تبصرہ عتیق گیلانی
———-
کامران یوسف صاحب!
تجزیہ نگاروں کی بہتات میں ایک نام آپ کا بھی سہی ۔
جہاں ارشاد بھٹی کہتا ھے کہ چاچا ٹرمپ کو مداخلت کرنی چاھیئے آپ نے شائستگی سے افغانستان کے مہاجرین کے خلاف اپنا موقف پیش کرنے کی کوشش کی ھے ۔
تصویر کا دوسرا رخ یہ ھے کہ جن افغانیوں کو یہ گلہ تھا کہ پاکستان نے افغان مجاھدین کے ذریعے سے افغانستان کو تباہ کردیا پھر ملاعمر کو مسلط کیا پھر افغانستان میں سقوط طالبان کے بعد ایک خوشحال اور آزاد افغانستان کے خلاف طالبان کو سپورٹ کیا اب جاوید چوھدری کہتا ھے کہ اسلامی جہاد نہیں تھا امریکہ کی جنگ تھی اور افغان ملاؤوں کو رضی دادا لونڈے باز قرار دیتا ھے تو ۔ ۔ ۔ ان افغانیوں کا موقف درست ثابت ھورھا ھے جن کے نزدیک مجاہدین کے امام جنرل اختر عبدالرحمان کے بظاھر دو پینٹ تھے ۔
لیکن !
ان کے لڑکوں کی اس وقت سوئس بینک میں بڑی رقم تھی جب کرپٹ سیاستدانوں کے اکاؤنٹ بھی سوئس بینک میں نہیں تھے اور افغانیوں کے بچوں کو ملنے والی اس امداد کے بدلے اگر پاکستان میں کچرے سے بجلی پیدا کرنے والے ادارے بھی بنائے جاتے تو ایک طرف کچرا کنڈی سے جان چھوٹ جاتی اور دوسری طرف بجلی کی پیداوار میں شہروں کے اندر خاطر خواہ اضافہ ھوتا اور تیسرا یہ کہ بجلی سستی پڑتی اور چوتھا یہ کہ کچرا چننے کا کاروبار نہیں ھوتا ۔
لیکن !
ھم نے خوامخواہ میں افغانیوں کو بھی اس کاروبار پر لگادیا اور سیاستدانوں کو بھی بیرون ملک دولت منتقل کرنے کا راستہ بتادیا اور ملک کے مفاد کیلئے بھی کچھ نہیں کیا اور اب جو ہم سمجھتے ھیں کہ بڑا تیر مارا ھے تو بیرون ملک افغانی بھی خوش ھیں کہ ملک وقوم کے غدار افغانیوں کو واپس بھیجا جارھا ھے اور طالبان کی حکومت کو بھی سپورٹ کرنے کے بجائے قابض کہا جارھا ھے ، حالانکہ پاکستانی کبھی بھی اپنے لئے طالبان جیسی حکومت کو پسند نہیں کرتے جو ملاعمر اور پھر موجودہ طالبان کی شکل میں ان پر مسلط کی گئی تھی ۔ پھر سب سے زیادہ طالبان خوش ھیں کہ مہاجرین اپنے ساتھ بہت کچھ لیکر آئیں گے ۔ بہت افغانی بیرون ممالک میں مقیم ھیں جو پاکستان میں اپنی محنت و مشقت کا سرمایہ بھیج رھے تھے اب وہ افغانستان میں جائے گا ۔
طالبان نے اپنے شہریوں کو خیرمقدم کہا ھے ۔
پنجاب میں گندم کی ضلع بندی ھوجاتی تھی جبکہ ایران اور ہندوستان سے افغانستان میں سستا گندم ، چاول ، دالیں ، گھی اور پیٹرول سب کچھ میسر ھے ۔ سیاحت کے لئے بھی لوگ جارھے ھیں ۔ جب حکومت کوئی چیز بھی درآمد کرے گی تو زیادہ آبادی کی وجہ سے ٹیکس بھی ملے گا ۔ پھلوں کے باغات کیلئے خریدار بھی میسر ھوں گے ۔ جب بھی پھلوں کا موسم آتا جے تو پھر سرحد بند ھوجاتی ھے اور اکثر باغات پاکستانیوں نے خریدے ھوتے ھیں جس کا نقصان پاکستانیوں کو ھوتا ھے ۔ پہلے لوگ کہتے تھے کہ جب پاکستان سے ھندوستان کی جنگ ھوگی تو بھارت کا نقصان ھے ۔ اسلئے کہ پاکستان مقروض ھے اور بھارت کی بڑی معیشت ھے ۔ اب سمجھتے ھیں کہ اگر پاکستان اور افغانستان کی لڑائی ھوتی ھے تو پھر طالبان کے پاس لڑنے کے سوا کیا ھے ؟ حکومت کے ساتھ فٹ نہیں ھیں ۔ صحافی سمیع یوسفزئی نے کہا تھا کہ اسرائیل بھی طالبان سے افغانستان کی جان چھڑائے تو افغانی خوش ھوں گے !
لیکن جب پاکستانی کم عقل ولاگروں نے نفرتوں کے بازار کو گرم کیا تو افغانیوں کو پاکستان سے نفرتوں کیلئے متحد کردیا ۔
اب اللہ نہ کرے کہ یہاں سے بھیجے گئے افغانی جو پنجابی اور سندھی زبانوں کو بھی سمجھتے ھیں اور علاقوں سے بھی باخبر ھیں کہ وہ بھی پروکسی کے طور استعمال ھوں ۔ اسلئے کہ افغانیوں کی رسائی پختونخواہ تک محدود تھی لیکن عالمی قوتوں اور ھندوستان کی طرف سے بھرتی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تو پھر اس کے نتائج پنجاب اور سندھ بھی بھگتے گا ۔ ایک طرف مشرقی پاکستان آدھا دھڑ ھمارا جدا ھوگیا پھر بھٹو کو لیڈر بھی بنادیا اور پھانسی پر بھی چڑھا دیا ۔ نوازشریف کی جلاوطنی اور پھر جیل کا مزہ بھی دیکھ لیا ۔ عمران خان کو بندر کی طرح پہلے ڈنڈے پر چڑھا دیا اور پھر چڑیا گھر میں بند کردیا ۔ اگر افغانی پاکستان سے گلہ کریں تو بہت بے غیرت ھیں ۔
17 سیٹوں پر غیر مقبول حکومت مسلط کی اور میڈیا نے ارکان پارلیمنٹ کی خواتین کے ساتھ زبردستی کے جو مناظر رپورٹ کئے تو ھماری طرف سے یہ بنتا نہیں ھے کہ افغان مہاجرین کو صفائی پیش کریں کہ طالبان کی دراندازی نے ھمیں مجبور کیا ھے ۔ پہلے اپنے لوگوں کے گلے شکوے دور کریں دوسروں کا سوچنا تو بنتا نہیں ھے ۔ ایک طرف سارا دن واویلا کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت کرتی ھے اور دوسری طرف پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ھے کہ سیاست میں ھمیں مت گھسیٹو اور پھر حافظ جی سید عاصم منیر حفظہ اللہ قرآن کی آیات پڑھتے ھیں قرآن میں اللہ نے جھوٹ بولنے والوں پر لعنت بھیجی ھے ۔ لیکن ھمارے ھاں سچ کا بہت بڑا فقدان ھے ۔
احمد جاوید جیسے شریف آدمی بھی آخر کار کھلم کھلا سنانے پر مجبور ھوگئے ۔ مجھے آپ سے صرف یہ عرض کرنا تھا کہ بھڑک بازی کی سرخی مت لگاؤ ۔ ایران نے چپ چاپ افغانیوں کو نکال دیا ۔ برطانیہ میں لوگ نکالنے کا مطالبہ کر رھے ھیں اور امریکہ میں بھی نکالا جارھا ھے ۔
لیکن سوچا کہ ۔ ۔ ۔
ایک دفعہ آئینہ سامنے رکھ دیتا ھوں پھر آپ خود ھی تھوڑا اپنے تجزیہ اور عنوان کا خیال رکھیں گے ۔
گدھے سے کسی نے کہا کہ تجھے مار کہاں سے پڑ رھی ھے اور آواز کہاں سے نکل رھی ھے ؟
جب رٹ جنوبی پختونخواہ میں دھشتگردوں نے چیلنج کی ھے تو ان کا صفایا نہیں ھوتا ھے اور غصہ ان پر نکلتا ھے جن کو کچھ خبر نہیں ھے ۔
دنیا بھر میں لوگ زور دار طریقے سے ریح خارج کرنے پر ھنستے ھیں تو ھمیں بھی ٹانگ اٹھاکر فائرنگ سے گریز کرنا چاھئے ۔
صحافت کے آداب ھوتے ھیں ۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ سیاست میں حکمت ھوتی ھے ۔
ھم کیوں محروم ھیں ۔
جھوٹ اتنا بولتے ھیں کہ آخرکار سچ بھی کوئی نہیں سنے گا ۔
اللہ کیلئے ملک پر رحم کریں اور ۔ ۔ ۔
حدود اور قیود کی پاسداری کریں ۔
Pakistan crackdown against Afghan refugees intensified
جنوری 9, 2026
تبصرہ