غامدی صاحب ! پہلی بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے جس بات کا اظہار جس شد و مد سے کرتے ہیں اس کی عملی طور پر مخالفت بھی کرتے ہیں۔
آپ نے مفروضہ گھڑلیا کہ قرآن میں طلاق کی اتنی وضاحتوں کے باوجود بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجتہاد فرمایا اور اس میں اکٹھی تین طلاق دینے کی صورتحال واضح نہیں تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم دی تو صحابی نے قسم کھائی کہ ایک طلاق کی نیت تھی اور آپ نے اس کی نیت کو قبول فرمایا اور اس میں رد کرنے کی بھی گنجائش تھی۔ حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق کو نافذ کیا جس کی وجہ سے حلالہ جیسے مکروہ فعل تک نوبت پہنچ گئی۔
یہ تو سیدھا سیدھا حلالہ تک پہنچنے کا تعلق نہ صرف حضرت عمر تک لے جارہے ہیں بلکہ قرآن تک معاملات کو پہنچا دیا ہے۔ آپ کا دعوٰی ہے کہ آپ نے دین کی مکمل تعلیم حاصل کی ہے۔ اصول فقہ میں حنفی موقف یہ ہے کہ آیت 229 میں دوبار طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق ہوجائے اور پھر فدیہ کہ صورتحال تک معاملہ پہنچ جائے تو اس آیت 230 البقرہ کی طلاق کا تعلق ہے۔ بیشک آپ نورالانوار ملاجیون کی کتاب دیکھ لیں یا ڈاکٹر عمار خان ناصر سے پوچھ لیں۔ قرآن کے سیاق وسباق سے بھی حنفی مؤقف درست ثابت ہوتا ہے اسلئے کہ اس سے پہلے آیت 228 البقرہ میں صلح واصلاح کی شرط پر عدت میں شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا ہے اور اس کے بعد آیات 231 اور 232 میں عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کی اجازت دی گئی ہے۔ اور سورہ طلاق کی پہلی دو آیات میں بھی اس موقف کی وضاحت کردی گئی ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ عدم رجوع کا حکم صرف اس صورت میں ہے کہ جب میاں بیوی اور فیصلہ کرنے والے نہ صرف علیحدگی چاہتے ہوں بلکہ رابطے کیلئے کوئی ذریعہ بھی نہیں چھوڑیں۔ باقی کسی صورت میں طلاق سے رجوع میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ حضرت عمر نے طلاق کی وجہ سے عدم رجوع کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی۔ جب عورت راضی نہیں ہو مذاق کی طلاق کے بعد بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ علامہ تمنا عمادی نے بھی اپنی کتاب میں حنفی مؤقف کی وضاحت کی ہے۔ حضرت عمر کے سر پر کیوں بوجھ ڈال رہے ہیں؟۔
جیسے بعلم باعورا نے دنیاوی لذت اور کرائے کا بکرا بننا پسند کیا تھا جس کی مثال اس کتے کی سی تھی جو موقع ملنے پر کتیا ٹوچین کرتا ہے اسلئے اس کو کتے سے تشبیہ دی۔
حسن الیاس آپ کا دعوٰی آپ کی بات کے بالکل برعکس ہے لیکن بہت ڈھیٹ قسم کی مخلوق ہیں۔