شگری صاحب! آپ کی نوازش ہے کہ مختلف قسم کی شخصیات سے قوم کو استفادے کا موقع دیتے ہیں۔ محترم نے بہت اچھی اور بنیادی باتیں کی ہیں جس پر خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ البتہ بنی اسرائیل کا گائے کے بارے میں سوال کرنا ان کے اپنے لئے مشکلات کا باعث تھا جیسے ہم وضو اور نماز کو جب مختلف فرائض واجبات سنن اور مستحبات سے بنی اسرائیل کی گائے بناتے ہیں تو مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔
قرآن میں محکم آیات پر بھی غور کرکے معاشرہ قائم نہیں کیا گیا ہے ورنہ آج لوگوں کو عقلی دلائل سے عقیدے کیلئے قائل کرنے سے زیادہ محکمات پر عمل ہی اسلام کی دعوت بنتا
اور متشابہات کے معنی مشتبہ اور ناقابل فہم نہیں بلکہ مشابہ اور نظیریں مراد ہیں۔ جیسے سورہ رحمان میں پہاڑوں جیسے بڑے بڑے جہازوں کا ذکر ہے تو جب تک آیت کی نظیریں دنیا میں نہیں آئیں تو ان کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ عربی میں پہیہ والی گاڑی کو عربہ کہتے ہیں قرآن میں عرباً اترابا قد کے برابر چھوٹی بڑی گاڑیوں کا ذکر ہے۔ جب دنیا میں گاڑیوں کا وجود نہیں تھا تو اس سے حوریں مراد لی گئی تھیں۔ حالانکہ متشابہات کی تفسیر کیلئے اس کی آمد کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔