خطایا المہدی المنتظر و خفاؤہ
اپریل 10, 2026
( اس چینل پر دو افراد ایک مرد اور لڑکی کازبردست مکالمہ)
مرد:عموماً کہتے ہیں کہ آزمائش مومن کو نکھارتی ہے ،درجات بلند کرتی ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بلا اور آزمائش میں سب سے سخت وقت انبیاء کا ہوتا ہے، پھر ان کا جو ان کے بعد (مرتبے میں)سب سے بہتر ہوں، اور پھر اسی ترتیب سے۔
لڑکی:جی بالکل درست۔
مرد:آج ہم ان مصادرکی گہرائی میں اتریں گے جو اسلامی مستقبل کی انتہائی مرکزی شخصیت یعنی ”مہدی منتظر” کے ذاتی سفر کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
لڑکی:مہدی منتظر، جی ہاں۔
مرد:ہم خاص توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں ان کی ”اصلاح کی رات”سے پہلے کے حالات پر ہی۔
لڑکی:آہ، وہ فیصلہ کن رات۔
مرد:جی ہاں۔ اور یہ وہ دور ہے جو ان مصادر کے مطابق گہری آزمائشوں اور منفرد چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔ تو ہمارا آج کا مقصد انکے سفر کے اس پہلو کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے جو شاید عام طور پر اتنا معروف نہیں۔
لڑکی:بالکل اور یہ ایک بہت اہم نکتہ ہے کیونکہ یہ عام تصور سے تھوڑا مختلف ہے۔ لوگ مہدی کو ایسی شخصیت سمجھتے ہیں جو پیدائش ہی سے تمام صفات میں کامل اور مکمل طور پر پاک و صاف ہوں اور عام انسانوں سے وہ مختلف ہوں۔
مرد:بالکل۔
لڑکی:لیکن ہمارے پاس موجود مصادر ایک مختلف راستے کا اشارہ کرتے ہیں، کم از کم الٰہی اصلاح کے لمحے سے پہلے کے بارے میں۔ یہ مصادر ان کے ایسے حالات سے گزرنے کا ذکر کرتے ہیں جنہیں ہم نشیب و فراز، تجربات اور آزمائشیں کہہ سکتے ہیں، یہاں تک کہ بعض لوگ انہیں ظاہری طور پر لغزشیں یا گناہ بھی سمجھ سکتے ہیں۔
مرد:ہاں، لیکن یہاں فکر اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
لڑکی:کہا جاتا ہے کہ یہ اس نظام کا حصہ ہے جسے ”قانونِ اصطفا”(چن لیے جانے کا قانون) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ قانون ہے جس میں کبھی کبھی منتخب شخصیت کو زندگی میں توڑ پھوڑ اور پھر تعمیر نو جیسے عمل سے گرزنا پڑتاہے۔
مرد:آہ، توڑ پھوڑ اور دوبارہ تعمیر تاکہ وہ ”اللہ کی نگرانی میں تیار کیے جائیں” (تصنع علی عین اللہ) کہا جاتا ہے۔
لڑکی:بالکل تاکہ اللہ کی خاص نگرانی میں ان کی نشوونما ہو !
مرد:اچھا، یہاں موضوع بہت حساس ہو جاتا ہے اور غور و فکر کا متقاضی ہے۔یہ لغزشیں کیاہیں جنہیں ”نزول”یا ”ہبوط” (گراوٹ) سے تعبیر کیا جاتا ہے؟۔ مصادرمیں تاکید ہے کہ یہ عام انسانوں کے گناہوں جیسی نہیں ، کیا یہ درست ہے؟۔
مرد:جی نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ منجانب اللہ تقدیر کے تجربات ہیں جو ان کی پاکیزگی اور تیاری کا بنیادی حصہ ہیں۔ یہ معاملہ بالکل ایسا ہے جیسے کسی دھات کو پگھلانے اور ڈھالنے کا عمل ہو۔
لڑکی:پگھلانا اور ڈھالنا؟۔
مردا:جی ہاں تاکہ خود پسندی یا اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کی کسی بھی ممکنہ باقیات کو توڑ دیا جائے اور قلب کو مکمل طور پر خالی کردیا جائے تاکہ عظیم ترین خلافت کی امانت کو اٹھانے کا اہل ہو سکے۔
لڑکی:سبحان اللہ۔
مرد:چنانچہ مصادر زندگی کی سخت آزمائشوں اور ظاہری طور پر بار بار گرنے کا ذکر کرتے ہیں اور ہاں!یہاں اہم بات یہ ہے اس تاکید کیساتھ کہ ان کے دل میں ایک فطری نور ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ایک روشن نقطہ جو کبھی نہیں بجھتا۔
لڑکی:اس نورانی نقطے کی طرح۔
مرد:جی ہاں گویا وہ آگ جو انہیں ظاہری طور پر جلا رہی ہے، وہ حقیقت میں انہیں ازسرِ نو ترتیب دے رہی ہے اور اندر سے پاک کر رہی ہے۔
لڑکی:ہوں! یعنی ایک طرح سے آگ کے ذریعے تطہیر۔
مرد:ایک معنی میں جی ہاں پاکیزگی اور تیاری۔
لڑکی:اورجو چیز اس معاملے کو مزید گہرا بناتی ہے وہ ”اخفا”یا ”الٰہی پردہ پوشی” ہے۔ یہ بدلا ہوا حال ایک طرح کے مموہیCamouflage/(بھیس بدلنے)کے طور پر کام کرتا ہے؟۔
مرد:آہ، یہ ایک اور انتہائی اہم نکتہ ہے۔ یہ بدلا ہوا حال، ان کا بیرونی مظہر (ظاہری روپ)جو شاید بھٹکنے یا دنیاوی امور میں مشغولیت جیسا نظر آئے، یہ ”الٰہی حجاب”کا کام کرتا ہے۔
لڑکی:حجاب؟۔
مرد:جی ہاں، ایسا حجاب جو حقیقت اور بلند روحانی مقام کو چھپائے رکھتا ہے۔ پس یہ اتار چڑھا ؤ، آزمائش انہیں شیاطین اور ان کے کارندوں کی نظروں سے بچاتی ہے جو روحانی قوت والوں کی تاک میں رہتے ہیں۔
لڑکی:وہ انہیں تلاش کر تے ہیں۔
مرد:بالکل، وہ اس موعود شخصیت کو تلاش کرتے ہیں تاکہ شروع ہی میں نشانہ بنا سکیں۔ چنانچہ جب وہ یہ ظاہری بدلا ہوا حال دیکھتے ہیں، تو وہ شاید یہ سمجھ کر دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ یہ وہ مطلوبہ شخصیت نہیں۔
لڑکی:یعنی ایک شعوری الٰہی حفاظت۔
مرد:شعوری الٰہی حفاظت، جی ہاں۔ یہاں تک کہ انکے قریبی لوگ اصلاح کے عمل سے پہلے مکمل حقیقت کو نہیں پا سکتے۔ یہ ایک الٰہی راز ہے جو (پردہ غیب میں) ودیعت کر دیا گیا ہے۔
لڑکی:سبحان اللہ۔ تو یہ سخت تیاری اور یہ محکم پردہ پوشی، یہ سب ایک عظیم مقصد کیلئے ہے۔ اس کا تعلق انکے مستقبل کے عظیم کردار سے ہے، کیا ایسا ہی ہے؟۔
مرد:یقینا۔ یہ سخت مصائب اور آزمائشیں اس قائد کی تخلیق کیلئے ضروری ہیں جو امت کی ہمہ گیر اصلاح اور زمین پر عدل و انصاف کے قیام کا بوجھ اٹھائے گا اسکے بعد جب وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
لڑکی:ہوں گویا یہ آزمائشیں ان کی سابقہ شناخت کو مٹا دیتی ہیں، عام انسان کی شناخت جو انہوں نے خود بنائی تھی اور انہیں ہر چیز، اللہ کے سوا ہر سہارے سے آزاد کر دیتی ہیں۔
مرد:مکمل تجرید (سب سے کٹ جانا)جی ہاں تاکہ وہ ایک صاف شفاف برتن بن جائیں جو الٰہی خلافت کو مکمل اور خالص طور پر قبول کر سکے۔ چنانچہ ظاہری کمزوری اور بلا سے چھپی ہوئی قوت اور انتخاب (اصطفیٰ)تک کا یہ سفر، انکے عظیم مشن کیلئے ان کی ربانی تیاری کا جوہر ہے۔
لڑکی:یہ تو نقطہ نظر کو بالکل ہی بدل دیتا ہے۔
مرد:مکمل طور پر۔
لڑکی:اچھا، اگر ہم ان مصادر سے نتائج کا خلاصہ کرنا چاہیں تو؟۔
مرد:خلاصہ کلام یہ ہے کہ اصلاح کی رات سے پہلے مہدی کا سفر انتہائی گہری پیچیدہ تیاری کا راستہ ہے، جو ظاہری آزمائشوں سے بھرا ہوا ہے جو حیران کن لگ سکتی ہیں ، جو نشیب و فراز اور ایک شعوری الٰہی پردے پر مشتمل ہے اور ان باتوں کو، اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ ان کے حق میں کبھی بھی نقص یا عیب نہیں سمجھنا چاہیے۔
لڑکی:ہرگز نہیں۔
مرد:بلکہ یہ اس الٰہی تیاری کے عمل کا اٹوٹ حصہ ہیں جسے معاملات کی سطحی ظاہر بینی سے نہیں بلکہ باطنی حکمت سے سمجھا جا سکتا ہے۔
لڑکی:بلکہ اسکی عمیق باطنی حکمت سے جی ہاں۔
مرد:پس اصلاح سے پہلے ان کی حالت اپنی تمام تر شدت اور ظاہری اجنبیت کے باوجود روحانی شخصیت کی تکمیل ، عظیم مقام، اہلیت کیلئے بہت ضروری ہے جو ان کا منتظر ہے۔ بنیادی خیال یہ ہے کہ کمال کبھی کبھی آزمائش کی بھٹی سے گزر کر ہی حاصل ہوتا ہے۔
لڑکی:سبحان اللہ اور اختتام پر یہ ہم سب کو اللہ کی اپنے بندوں کی تقدیر میں چھپی کامل حکمت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ کیسے باطن، ظاہر کے بالکل برعکس ہو سکتا ہے، جو واقعی حیرت انگیز ہے، یہ عظیم کاموں کیلئے تیاری کے راستے بالکل غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔
مرد:درست۔
لڑکی:ہم اللہ سے اپنے اور سب کیلئے صبر، ثابت قدمی اور بصیرت کا سوال کرتے ہیں اور ہم اس کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ وہ اس شخصیت کے ظہور اور فرج (کشائش) میں تعجیل فرمائے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیگا جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
مرد:اللہم آمین۔
لڑکی:ہم یہ سوال معزز سامعین کے غور و فکر کیلئے چھوڑتے ہیںکہ واقعات اور اشخاص کے پسِ پردہ حقائق کو پڑھنا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟ اور ہم ان گہری حقیقتوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں جو ہماری زندگی اور دنیا میں ظاہری سطروں کے پیچھے چھپی ہو سکتی ہیں؟۔
ــــــــــ
المہدی المنتظر
لا یعلم السری الکمین بداخلہ
نہیں پتہ کس راز کو چھپائے گھات میں بیٹھاہے
بخوف سکت عن الکلام لریبتہ
اپنے اندیشوں سے خوف میں خاموش ہے
بحزن ذرفت الدمع لأمتہ
امت کے غم میں اس نے آنسو بہائے
حارب الظلم بکا مل قوتہ
اور اپنی پوری قوت کیساتھ ظلم کا مقابلہ کیا
رآی الاسلام بضعف فرقتہ
اس نے اسلام کو فرقہ بندی سے کمزوردیکھا
یشاہد موت الأطفال بأعینہ
اور اپنی آنکھوں سے بچوں کی موت کامشاہدہ دیکھا
متی نصر اللہ لنصرتہ
اس کی مدد کیلئے اللہ کی نصرت کب آئے گی؟
تنتظرہ الناس لبیعتہ
لوگ اس کی بیعت کے انتظار میں ہیں۔
یہزم الأعداء یرقی فی السمائ
وہ دشمنوں کو شکست دے گا اور آسمان (بلندی)پر فائز ہوگا۔
ینصر الفقراء یعاقب الأمرائ
وہ فقرا کی مدد کرے گا اور (ظالم)حکمرانوں کو سزا دے گا۔
ثم ابتدی وقت الشقائ
پھر سختی کا دور شروع ہوا
ان العطاء بعد العنائ
بے شک مشقت کے بعد ہی عطاہے
یطلب رضاء رب السماء بین البشر لکن فی خفائ
وہ عوام میں رہ کر ربِ آسمانی کی رضا چاہتا ہے مگر پوشیدہ طور پر
ذہب وحیداً یزرع الصحراء سیہدینا اللہ درب العلمائ
وہ تنہا صحرا میں بیج بونے نکل پڑا، اللہ ہمیں علما ء کی راہ دکھائے گا
لن یظہر المہدی فی أ رض شعبہا جہلائ
مہدی ایسی سرزمین پر ظاہر نہیں ہوگا جس کے لوگ جاہل ہوں
یا ربی انک النور فی من ہدی ارسل سراجک یحکم لنا
اے میرے رب!تو ہی ہدایت پانے والوں کیلئے نور ہے۔ اپنا
وہ روشن چراغ بھیج جو ہمارے درمیان فیصلے کیا کرے۔
یا رب کثر اللئام بأرضنالن یظہر المہدی الاأ ن یشاء ربنا
اے رب!ہماری زمین پر کم ظرف اور کمینے لوگ بہت بڑھ گئے ۔ مہدی تب ہی ظاہر ہوں گے جب ہمارا رب چاہے گا۔
فاذا بہ کالنور یظہر فجأہ اضاء العالم وکاد یہلک ظلمة
پھر اچانک وہ ایک نور کی طرح نمودار ہوگا۔وہ دنیا کو روشن کر دے گا اور تاریکی کو مٹانے کے قریب ہوگا۔
یکسر اللہ بہ شوکہ وتکون الامة فی عہدہ وحدہ
اللہ اس کے ذریعے (دشمن کی) شان و شوکت توڑ دے گا اور اس کے عہد میں امت ایک ہو جائے گی۔
وحدہ مکمل وحدت
ــــــــــ
شیعہ سنی کاتفرقہ سمجھ
ہل تعلم کیف اشتعل الحریق شیعی وسنی بمساجد تفریق
کیاجانتے ہو آگ کیسے لگی؟ مساجدکی شیعہ و سنی کی تفریق سے
کافر ان خرجت من البئر السحیق طائفتک یا بنی الاصل العریق
کافر قرار دے گااگر آپ اس گہری کھائی تفرقہ سے نکلے تیرا گروہ اے اصل اعلیٰ نسب والے!۔
نحن الاصح وہم ضلوا الطریق نسالک لمحنتنا زوال
(ہر گروہ کہتا ہے کہ )ہم ہی درست ہیں اور وہ راستہ بھٹک گئے اے اللہ ہم تجھ سے اپنی اس آزمائش کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
رجع لامتنا الوصال اشعلوا الفتنہ یبغون الضلال
ہماری امت کو دوبارہ باہمی ملاپ عطا کر، انہوں نے فتنہ بھڑکایا ہے اور وہ گمراہی چاہتے ہیں۔
ظاہرہ شیخ وباطنہ دجال بک ربی نأتلف وبغیرک محال
وہ ظاہر میں شیخ ہے مگر باطن میں دجال ہے، اے میرے رب! تیرے ہی ذریعے ہم متحد ہو سکتے ہیں اور تیرے سوا یہ ناممکن ہے۔
یا رب المسجد بالفتنہ ملیء والشعب من فتنتہ بریء امتلأت کلاما عربیا ردیء الہی امتنا لوجہک تفیء ننتظرک ربی المساجد لتضیئ
اے رب!مسجدیں فتنوں سے بھر گئی ہیںاورقوم فتنے سے بیزارہے،(مساجد)گھٹیا عربی کلام سے بھر گئی ہیں۔میرے معبود! ہماری امت تیری طرف لوٹتی ہے، اے رب!ہم تیرا انتظار کر رہے ہیں تاکہ مساجد روشنی دیں۔
نسالک لمحنتنا زوال رجع لامتنا الوصال اشعلوا الفتنہ یبغون الضلال
ہم تجھ سے اپنی مصیبت کا زوال مانگتے ہیں، امت کا اتحاد واپس مانگتے ہیں، انہوں نے گمراہی کیلئے فتنہ بپا کیا۔
ظاہرہ شیخ وباطنہ دجال بک ربی نأتلف وبغیرک محال
ظاہرشیخ کا اور حقیقت دجال کی، اے اللہ!ہم تیرے سہارے متحد ہونگے تیرے بغیر ممکن نہیں۔
نجاہد رب فخارت قوانا ترکناہم یشعلوہا واتبعنا ہوانا
اے رب!ہم جدوجہد کرتے کرتے تھکے ہماری ہمت ختم ہوگئی، انہوں نے آگ لگائی اورہم اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے۔
رب ارحمنا وزدنا ایمانا ۔ نطلب منک ربی غفرانا
اے رب!ہم پر رحم فرما اور ہمارے ایمان میں اضافہ کر، اے میرے مالک!ہم تجھ سے بخشش کے طلبگار ہیں
لیکون العدل لأولادنا زمانا نسالک لمحنتنا زوال
تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کیلئے عدل و انصاف کا دور ہو، ہم تجھ سے اپنی اس آزمائش کا خاتمہ مانگتے ہیں۔
رجع لامتنا الوصال اشعلوا الفتنہ یبغون الضلال
ہماری امت کے بچھڑے ہوؤں کو ملا دے، انہوں نے گمراہی کی خاطر فتنہ بھڑکایا ہے۔
ظاہرہ شیخ وباطنہ دجال بک ربی ناتلف وبغیر محال
وہ ظاہر میں پارسا اور باطن میں فریبی ہے، اے رب!تیرے ہی فضل سے ہم ایک ہونگے تیرے سوا راستہ نہیں
مکن یا رب لأولیائک الصالحین
اے رب!اپنے نیک بندوں کو غلبہ و تمکین عطا فرما۔
من ہم لعبادتک مخلصین و بفضلک اجعلنا مؤمنین نقف بوجہ المعتدین
وہ جو تیری عبادت میں مخلص ہیں اور اپنے فضل سے ہمیں وہ مومن بنا دے جو ظالموں کے سامنے ڈٹ جائیں۔
باللہ ابدا لن نکون مساکین
اللہ کی قسم!ہم کبھی بے بس اور لاچار نہیں رہیں گے۔
لن نکون مساکین
ہم ہرگز لاچار نہیں رہیں گے۔
ــــــــــ
یخفون المہدی
بالحق ھم کافرون
وہ لوگ حق کے کافر ہیں
بالتفرقة ھم بارعون
تفرقہ بازی کے بڑے ماہر ہیں
باللہ ھم ملحدون
قسم خدا کی یہی لوگ تو ملحدین ہیں
عن سبیل اللہ یصدون
اللہ کی راہ سے وہی روکتے ہیں
ھم بالمھدی عالمون
مہدی کووہ جانتے ہیں
عن شعبنا ھم یخفون
ہماری قوم سے اس کو چھپاتے ہیں
یظنون انہم قادرون
وہ سمجھ رہے ہیں کہ بچنے پر قادر ہیں
واللہ مخرج ما یحذرون
اللہ انہیں نکالنے والا ہے، جس کا انہیں ایک دھڑکا لگا ہوا ہے۔
سیأتی بالعدل والمال
وہ امام عدل و مال لیکر آئیں گے
سیکون خیر شلال
خیر و بھلائی میں ان کی حیثیت ایک آبشار کی ہوگی
سھدینا للمتعال
وہ ہمیں خدائے برتر کی طرف ہدایت دیں گے
لظالمین مطر الوبال
اور ظالموں کیلئے ہلاکت کی بارش ہیں
کالاسد یفترالصباع
وہ شیر کی طرح ان بزدل لگڑبھگوں کا شکار کریں گے
یظنون وحدتھم قلاع
وہ ظالم سمجھتے ہیں کہ ان کا اتحاد ایک مضبوط قلعہ ہے
فیھجم وحدہ شجاع
وہ بہادر اکیلا ہی ان پر حملہ کرے گا
لقوتہ الضباع تنصاع
جس کی قوت کے سامنے یہ لگڑبھگے جھکنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
جعلونا نصدق اساطیر
انہوں نے ہمیں یقین دلایاکہ من گھڑت قصوں کی تصدیق کریں
خذعونا لمسکن اعاصیر
ہمیں دھوکہ دیا تاکہ ہم فتنوں میں گھرے رہیں
ولوا علینا اباطیر
انہوں نے ہم پر باطل پرستوں کو مسلط کر دیا
ولکن بالخیر مطیر
لیکن ہمارا رب خیر و برکت برسانے والا ہے
الخیر فینا موجود
بھلائی ہم میں اب بھی موجود ہے
ینبت المھدی من الصمود
مہدی کی نشو ونمابہت استقامت اور ثابت قدمی کیساتھ رواں دواں رہے گی
وسیعلم انہ مورود
اور عنقریب سب جان لیں گے کہ ان کا آنا طے ہے
عندما سنجنی الورود
تب ہم کامیابی کیساتھ گلاب کے پھول چنیں گے
یکادون ینتصرون
انہیں لگا کہ بس کامیاب ہوگئے
فرحین بالحصون
خوش ہیں اپنے قلعوں میں
یأتی المھدی لیکون
مہدی کو تو بہر حال ان کو اپنے انجام تک پہنچانے کیلئے آنا ہے
اسوأ مایحذرون
اور بہت برا ہے جسکے خوف میں مبتلا ہیں
یأتھیم نورالزمان
انکے پاس زمانے کا نور آئیگا
ینتصر بعز الرحمٰن
جو رحمان کی دی ہوئی عزت سے فتح پاجائے گا
یاتھیم قائد فنان
انکے پاس ایک بے مثال قائد آئے گا
مؤمن غضبہ طوفان
وہ ایسا سچا مومن ہے جس کا غصہ باطل کیلئے ایک طوفان ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ