تبصرہ عتیق گیلانی
————
پاک فوج کے نام پر افغانیوں کو گالیاں دینے کے بجائے اپنی شناخت کوئی دوسری رکھتے تو اچھا تھا ۔ گالیوں اور نفرتوں کے نتائج خدانخواستہ اگر یہ نکل گئے کہ ۔ ۔ ۔
پاکستان میں وہ امریکہ بیٹھ گیا جو اسرائیل اور یہودیوں کی ملٹی نیشنل کمپنیوں پر چلتا ھے اور افغانستان میں کوئی ایسی قوت آگئی جو اسرائیل کو امریکی کمپنیوں کے ایما پر بلائے تو اس خطے کی عوام الناس بہت مشکل کی طرف جاسکتی ھیں ۔
نور جہاں کے گانوں اور پشتون گلوکاروں کے حب الوطنی پر مبنی گانوں نے 71 کی جنگ میں لوگوں کے اندر اچھے جذبات کی آبیاری کی تھی لیکن گالی گلوچ کے ساتھ گالیاں دینے والے کی شناخت پر اچھا اثر نہیں پڑتا ھے !
طالبان کی حکومت کو افغانستان کے لوگ بھی بدلنا چاھتے ھیں ، ان کی زندگی اجیرن ھے اور اچھے اخلاقیات اور طاقت کا مقابلہ طاقت سے ناگزیر ھے ۔
زبان دلیل اور افہام وتفہیم کیلئے ھوتی ھے ۔
سوشل میڈیا پر معاشرے کا کردار ویسے ھی روز روز کی نئی خبروں سے گالی بنتا جارھا ھے ۔
جب اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر نرم لہجے سے بات کریں گے تو ۔ ۔ ۔
ھمارے معاشرے پر اس کا اچھا اثر پڑے گا اور اللہ نہ کرے کہ ۔ ۔ ۔
عالمی قوتوں کے درمیان ھماری قوم کبھی مشکلات کا شکار بنے ۔
جب مشکلات آتی ھیں تو پھر بسا اوقات معاشرے تباہ ھوجائے ھیں ۔
جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے غزوہ حنين میں اپنی کثرت پر اعتماد کیا تو وہ آزمائش بن گیا ۔
بنگالیوں کو کمزور سمجھا گیا تو پاکستان آزمائش میں پڑگیا ۔
پاکستانی قوم ویسے بہت عاجز مخلوق ھے !
بھارت نے تکبر کیا تو منہ کی کھالی !
حالانکہ ۔ ۔ ۔
پاکستان نے کوئی بھڑک نہیں ماری اور اب بھی پاکستان نے عرصہ دراز سے طالبان کی طرف سے جنازے اٹھا کر بہت حوصلے سے کام لیا ۔
کابل میں حملے کا اعتراف بھی نہیں کیا اور کابل کی طرف سے کسی جانی نقصان کی خبر بھی نہیں آئی ۔
لیکن !
پھر بھی بہت بڑے پیمانے پر حملہ کیا تو پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں بہت کم جواب دیا جس پر طالبان کو دل سے شکریہ ادا کرنا چاھئے تھا ۔
اب دھشت گردوں نے حملے روک دیئے ھیں تو اس ماحول کو برقرار رکھنا چاھیے ،
اور اگر وہ نہیں رکے تو وھاں کے لوگ بھی ان کے مخالف بن جائیں گے ۔
روس اور امریکہ کے خلاف 45 سال کی جنگ میں وہ گالیاں نہیں آئیں جو ابھی دی جارھی ھیں !
حالانکہ ۔ ۔ ۔
امریکہ نے پاکستان کو گالی دی تھی کہ اپنی ماں بھی بیچ دیتے ھیں ۔
جب طاقتور اور کمزور کا مقابلہ ھوتا ھے تو طاقتور کو گالیوں کی ضرورت نہیں پڑتی ھے ۔
جب کوئی گالی پر اترتا ھے تو پھر مثال دی جاتی ھے کہ ۔ ۔ ۔
بھونکنے والا کاٹتا نہیں ھے
ایسے ویلاگ مت بناؤ جس سے اعصاب پر کوئی دوسرا سوار دکھائی دے ۔
پاکستان ماشاءاللہ مضبوط ھے اور اس نے افغانیوں کی واقعی بہت مدد کی ھے ۔
اسلام آباد میں آج بھی جس طرح طالبان کے خوف سے افغانیوں کے مرد اور خواتین بیٹھے ھوئے ھیں پاکستانی کابل میں اس طرح بیٹھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ھیں اور یہ پاکستان کی اخلاقی برتری ھے ۔
اور ۔ ۔ ۔
اس کو ھمیشہ برقرار رکھنے کی ضرورت ھے۔
Waqas Walana VLog || #360digital
جنوری 9, 2026
تبصرہ