مولانا صاحب! اللہ تعالٰی نے قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا کہ و قال الرسول یا رب ان قومی اتخذوا ھذا القرآن مهجورا اس امت مسلمہ نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے۔ کیا آپ نے قرآن کو نہیں چھوڑ رکھا ہے؟۔
اللہ نے سورہ بقرہ آیت 228 میں فرمایا کہ طلاق والی عورتیں 3 ادوار تک خود کو انتظار میں رکھیں ۔۔۔۔۔ بعولتھن احق بردھن فی ذلك ان اردادوا اصلاحا اور ان کے شوہر اس عدت میں ان کو لوٹانے کے زیادہ حقدار ہیں بشرطیکہ کہ وہ اصلاح چاہتے ہوں۔ قرآن کی اس آیت سے آپ اس مسئلے کو دیکھ لیں اگر عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تو پھر ایک طلاق کے بعد بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور اگر عورت رجوع کیلئے راضی ہو تو قرآن جھوٹ نہیں بولتا ہے سچ کہتا ہے کہ عدت میں اصلاح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے۔ آپ لوگوں کو قرآن کی تعلیم کیوں نہیں دیتے ہیں؟ ۔
آیت 229 البقرہ پہلی آیت 228 سے متضاد نہیں کیونکہ قرآن میں تضاد نہیں ہوسکتا ہے۔ اس میں الطلاق مرتان فامساک بمعروف اور تسریح بإحسان طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ رخصت کرنا ہے۔ معروف کی شرط سے اصلاح یعنی صلح کی شرط مراد ہے۔
اگر طلاق رجعی کا غلط تصور لیا جائے تو پھر عورتیں ایک نہیں کئی عدتوں پر مجبور ہوں گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن میں تیسری طلاق تسریح بإحسان ہے اور سمجھایا کہ پہلے طہر میں پہلی طلاق یہاں تک کہ حیض آجائے پھر دوسرے طہر میں دوسری طلاق یہاں تک کہ حیض آجائے پھر تیسرے طہر میں چاہو تو رجوع کرلو اور چھوڑنا چاہو تو ہاتھ لگائے بغیر طلاق دو یہ وہ عدت ہے کہ اللہ نے اس میں اس طرح طلاق کا امر فرمایا ہے۔ اس طرح اگر تیسری بار طلاق دی تو پھر اللہ نے فرمایا ہے کہ تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے اس سے میں سے کچھ بھی واپس لو۔ کیا یہ آیت کبھی سمجھنے اور مسئلہ بتانے کی کوشش کی ہے۔
اللہ نے سورہ بقرہ آیت 228 میں عورت سے کہا کہ اس کیلئے حمل چھپانا حلال نہیں اسلئے کہ پھر عدت حمل ہے اور عدت تک دوسرے سے نکاح جائز نہیں اور عدت میں آپس کی صلح کی ترغیب دی ہے اور پھر آیت 229 البقرہ میں تین مرتبہ طلاق کے بعد دیا ہوا مال واپس لینے سے روکنے کے بعد دو شرائط کیساتھ دئیے ہوئے مال میں سے وہ واپس کرنا جائز قرار دیا ہے کہ جب دونوں کو خوف ہو کہ اگر وہ دیا ہوا مال واپس نہیں کیا تو دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔ اور دوسرا یہ کہ فیصلہ کرنے والوں کو بھی یہی خوف ہو کہ اگر وہ مال واپس نہیں کیا تو دونوں میں جنسی اختلاط کا خدشہ اور اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکنے کا خوف ہو تو پھر عورت کی طرف سے اس کو فدیہ کرنے میں دونوں پر حرج نہیں ہے۔ اس میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ تیسری طلاق کے بعد دونوں اور فیصلہ کرنے والوں کا اس پر اتفاق ہے کہ ان دونوں نے آپس میں رجوع نہیں کرنا ہے۔ اس میں عورت کے حقوق کی ضمانت ہے اور اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ
فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ آحناف کے نزدیک اس طلاق کا تعلق فدیہ کی صورت سے ہے ( نورالانوار ملا جیون)
مہربانی کرکے اپنا غلط فتوی واپس لو اور قرآن کو پڑھ لو اگر بالفرض یہ والی صورتحال نہیں ہے کہ وہ رجوع نہیں چاہتے بلکہ ویسے طلاق دی ہے تو آیت 231 اور 232 میں پھر عدت کے بعد بھی معروف اور باہمی رضا مندی کی شرط پر اللہ نے رجوع کا دروازہ بند نہیں کیا ہے اور یہی چیز سورہ طلاق کی پہلی دو آیات میں بھی اللہ نے واضح کی ہے۔ اگر حتی تنکح زوجا غیرہ کو دیکھ لیں تو بہت لوگ رجوع نہیں چاہتے تب بھی اس کو اپنی مرضی سے نکاح کی اجازت نہیں دیتے۔ لیڈی ڈیانا برطانیہ کی تھی اور فرانس میں مروا دی گئی۔ جبکہ قرآن میں طلاق شدہ عورت کا ذکر ہے تو جن احادیث میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو باطل قرار دیا گیا ہے تو ان سے کنواری بھی مراد ہوسکتی ہے۔ میں نے اپنے استاد مولانا بدیع الزمان سے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں عرض کیا تھا تو انہوں نے تائید فرمائی تھی۔
وبعولتھن احق بردھن فی ذلك ان أرادوا اصلاحا کے مقابلے میں متصادم کوئی حدیث ہو تو پھر احناف کا مسلک کیا بلکہ کسی بھی مسلک میں اس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ إمام شافعی کو صرف ایک حدیث ملی ہے لعان کے بعد عویمر عجلانی والا واقعہ لیکن اس میں فحاشی کے بعد ویسے بھی گھر سے نکلنے اور نکالنے کی اجازت ہے اور قرآن میں کوئی آیت ایک دوسرے سے متصادم نہیں لیکن قرآن کی طرف کیوں نہیں دیکھتے؟۔
ایسے غلط فتووں کی وجہ سے لوگ ملحد بنتے جارہے ہیں مولانا صاحب قرآن کو تھوڑا وقت دو۔