کامران یوسف صاحب ! آپ کا یہ کمال ہے کہ دونوں طرف کی سوچ کو اڈریس کرتے ہیں۔ دوا کیا ہے اور اس کے سائیڈ ایفیکٹ کیا ہیں؟ ۔ امریکہ سے دشمنی اور دوری میں پاکستان کے بڑے فائدے ہیں۔ اور حسین حقانی نے بھی اس کو مثبت قرار دیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب نوازشریف اپوزیشن میں تھے تو لندن سے راشد مراد ایم آر ٹی وی لندن اردو اور پنجابی میں کیا بکتے تھے کہ پشاور آرمی پبلک سکول کا واقعہ بھی پاک فوج نے عمران خان کو دھرنے سے باعزت اٹھنے کیلئے کروایا ہے۔ اتنی گھٹیا سوچ رکھنے والے کو آج تک کٹہرے میں اسلئے نہیں لایا جاسکا کہ اس کی پارٹی اقتدار میں آگئی ہے۔ اور کل تک جو پاک فوج کے ٹاؤٹ اور عمران خان کے حامی تھے وہ آج کے راشد مراد ہیں۔
ایک دوسرا طبقہ ہے جو وائس آف امریکہ کے خاتمہ سے بے روزگار بن گیا ہے۔ وہ پھر علاقائی معاملات میں پاک فوج کی کردار کشی کی کوشش جانے ان جانے میں کرتا ہے۔ ایسے میں ماحولیاتی آلودگی بہت بڑھ گئی ہے لیکن ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر ہوجائیں۔ اگر بھارت اور افغانستان سے تعلقات بہتر ہوگئے تو چکی کے دو پاٹ میں پس جانے سے بچ جائیں گے بصورت دیگر ہماری چڈی بھی اترسکتی ہے۔ اسلئے کہ اگر امریکہ نے افغانستان میں انتشار کو ہوا دی اور ان کو باگرام ائیربیس دینے پر مجبور کیا تو افغانی نژاد امریکی زلمے خلیل زاد افغانستان اور امریکہ میں پاکستان کے قبائلی علاقوں کی قیمت پر بھی معاہدہ کراسکتا ہے۔ اگر افغانستان کو یہ لالچ دیا جائے کہ خیبرپختونخواہ واپس تمہیں لیکر پاکستان سے الگ کردیں گے اور امریکی کمپنیوں کو معدنیات دئیے جائیں تو پاکستان ٹوٹ جائے گا۔
اور دوسری طرف اگر کشمیر کو واپس دلانے میں ہماری مدد کرے اور پھر دونوں ممالک کو اپنا اسلحہ بیچتا رہے تو امریکہ کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور ہمارا سر کڑاہی میں ہوگا۔ بھارت اگر اطلاع دئیے بغیر سارے ڈیموں کا پانی بیک وقت چھوڑ دیتا تو پنجاب اور سندھ سمندر میں پہنچ جاتے امریکہ سے دوستی تو ساری دنیا کی خواہش ہے۔ پاکستان خوش قسمت ہے کہ دشمنوں کی صف میں نہیں ہے۔ لیکن جنرل ضیاء الحق نے کہا تھا کہ کوئلے کے کاروبار میں منہ کالا کرنے کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اور نیٹو کیلئے فرنٹ کا کردار ادا کرنے کے بعد اپنی عزت لٹوانے کے دعووں سے پھر کیا حاصل ہوا؟۔ اگر یہ کہا جائے کہ دو دفعہ ایک سوراخ سے ڈسنے کے بعد ایک تیسرا چانس لینے میں کیا حرج ہے؟ یا پھر منہ پہلے ہی سے کالا ہے تو مزید کیا کالا ہوگا؟ تو پھر ایک اور مرتبہ مملکت کو خودکشی سے بچانا بہت مشکل ہے اور میری رائے یہ ہے کہ ٹرمپ پاگل انسان ہے۔ اگر شہباز شریف کو خوش آمدید کہا ہے تو اس کو جتنا انتظار کروایا ہے وہ بنتا تھا اور ٹائم پاس کرنے کیلئے کسی مصیبت میں چھلانگ لگائے بغیر اپنے مفادات حاصل کرنے چاہئیں۔