قرآن کے خلاف ضعیف حدیث کی بنیاد پر اجتہاد کی پہلی بدعت کا بانی غامدی صاحب ہیں۔ قرآن سورہ بقرہ آیت 228 میں اللہ تعالٰی نے جاہلیت کے تین مسائل کا خاتمہ کردیا ہے۔
پہلا معاملہ حلالہ کی لعنت کا خاتمہ تھا اسلئے کہ اکٹھی تین طلاق ہوں یا مرحلہ وار تین مرتبہ کی طلاق جب عدت میں باہمی اصلاح کی بنیاد پر رجوع کی اجازت دے دی تو حلالہ کی لعنت کا جاہلانہ تصور بالکل ختم کردیا گیا۔
دوسرا معاملہ دوسری جاہلیت کی رسم تھی کہ عورت کی رضا مندی کے بغیر رجوع ہوسکتا تھا تو اس کا بھی خاتمہ کردیا۔
تیسرا معاملہ تیسری جاہلانہ رسم یہ تھی کہ میاں بیوی راضی ہوں تو بھی دوسرے طبقات رکاوٹ بن جاتے تھے۔ اللہ نے واضح کیا کہ جب دونوں آپس میں راضی ہوں تو شوہر ہی اس کو لوٹانے کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔ آیت کا مختصر جملہ ان ساری چیزوں کو واضح کرتا ہے وبعولتهن احق بردھن فی ذلك ان ارادوا اصلاحا اور ان کے شوہر اس میں اصلاح کی شرط پر لوٹانے کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔
جاوید غامدی نے رکانہ بن عبد یزید کے حوالے سے کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ نیت کیا تھی؟ اس نے کہا کہ ایک طلاق کی پھر قسم دی تو اس نے قسم کھائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طلاق قرار دیا- اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جاوید غامدی نے اس حدیث کو اجتہاد قرار دیا ہے اور پھر اس کے خلاف حضرت عمر کے اجتہاد کو بھی جواز بخش دیا ہے کہ اس نے تین کو تین قرار دیا اور دونوں اجتہادات کی گنجائش ہے۔ اگر اکٹھی تین طلاق کے بعد رجوع کرنے دیا جائے تو بھی ٹھیک اور نہیں کرنے دیا جائے تب بھی ٹھیک ہے۔ حالانکہ حضرت عمر نے اجتہاد نہیں کیا بلکہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی۔ جبکہ حضرت علی نے حرام کے لفظ پر بھی فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ اسلئے کہ عورت راضی نہیں تھی۔
جاوید غامدی نے اگر عورت کی رضا مندی کے بغیر رجوع کی اجازت دی ہے تب بھی غلط ہے اور دونوں کی رضا مندی کے باوجود کسی اور کو اختیار دیا ہے تب بھی یہ غلط ہے۔