انجینئر صاحب ! تیری جرات اور تیری جہالت دونوں کو سلام۔ جرات تو آپ کے بیان سے واضح ہے لیکن جہالت میں بتانے لگا ہوں۔ ایک شوہر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تجھے تین طلاق اب اس کی سزا کیا دی جاتی ہے کہ اس کو حلالہ کی لعنت سے دوچار کردیا جائے- کیا گستاخ رسول سے یہ کم سزا ہے؟۔ اگر ایک مرد کو اختیار دیا جائے کہ قتل ہونا قبول ہے یا چدھنا؟۔ تو اکثریت پھانسی کے پھندے پر چڑھ جانا قبول کرے گی لیکن حلالہ کی طرح بد فعلی کروانا برداشت نہیں ہوگا- تمہارے ابا إمام بخاری نے فراڈ حدیث درج کرکے حلالہ کی لعنت کی ذمہ داری اپنے کاندھے پر ڈال دی ہے۔ اس باب میں حدیث درج کی ہے کہ اکٹھی تین طلاق جائز ہیں اور اس میں حلالہ کی فراڈ والی روایت بھی درج کردی ہے۔ حالانکہ قرآن کہتا ہے کہ عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہر رجوع کے زیادہ حقدار ہیں اور بخاری میں واضح ہے کہ اس عورت کو مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق دی تھی اور اس نے جس شوہر کا کہا تھا کہ نامرد ہے تو اس نے اس کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں اس کی چمڑی ادھیڑ دیتا ہوں۔ صرف ایک حدیث ہے لعان کے بعد والی تو سورہ طلاق میں فحاشی کے بعد رخصت کرنے کی عدت میں بھی اجازت ہے۔ لیکن جن قرآنی آیات میں عدت کے بعد رجوع کی گنجائش ہے تو اس کو منسوخ قرار دینے کیلئے اس روایت کو پیش کرنا جہالت ہے۔
میں نے تمہیں بالمشافہ سمجھانے کیلئے تمہاری اکیڈمی میں حاضری دی لیکن تم نے روٹ رویہ اختیار کرتے ہوئے سوال سے بھی روک دیا۔
اللہ تعالٰی آپ کو جلد رہائی دے لیکن قادیانی اور بریلوی دیوبندی کو ایک صف میں ڈالنے کے بعد ایک کو کافر کہنا دوسرے کو مسلمان قرار دینا تیری جہالت ہے حماقت ہے یا منافقت ہے؟۔ اور پھر ڈیڑھ ارب مسلمان قادیانی کو دجال قرار دیتے ہیں اور دو ارب عیسائیوں کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ۔۔۔۔۔۔۔لگاکر قادیانی دجال کے صف میں کھڑا کرنا غلط ہے۔ اپنی حماقت اور جہالت سے توبہ کریں۔