کر رہے ہیں – ان کا کلپ اس ویڈیو کا حصہ ہے- شکریہ۔
عتیق گیلانی:
شہریار وڑائچ صاحب! مولانا اسحاق صاحب واقعی بہت اللہ والے انسان ہیں جو بات ٹھیک لگتی تھی وہ اظہار فرماتے تھے لیکن بہت ساری ایسی احادیث کو بھی نہیں مانتے تھے جو بہت بنیادی حیثیت کی حامل تھیں۔ غلام احمد پرویز نے عقلی بنیاد پر بہت ساری چیزوں کو نمایاں کیا ہے لیکن مغالطے کھائے بھی ہیں اور دئیے بھی ہیں۔ مثال کے طور پر بخاری میں پہلی وحی کا نزول اقرا باسم ربک الذی خلق کے الفاظ سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں پھر جبرئیل نے سینے سے لگایا اور پھر پڑھا تو اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ نابینا حافظ بن جاتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نہیں پڑھ سکتے تھے؟ حالانکہ پڑھنے کے دو اقسام ہیں ایک دل کی آنکھ سے پڑھنا اور دوسرا سر کی آنکھوں سے پڑھنا۔ قرآن میں اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ اصل اندھا دل کا اندھا ہے اللہ نے قرآن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل کیا دل کی آنکھ انوکھی ضرور ہے لیکن اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جو تصوف والے لوگ تھے ان کی علمی صلاحیتوں کو علماء کرام نے اسلئے مانا کہ وہ بہت ساری وہ چیزیں سمجھتے تھے جو عام علماء کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔