حسن الیاس صاحب ! میں علماء کرام اور صوفیاء عظام کا وکیل صفائی نہیں ہوں۔ لیکن غامدی جی جو تصویر آپ پیش کررہے ہیں معاملہ اس کا ایسا ہے نہیں!
طلاق پر اس نے جو مؤقف اختیار کیا ہے بظاہر اس نے علماء کرام اور فقہاء عظام کو بڑی حد تک رعایت دی ہے کہ
"اکٹھی تین طلاق پر دوقسم کے اجتہاد ہیں جس کا قرآن میں مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے دونوں کی گنجائش ہے۔ اگر کوئی نیت کا اعتبار کرکے تین طلاق کو ایک قرار دیتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اجتہاد کیا تھا اور کوئی نیت کو قبول نہیں کرتا اور تین طلاق کو تین قرار دیتا ہے تو حضرت عمر نے یہ اجتہاد کیا تھا۔ اس کو مقبولیت مل گئی۔ لیکن تجربات سے معلوم ہوا کہ امت اس کی وجہ سے حلالہ جیسے مکروہ فعل تک پہنچ گئی۔ اسلئے اب ہمیں پہلے اجتہاد کی طرف لوٹنا چاہیے۔ رکانہ بن عبد یزید نے تین طلاق دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نیت پوچھی تو اس نے کہا کہ ایک کی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم دی اور اس نے قسم کھائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طلاق قرار دی۔ لیکن اس میں یہ گنجائش تھی کہ اس کی نیت کو رد کردیتے جیسے سیدنا عمر نے کیا”۔
ہمارے ایک دوست ملک اجمل کے ضعیف ریٹائرڈ سکول ٹیچر والد تھے ان کا حافظہ کام نہیں کرتا تھا کسی کا بتایا جاتا کہ تمہارا شاگرد ہے تو دعا دیتے تھے کہ ہوسی لیکن ایک ایسے ساتھی جس نے سکول نہیں پڑھا تھا کا کہا گیا تو اس نے پہچان لیا کہ اس کو سکول کی ہوا بھی نہیں لگی ہے تو برملا کہا کہ اے نہیں ہوسگ دا یہ نہیں ہوسکتا۔
غامدی صاحب کو مدرسہ کی ہوا نہیں لگی ہے اسلئے یہ الٹی سیدھی حرکتیں کررہا ہے۔ اجتہاد کے بارے میں غامدی صاحب نے صرف سن رکھا ہے کہ اس میں خطا اور صواب کا امکان ہوتا ہے۔ لیکن یہ نہیں سمجھتا کہ اجتہاد کیا ہے؟۔ اور اس مثال سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے مثال کے طور پر امام ابوحنیفہ کا اجتہاد ہے کہ خون سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور امام شافعی کا اجتہاد ہے کہ خون سے وضو نہیں توٹتا ہے۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ خون نکلا تو نیت کیا تھی؟۔ اور اس کو ایک قبول کرے اور دوسرا قبول نہیں کرے۔ دونوں کا اتفاق ہے کہ ریح خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے لیکن اب ایک نیا مجتہد کھڑا ہوجاتا ہے کہ
إمام صاحب نے تین زور دار پاد مارے اور پھر اس سے پوچھا جائے کہ نیت ایک کی تھی یا تین کی؟
اگر حسن الیاس سورہ طلاق کے مطابق پہلے طہر میں پہلی طلاق دے جیسا کہ غامدی صاحب نے بتایا اور دوسرے طہر میں دوسری طلاق دے اور تیسرا طہر شروع ہوتے ہی تیسری طلاق دے تو بھی قرآن کا حکم ہے کہ عدت میں میاں بیوی ساتھ رہیں گے اسلئے کہ عدت میں عورت دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی ہے اور باہمی رضا مندی سے رجوع کا امکان باقی رہتا ہے لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا پھر جب عدت پوری ہو تو بھی اللہ تعالٰی نے واضح کیا کہ معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو۔ یعنی عورت راضی ہو تو پھر رجوع ہوسکتا ہے اور چھوڑنا ہے تو اس پر دو عادل گواہ بھی بنالو اور پھر بھی اللہ نے رجوع کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ رکانہ کے والدین کا یہی قصہ حدیث میں موجود ہے جو سورہ طلاق کے مطابق تھا لیکن جاوید غامدی حدیث کو ایسا پیش کرنا ہے کہ
حسن الیاس تم نے پہاڑوں پر اپنی گاڑی چڑھائی تھی تو بتدریج گیر بدلنے تھے لیکن ایک دم تینوں گیر ڈال دیئے تو اب میکینک کی مرضی ہے کہ تمہاری نیت کا اعتبار کرے یا نہیں؟
اگر رکانہ کی کوئی واقعی ایسی روایت ہے تو اس کو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ رکانہ کی بیوی راضی تھی اور رکانہ چھوڑنا چاہتے تھے جو اکٹھی تین طلاق دے کر بھی چھوڑ سکتے تھے لیکن جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہا کہ میرا ارادہ ایک کا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نیت قسم دیکر پوچھی اور وہ سرزنش بھی کھاتا لیکن جب اس نے قسم اٹھائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرزنش نہیں فرمائی۔
میں مدارس کی ہوائیں کھا چکا ہوں لیکن عالم دین اور مفتی کا دعویدار بھی نہیں ہوں۔ اس آدھے ادھورے تعلیم اور طالب علمی کی برکت سے کہتا ہوں کہ علماء اور جن کو مدارس کی ہوا نہیں لگی ان میں عالم اور جاہل کا فرق ہوتا ہے۔ مولانا عمار خاں ناصر عالم ہے لیکن مولوی دسترخوان سے بھی اپنی مسجد و مدرسہ اور کام کا انتخاب کرتا ہے جہاں اچھی روٹی ملتی ہو یہ معیار ہے۔