مولانا خان زیب کی شہادت بہت افسوسناک ہے وہ نہ صرف ایک قوم پرست عالم دین تھے بلکہ ایک بہت اچھے انسان تھے اور خان زمان کاکڑ بھی میرے دل کے دھڑکن ہیں اسلئے کہ پختونوں کے ایک قیمتی سرمایہ اور بہت بہادر ہیں لیکن اپنے مؤقف میں تھوڑا لچک پیدا کریں تو بہترین ہوں گے جن لوگوں کو وہ اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں جناب خان عبدالغفار خان عبدالولی خان اور اسفندیار خان اور ایمل ولی خان ان کے لہجوں میں تلخیاں نہیں جس کی وجہ سے بنگال اور ہندوستان اور سندھ و پنجاب کے لوگ بھی ان سے محبت کرتے تھے تعصبات بھرے لہجے اور بندوق برداروں کے رویہ میں زیادہ فرق نہیں ہے مجھے PTM کے ٹرین صاحب بھی بہت پسند ہیں اور ان دونوں سے ایک ایک مختصر ملاقات ہوئی ہے دونوں کا طرز فکر اور لہجہ ایک ہے صوبہ بھی ایک ہے لیکن جماعتیں مختلف ہیں جس طرح ٹرین اور کاکڑ صاحب دونوں پختون اور پلیٹ فارم الگ الگ ہے اسی طرح طالبان اور قوم پرستوں کے درمیان بھی تھوڑا فاصلہ ہے ایک طبقہ نے بندوق اٹھائی ہے اور دوسرا طبقہ نوک زبان سے بندوق کا کام کرتے ہیں پنجاب کی صنم جاوید وغیرہ کو اس سے نرم لہجہ استعمال کرنے پر زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہمیں تمام جرآت مند لوگوں کی جرآت سے محبت ہے لیکن اگر پنجابی سندھی اور بلوچ نفرتیں پھیلاتے تو شاید اتنا نرم گوشہ نہ رکھتا نفرتوں کا صلہ یہ ملتا ہے کہ افغانستان میں طالبان اور لنڈو غروں نے لاکھوں کی تعداد میں پختونوں نے ایک دوسرے کو مارا یہ جو کاکڑ صاحب نے مولانا خان زیب کی بہت اچھی تصویر پیش کرسکے اور اب لگتا ہے کہ جذباتیت کم ہوگئی ہے جس دن عدم تشدد کی طرح عدم تعصب کو فروغ مل گیا تو پختون تمام قوموں کو لیڈ کریں گے عدم تشدد اپنی پشتون قوم کو سکھاتے تو طالبان شدت پسند نہیں بنتے بلکہ مولانا خان زیب بنتے روس کے وقت میں پنجابیوں نے جہاد کیا تو تشدد نہیں آیا لیکن جب پشتون مجاہدین کی باری آئی تو افغانستان میں تشدد کا بازار گرم کیا جب امریکہ کے خلاف پشتون طالبان اتھے تو تشدد کو جنم دیا
Pakhtuns, Militancy, and the Legacy of Maulana KhanZeb | Khan Zaman Kakar
اگست 15, 2025
تبصرہ