سبوخ سید صاحب ! آپ کو اللہ اپنے حفظ وأمان میں رکھے۔ قرآن کی اس آیت میں دو چیزوں کا ذکر ہے ایک قتل اور دوسری فساد۔ اور پھر غیرت کے نام پر قتل کے معاملے کو اٹھایا ہے۔ غیرت کی بھی دوقسم ہیں۔ جب ڈاکو کسی کا مال چھین کر فرار ہونے کی کوشش میں مارا جاتا ہے یا ڈکیتی کے دوران یا واردات ڈالنے کے ارارے سے جب آتا ہے تو یہ بھی فساد فی الارض والی غیرت ہے۔ اور اسلام کسی کو ڈکیتی کی اجازت نہیں دیتا۔ اس سے معاشرے میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔ ریاست پر بوجھ نہیں پڑتا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص جب مال کیلئے غیرت کرتا ہے اور اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے تو اگر اس کی عزت پر اور اس کی خواتین کی عزت پر جبراً کوئی ہاتھ ڈالے تو بدرجہ اولی یہ فساد فی الارض ہے۔ اور اس قتل پر بھی غیرت کے قتل کا اطلاق ہوتا ہے۔
اللہ تعالٰی نے مومن عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب گھر سے باہر نکلیں تو ایسا لباس پہن لیں کہ وہ پہچانی جائیں کہ بدکار عورتیں نہیں تو ان کو اذیت نہ دی جائے گی۔ عورتوں کی عزتوں کو خراب کرنے اور الٹی سیدھی غلط افواہیں پھیلانے والوں کو سخت مجرم قرآن نے قرار دیا ہے اور خبر دی ہے کہ یہ مدینہ میں نہیں رہیں گے مگر کم عرصہ ملعونین اینما ثقفوا اخذوا فقتل تقتیلا "یہ ملعون لوگ ہیں جہاں بھی مہذب بنایا جائے پکڑا جائے گا اور قتل کردیا جائے”۔ اللہ نے کم عرصہ تہذیب وتمدن اور ثقافت وآگاہی کیلئے لگایا ہے۔ پنجاب کی سی سی ڈی نے جبری جنسی زیادتی اور ہراسمنٹ پر پولیس مقابلے کی جو ثقافت شروع کردی ہے یہ بھی غیرت کے نام پر قتل ہے۔ لیکن اس غیرت کے نام پر قتل کی ثقافت کی قرآن ترویج کرتا ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ تم لوگوں سے پہلے لوگوں میں جاری سنت ہے۔ آج پوری دنیا میں جنسی ہراسمنٹ کے خلاف سعودی عرب سمیت سخت قوانین ہیں لیکن ہمارا بے غیرت مذہبی طبقہ جبری جنسی زیادتی پر بھی چار مرد کی چشم دید گواہوں کی بات کرتا ہے اور عورت کی گواہی کو معتبر بھی نہیں سمجھتا ہے اور تین افراد بھی گواہی دیں تو ان پر 80 کوڑے قذف کی حد لگانے کے اسلامی قانون کی بات کرتا ہے کہ اسلام میں جبر اور باہمی رضا مندی کی زنا میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی گواہی پر جس کے ساتھ جبری جنسی زیادتی کی گئی تھی سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ دلے اور بے غیرت مولوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم شریعت کے خلاف دیا اور جو شخص سنگسار ہوا تھا تو اس نے اقرار جرم کیا تھا کہ غلط آدمی کو سزا دی جارہی ہے میں نے یہ جرم کیا ہے اور پھر اسی کو سزا دی گئی۔ حالانکہ اگر دوسرا شخص اقرار نہیں کرتا اور پہلے کو سزا مل جاتی تو بھی اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ عورت کی گواہی زنا بالجبر میں قابل قبول ہے۔ اور دوسرا یہ بھی کہ دیکھنا ہوگا کہ جس کے خلاف گواہی دی گئی تو اگر کوئی شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمان کی جگہ اس کا شاگرد یا بیٹا کھڑا ہوگا کہ صابر شاہ کے ساتھ میں نے غلط کیا مجھے سزا دی جائے تو اقرار کرنے والے کو نہیں اصل مجرم کو سزا دی جائے گی نہیں تو جب کرائے پر خودکش ملتے ہیں تو کرائے پر اقرار کرنے والے بھی مل جائیں گے۔
سبوخ سید صاحب ! آپ مخلص، قابل، باصلاحیت اور اچھے انسان ہیں۔ اب آتے ہیں اس غیرت کے نام پر قتل پر جس کی آپ بات کرتے ہیں تو اس کیلئے سورہ نور کا ایک حوالہ کافی ہے کہ بیوی کو گھر میں رنگے ہاتھوں پکڑنے کے باوجود بھی قتل نہیں کرسکتے اور لعان میں مرد سچ اور عورت جھوٹ بولے تب بھی وہ سزا کی مستحق نہیں بلکہ اس سے سزا اٹھالی جائے گی۔ یہ وہ بنیادی نکتہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں قرآن کی بات نہیں مانتا بلکہ قتل کروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا کہ تمہارا صاحب کیا کہتا ہے؟۔ انہوں نے عرض کیا کہ یہ بہت غیرت والا ہے۔ جب بھی شادی کی کنواری سے کی طلاق شدہ اور بیوہ سے نہیں کی اور جس کو طلاق دے دی تو اس کو کسی اور سے نکاح نہیں کرنے دیا (صحیح بخاری )
انصار نے اپنے سردار کو ڈھال بنایا لیکن لعان کے حکم پر اس ثقافت میں عمل بہت مشکل تھا۔ آج مغرب میں قرآن کا یہ قانون نہ صرف سمجھ میں آئے گا بلکہ ہدایت کا ذریعہ بھی بن جائے گا کہ 1450 سال پہلے یہ قانون نازل ہوا تھا تو قرآن واقعی نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی ہے بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالٰی نے طلاق کے بعد بار بار عدت میں رجوع کو باہمی رضا مندی سے مشروط کیا ہے اور ایک آیت البقرہ 230 میں اس غلط رسم کا خاتمہ کیا ہے کہ عورت کو ایسی طلاق دی جائے کہ جب اصلاح کا ارادہ نہیں تو اس کو دوسری جگہ اپنی مرضی سے نکاح کرنے دیا جائے۔ مقصد غلط غیرت کا خاتمہ تھا جس پر لیڈی ڈیانا فرانس میں قتل ہوئی اور برطانوی شہزادے چارلس کو طلاق کے بعد لیڈی ڈیانا کی دوسری جگہ شادی اس کی عزت و غیرت کے خلاف لگی۔ حالانکہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات میں باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رضا مندی کی بنیاد پر رجوع کی اجازت ہے لیکن پھر بھی حلالہ کی لعنت ہماری تہذیب وثقافت کی ایسی بنیاد بن چکی ہے کہ اگر کسی کو حقائق کا پتہ چل جائے تو بھی معاشرے میں اس بے غیرتی پر مجبور کردیا جاتا ہے کہ حلال نہیں کروائی ہے حرام کاری سے محلہ میں لعنت برس رہی ہے۔ اسلئے حلالہ کی لعنت کو علامہ بدرالدین عینی حنفی، بخاری کے سب سے بڑے حنفی شارح نے دو خاندانوں کے جوڑنے کی نیت سے کار ثواب قرار دیا ہے اور امام ابن ھمام نے بھی یہی کیا ہے۔ غیرت اور بے غیرتی کے جس جھولے شاہ میں مسلمان قوم مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک جھول رہی ہے اس میں آپ کی آواز نمرود کی آگ کو بجھانے والی چڑیا سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن اپنا کام جاری رکھیں۔ افغانی وکیل کو کڑتو کہتے ہیں ویسے تو امیر امان اللہ خان کے دور میں میرے والد کے فسٹ کزن چچا زاد نے افغانستان میں اخبار نکالا تھا مگر بادشاہت کی وجہ سے صحافیوں کی شاید زیادہ اہمیت نہیں تھی۔ آج بڑے صحافی پیدا ہوگئے ہیں اور ہمارے ہاں کڑتو کہنے کی حقدار صحافی برداری ہے جس کو کہنے کیلئے کچھ نہ کچھ چاہیے ہوتا ہے بھلے کوئی سنے یا نہیں؟۔ موثر ہو یا نہیں؟۔ مجھے ہے حکم آذان اور پھر میرے پسندیدہ صحافی سبوخ سید اور شہر یار وڑائچ قرآن کے بھی حوالے دیتے ہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا بھی لیکن ٹھوس حقائق کے ذریعے قوم سدھر سکتی ہے۔