تبصرہ
حسن آلہ یاری نے قرآن کی آیت میں دجل سے کام لیا ہے۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے یہ نہیں کہا تھا کہ اگر سامری کے شرک سے میں منع کرتا تو مجھے بنی اسرائیل قتل کردیتے۔ قتل سے نہ حضرت ہارون علیہ السلام خوفزدہ ہوسکتے تھے اور نہ علی رضی اللہ عنہ۔ حضرت ہارون نے عرض کیا تھا کہ اگر میں بنی اسرائیل کو منع کرتا تو کچھ لوگ بات مانتے اور کچھ نہیں مانتے جس کے نتیجے میں وہ تقسیم ہوجاتے اور پھر آپ کہتے کہ آپ نے ان کو تقسیم کیوں کردیا ہے؟۔ حضرت علی کو ابوسفیان نے دعوت دی تھی کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہٹاتے ہیں لیکن حضرت علی نے امت کو تقسیم سے بچایا تھا۔ قرآن اور حضرت علی کے برعکس الہ یاری کی ماں پر موجودہ دور کا کوئی ابوسفیان چڑھ گیا ہے جو تفرقہ بازی کو ہر قیمت پر ہوا دیتا ہے حالانکہ حضرت ابوسفیان پھر رک گیا تھا۔