تبصرہ عتیق گیلانی
————
مولانا رشید احمد گنگوہی ، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے مرید تھے ، جس نے عرس اور دیگر 6 مسائل پر فیصلہ ہفت مسئلہ رسالہ لکھا تھا اور مولانا اشرف علی تھانوی نے اس کو شائع کیا اور باقی مرید برگشتہ ہوگئے تھے ۔
اسلئے ۔ ۔ ۔
تھانوی صاحب ہی اپنے مرشد کے اصل جانشین ثابت ہوئے ۔
اور ۔ ۔ ۔
دیوبندی مکتبہ فکر میں تھانوی صاحب نہیں ہوتے تو تصوف کا سلسلہ ختم ہوجاتا ۔
مولانا رشید احمد گنگوھی ، علامہ ابن تیمیہ اور عبدالوہاب نجدی سے متاثر تھے اسلئے علامہ عبد الحی لکھنوی کا فتاویٰ بھی فتاویٰ رشیدیہ میں نقل کیا ، جس میں 3 طلاق کو ایک قرار دیا گیا ہے ۔
جبکہ !
مولانا احمد رضا خان بریلوی کی کتاب حسام الحرمین کے جواب میں علماء دیوبند نے اپنی کتاب المہند علی المفند میں عبدالوھاب سے اپنی برات کا اعلان کیا ۔
پھر ۔ ۔ ۔
سعودی عرب میں موجودہ وہابی حکومت آگئی ۔
تو ۔ ۔ ۔
دیوبندی مولانا گنگوھی کی فکر کو آگے بڑھانے لگے ۔
شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے اس تذبذب سے کیا سیکھا ؟ 1920 ء میں جب مالٹا سے رہا ہوکر آئے تو زندگی کے آخری ایام میں قرآن کی طرف رجوع اور فرقہ واریت کے خاتمے کو امت کے عروج کیلئے ضروری قرار دیا ۔
مگر !
شاگردوں میں سے مولانا عبیداللہ سندھی کے علاوہ کسی نے نہیں بات مانی ۔
پھر 1933 ء میں مولانا انور شاہ کشمیری نے اپنی وفات سے پہلے فرمایا کہ ۔ ۔ ۔
ساری زندگی ضائع کردی قرآن و حدیث کی جگہ فقہ کی وکالت کرتا رہا ہوں ۔
اور پھر ۔ ۔ ۔
علامہ یوسف بنوری نے اپنا مدرسہ اسلئے نہیں کھولا تھا کہ مزید مولوی پیدا کریں ۔
بلکہ ۔ ۔ ۔
علماء کو صحیح اور ٹھیک ٹھاک علماء بنانے کیلئے مدرسہ قائم کیا تھا ۔
تخصص فی الفقہ الحدیث القرآن اور اللغۃ العربیہ وغیرہ کی تعلیم دینی تھی ۔
لیکن پھر ۔ ۔ ۔
دارالعلوم کراچی نانکواڑہ سے شرافی گوٹھ منتقل ہوگیا اور علماء و طلبہ گلے پڑگئے ۔
مفتی رشید احمد لدھیانوی نے بھی دارالافتاءوالارشاد اسی طرز پر ہی بنایا تھا ، اور تین سال کی جگہ ایک سال میں مفتی کا کورس اور ساتھ میں تصوف کی بھی خلافت دیتے تھے ۔
لیکن !
اتنی چھوٹی ذہنیت کہ ۔ ۔ ۔
تصوف سے بے خبر ، اخبار سے نابلد اور اپنے سوا ہرچیز سے نفرت ۔
جب!
لیکن پھر ۔ ۔ ۔
اسکول اخبار اور سب کچھ پر آخری زندگی میں دماغ کھل گیا ۔
اگر ہر عالم کی جوانی اور عمر ضائع ہو اور آخر میں یہ ہوش آئے کہ ۔ ۔ ۔
زندگی ضائع کردی ھے ۔
تو یہ تجربہ گاہ ہمیشہ کیلئے نہیں ہونا چاہیے ۔
جب میں نے پہلی بار جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلے سے پہلے مولانا یوسف لدھیانوی سے سنا کہ ۔ ۔ ۔
قرآن کا مصحف اللہ کی کتاب نہیں ہے ، تو بڑی حیرت ہوئی ۔
پھر درجہ اولی میں مفتی عبدالسمیع کے ساتھ بحث ہوئی اور پتہ چل گیا کہ ان کو بھی معلوم نہیں تھا ۔
پھر درجہ رابعہ میں مفتی عبدالسمیع شرح جامی پڑھاتے تھے اور مولانا بدیع الزمان نورالانوار پڑھاتے تھے اور مجھے معلوم ہوا کہ ایک استاذ اپنے فن کو سمجھتے ہیں مگر اصول فقہ میں قرآن کی تعریف سے ناواقف ہیں ۔
پھر جب ۔ ۔ ۔
مفتی تقی عثمانی کی کتاب میں سورہ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے جائز لکھنا دیکھ لیا تو بڑی حیرت ہوئی ۔ اور ۔ ۔ ۔
ان کو بھی پتہ نہیں تھا کہ یہ اصول فقہ کی غلط تعریف کا نتیجہ ہے ۔
ضرب مومن اور اسلام اخبار میں ان کا مضمون وغیرہ شائع ہوا تھا ۔
مولانا محمد خان شیرانی ، مولانا فضل الرحمان کے بھائی مولانا عطاء الرحمان اور قاری محمد عثمان سے بات ہوئی تو وہ بھی اصول فقہ کی غلط تعریف پر پریشان ہوئے ۔
اور ۔ ۔ ۔
مدینہ یونیورسٹی میں تخصص پڑھانے والوں سے بات ہوئی تو وہ بھی پریشان ہوگئے اور کہا کہ اگر ہم نے اس پر بات کی تو بڑے نتائج بھگت سکتے ہیں ۔
مفتی محمد نعیم میرے مقامات الحریری کے استاذ تھے ، انہوں نے بھی کہا کہ واقعی ہم کفر پڑھاتے ہیں ۔
مولانا عبدالکریم عابد کراچی مفتی سعید خان چھتر پارک اسلام آباد ، تربت اور کوئٹہ بلوچستان سے لاہور تک بہت لوگوں کو پیغام پہنچایا گیا ہے ۔
مفتی ولی مظفر اور قابل علماء و مفتیان کو ساتھ ملائیں اور پاکستان سے اسلام کا جھنڈا بلند کریں ۔
پھر دیکھنا ۔ ۔ ۔
دارالعلوم دیوبند سے افغانستان کے طالبان تک کسی کا وقت ضائع نہیں ہوگا ۔
قرآن کے حافظ سید عاصم منیر آرمی چیف ہیں اور جنرل عاصم ملک PHD ڈاکٹر ہیں ۔
یہ سنہری موقع ھے
————–
The difference between Hazrat Gangohi (RA) and Hazrat Nanotvi (RA) | Mufti Abdul Raheem
جنوری 11, 2026
تبصرہ