آپ نے جو عنوان لگایا ہے اور پھر کہا ہے کہ اہل حدیث نے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے تو مفتی طارق مسعود اور مفتی عبدالرحیم دیوبندی ہیں اہل حدیث تو نہیں ہیں؟۔ جب مفتی طارق مسعود نے خود گستاخی کی تو وہ قابل قبول تھی لیکن انجینئیر مرزا محمد علی کیلئے نرم گوشہ رکھا تو ناقابل معافی جرم بن گیا؟۔ وہ فوج کا بندہ تھا اور اس کیلئے فوج نے ٹھیک کیا۔ لیکن محمد علی مرزا فوج کا بندہ نہیں اور مفتی طارق مسعود کے ذریعے اس کی معافی کی بات کرارہی ہے تو فوج کو سلام۔ لیکن مفتی طارق مسعود غلط ہے؟۔ یہ افغانی پلاؤ بڑا اچھا ہے جس میں ہلکا میٹھا بھی ہے۔ لیکن مفتی طارق مسعود اور مفتی عبدالرحیم کو مسلک سے نکالنے کا اعلان مفتی تقی عثمانی کو کرنا چاہیے تھا۔ پگڑی اہل حدیث نے تو نہیں پہنائی ہے۔ آپ ایک کام کرلیں کہ مولانا عبدالعزیز کے ساتھ نکلنے والی عورتیں تو لوگوں نے میڈیا پر دیکھ لیں لیکن غازی عبدالرشید کے ساتھ شہید ہونے والی سینکڑوں بچیوں میں سے ایک فیصد کے نام اور پتے لکھ دیں۔ مثلا چار سو یا تین سو شہید ہوگئی ہیں تو چار یا تین کے نام اور والدین کے نام اور پتے بتا دیں۔ مفتی عبدالرحیم نے شاید چیلنج کیا ہے اسلئے مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ عورتوں کے نام نہیں بتایا کرتے۔ میری اپنی بہن اور بھانجی 2007 میں شہید کردی گئی تھیں اور میں نام نہیں لیتا۔ لیکن کس کی بہن اور بیٹی تھی اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ام حسان کی طرح بنت حسان یا اخت حسان کہہ سکتے ہیں۔ جس چوکیدار نے بتایا کہ ایک داخلہ لینے والی بچی کی بہن شہید ہوئی تھی اور اس کی 15 پڑوسن بھی شہید ہوئی تھیں جس کو داخلہ نہیں مل سکا تو ان کے کچھ نام اور پتہ بتائیں۔
مولانا فضل الرحمان مرکزی یا تحریک انصاف صوبائی یا مریم نواز پنجاب حکومت سے غریبوں کو مدد بھی فراہم کرنے میں فخر محسوس کریں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جامعہ حفصہ سے مالی امداد کی خواہش سے جھوٹ بول دیا ہو جیسے جب مولانا طارق جمیل کے بیٹے کا انتقال ہوا تھا تو ایک پٹھان مولوی نے جھوٹ بولا کہ اتنے لاکھ مرتبہ ورد کرکے اس کو بخش رہاہوں۔ میری ہمدردی مظلوم کے ساتھ ہوتی ہے لیکن مظلومیت کے نام پر جھوٹ بولنے سے نفرت ہے۔ منظور پشتین کی قوم محسود کے پاس طالبان کا ہتھیار آیا تھا تو بیٹنی قوم کے خلاف اور جہاں کمزور دیکھ لیا تو اس پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے لیکن پھر بھی محسود قومی موومنٹ بنائی کہ ہمارے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔ حالانکہ جن پر ظلم کیا تھا تو ان سے معافی مانگتے لیکن اپنا "گو” ہر شخص چھپاتا ہے۔ مفتی کفایت اللہ مفتی اعظم ہند نے کفایت المفتی میں قادیانی عورت سے اہل کتاب کی طرح نکاح کو جائز قرار دیا لیکن علماء دیوبند نے اس کے خلاف کوئی ردعمل نہیں دیا بلکہ پچھواڑے میں فتوی چھپادیا۔ کوئی اور کہتا تو بہت شور اٹھتا۔ مفتی تقی عثمانی نے فتاوی عثمانی میں شیعہ کے ساتھ نکاح کو جائز بھی قرار دیا اور ناجائز بھی تاکہ حافظ سید عاصم منیر فیلڈ مارشل کو الگ فتوی دیا جائے اور غریب کو الگ۔ اب فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سپاہ صحابہ کے قائدین سے پوچھ لیں تو کہنا ہے کہ اس پر ہماری جان بھی قربان ہے۔ ہم تو پہلے بھی سعودی عرب کے حکمرانوں سے پیسہ لیتے تھے اور ان کیلئے رعایت رکھتے تھے۔ لیکن فضل الرحمان کو بلیک میل کرنے کے لیے کہتے تھے کہ جو کافر نہیں بولے وہ بھی کافر۔ اس منافرت اور منافقت کو سمجھنے کیلئے PHD کی ضرورت نہیں ہے اخلاص اور انسانیت چاہیے۔
❗Allama Hisham ilahi zaheer expose mufti Abdul Raheem || اہلحدیث علماء جامعہ رشیدیہ والوں پر برس پڑے
اکتوبر 6, 2025
تبصرہ