رضیہ محسود کی صحافت پر اعتراض کرنے والے جمعیت علماء اسلام کی خواتین کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں برداشت کرتے ہیں۔ جو میڈیا پر بھی آئے روز آتی ہیں لیکن دونوں چیزوں میں فرق کو روا رکھنا اسلام نہیں نفاق کی علامت ہے۔ ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جنگ کی قیادت کی تھی اور وزیرستان میں کوئی پردہ نہیں تھا۔ مولانا عبدالرشید اس بات سے نمایاں ہوگئے ہیں لیکن کوئی عزت نہیں کمائی۔ اگر اسلامی تعلیمات کے نام پر حلالہ کی لعنت کو جواز بخش دیا جاتا ہے اور کسی خاتون کو کمزور سمجھ کر اس کی کردار کشی کی جاتی ہے تو یہ انتہائی گھٹیا روش ہے۔ مولانا عبدالرشید نے کسی پی ٹی ایم کی خاتون پر بھی بہتان لگائے۔ مولانا فضل الرحمان کے کندھے پر جس طرح مریم نواز نے اپنا سر رکھا پی ٹی ایم کے قائدین کہیں بھی ایسے نظر نہیں آئے۔ غیرت کا تقاضہ یہ ہے کہ جمعیت علماء اسلام کو چھوڑ دیتا یا جمعیت علماء اسلام اس کو شٹ اپ کی کال دیتی۔ عورت کو حق مہر کے نام پر بیچا جائے اور جائیداد سے محروم کی جائے اور حلالہ کی لعنت پر مجبور کیا جائے تو قرآن نے سورہ مجادلہ کے ذریعے یہ تعلیم دی ہے کہ عورت سے بہتر کوئی مبارز نہیں ہے۔ بینظیر بھٹو اور مریم نواز اپنے خاندانوں میں سب سے بہترین مبارز ہیں۔ قاضی طاہر دلائل کے ساتھ بات کریں گے تو پھر معاملات بہتر ہوں گے۔
South Waziristan’s only female journalist faces criticism from religious and political leaders
اکتوبر 6, 2025
تبصرہ