ابلیس کی مجلس شوری میں چھ مشیروں کے بعد آخر میں ابلیس نے جو اپنے مشیروں سے خطاب کیا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جاوید غامدی اور مفتی طارق مسعود نے وہی ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے۔ سودی بینکاری کے عالمی نظام اور حلالہ کی لعنت کے حوالے سے دونوں قرآن کو مسخ کرتے میں 19، 20 کا فرق رکھتے ہیں۔ ایک اجتہاد اور دوسرا تقلید کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ قرآن سے دونوں عوام کو دور رکھتے ہیں۔ دونوں غیر سیاسی ہیں۔ دونوں کا دین سرمایہ داری چندہ خوری نظام ہے۔ دونوں شرع پیغمبر کو چھپانے کے مرتکب ہیں۔
ابلیس
ہے اگر مجھ کو خطر کوئي تو اس امت سے ہے
جس کي خاکستر ميں ہے اب تک شرار آرزو
خال خال اس قوم ميں اب تک نظر آتے ہيں وہ
کرتے ہيں اشک سحر گاہي سے جو ظالم وضو
جانتا ہے، جس پہ روشن باطن ايام ہے
مزدکيت فتنہ فردا نہيں، اسلام ہے!
جانتا ہوں ميں يہ امت حامل قرآں نہيں
ہے وہي سرمايہ داري بندہ مومن کا ديں
جانتا ہوں ميں کہ مشرق کي اندھيري رات ميں
بے يد بيضا ہے پيران حرم کي آستيں
عصر حاضر کے تقاضاؤں سے ہے ليکن يہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرع پيغمبر کہيں
الحذر! آئين پيغمبر سے سو بار الحذر
حافظ ناموس زن، مرد آزما، مرد آفريں
موت کا پيغام ہر نوع غلامي کے ليے
نے کوئي فغفور و خاقاں، نے فقير رہ نشيں
کرتا ہے دولت کو ہر آلودگي سے پاک صاف
منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے اميں
اس سے بڑھ کر اور کيا فکر و عمل کا انقلاب
پادشاہوں کي نہيں، اللہ کي ہے يہ زميں!
چشم عالم سے رہے پوشيدہ يہ آئيں تو خوب
يہ غنيمت ہے کہ خود مومن ہے محروم يقيں
ہے يہي بہتر الہيات ميں الجھا رہے
يہ کتاب اللہ کي تاويلات ميں الجھا رہے
توڑ ڈاليں جس کي تکبيريں طلسم شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا انديش کي تاريک رات
ابن مريم مر گيا يا زندہ جاويد ہے
ہيں صفات ذات حق، حق سے جدا يا عين ذات؟
آنے والے سے مسيح ناصري مقصود ہے
يا مجدد، جس ميں ہوں فرزند مريم کے صفات؟
ہيں کلام اللہ کے الفاظ حادث يا قديم
امت مرحوم کي ہے کس عقيدے ميں نجات؟
کيا مسلماں کے ليے کافي نہيں اس دور ميں
يہ الہيات کے ترشے ہوئے لات و منات؟
تم اسے بيگانہ رکھو عالم کردار سے
تا بساط زندگي ميں اس کے سب مہرے ہوں مات
خير اسي ميں ہے، قيامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کي خاطر يہ جہان بے ثبات
ہے وہي شعر و تصوف اس کے حق ميں خوب تر
جو چھپا دے اس کي آنکھوں سے تماشائے حيات