تبصرہ عتیق گیلانی
————
شہریار وڑائچ صاحب !
مولانا منظور مینگل ڈاکٹر اور مفتی بھی ھیں اس نے ایک تقریر میں کہا کہ تبلیغی جماعت کے حاجی عبدالوھاب کے بارے میں اس کے عقیدتمند عالم نے بتایا کہ حاجی صاحب کئی دفعہ مرنے کے بعد زندہ ھوچکے ھیں ۔
ایک بار اس کی میت کو جنت البقیع مدینہ لے جایا گیا جب فرشتوں نے سوالات پوچھے تو اس نے کہا کہ مجھے مولانا الیاس اور مولانا یوسف کے پاس لے جائیں یہاں کہاں لائے ھیں ؟ جس پر فرشتوں نے لاجواب ھوکر پھر زندہ کردیا ۔
سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ اتنے بڑے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ھے؟
یہ اصل میں ایک روحانی کیفیت ھوتی ھے جو خواب کی طرح نیم بیداری میں انسان پر طاری ہوتی ھے جس میں کوئی تائید یا تنبیہ بھی ھوسکتی ھے ۔
ایک حدیث ھے کہ ۔ ۔ ۔
انسان کی جس سے محبت ھوتی ھے اسی کے ساتھ حشر ھوگا ۔
تو اس سے ایک تنبیہ بھی مراد ھوسکتی تھی کہ ۔ ۔ ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بستی نظام الدین عالمی تبلیغی مرکز سے تمہاری محبت ھے قرآن وسنت کی طرف توجہ کرو ۔
مفتی منظور مینگل نے ایک بات یہ بھی کی ھے کہ سندھ کے ایک عالم نے اپنا سورج ایجاد کرلیا تھا جو اس کی مرضی سے طلوع اور غروب ھوتا تھا !
اب اس بکواس کی کیا تاویل ھوسکتی ھے ؟
ظاھر ھے کہ نری جہالت ھے
ڈیرہ اسماعیل خان کے مفتی عبدالواحد نے کہا کہ ۔ ۔ ۔
فارمی مرغی مرغی نہیں چکن ھے !
جن لوگوں کے ھاتھ میں قرآن جیسی مقدس کتاب دی گئی ھے ۔ ۔ ۔ عام جاھل علماء کو رھنے دیں ۔ ۔ ۔ جاوید احمد غامدی جیسے انسان کو لے لیں ! قرآن نے بار بار واضح کیا ھے کہ طلاق کے بعد عورت کی رضا مندی سے رجوع ھوسکتا ھے اور جب اس کی رضا مندی نہیں ھو تو نہیں ھوسکتا ۔
لیکن !
اتنی موٹی بات کو غامدی نے جس طرح الجھا دیا ھے وہ آپ سن لیں۔ جب ھم نے اس پر گرفت کی تو اب مدارس میں چندے کی رقم دیکر استقبال کے مزے لے رھا ھے ۔
مولوی چندے کیلئے میت کے غسل سے لیکر عالمی سودی نظام کو زیادہ پرسنٹیج کے ساتھ جواز بخشنے تک ہر کام کرسکتا ھے ۔
۔ ۔ ۔ ان پر وقت ضائع نہیں کرنا چاھیے ۔
Moulvion ki Invention – Dark Age |
جنوری 9, 2026
تبصرہ