پوسٹ تلاش کریں

کیا چہرے کو اللہ نے زینت قرار دیا؟ اور باقی لباس اتارنے اور چہرہ ڈھکنے کا حکم دیا؟۔

کیا چہرے کو اللہ نے زینت قرار دیا؟ اور باقی لباس اتارنے اور چہرہ ڈھکنے کا حکم دیا؟۔ اخبار: نوشتہ دیوار

مذہبی طبقہ سمجھتا ہے کہ عورت کا فرض ”ستر ” پورا جسم ہے مگر محرموں کو اپنا چہرہ دکھاسکتی ہیں اور نماز میں بال نظر آئیں تو نماز نہ ہوگی۔مردوں کا گھٹنوں سے ناف تک فرض ”ستر” ہے۔ ستر کی دوقسم ہیں ۔ شرمگاہ مغلظ اور گھٹنا مخفف ہے۔جو بدریج ایک دوسرے تک لائٹ شیڈ سے ڈارک شیڈ کی طرح جاتاہے۔

والقواعد من النساء التی لایرجون نکاحًافلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجٰتٍ بزینةٍ

قرآن میں جن عورتوں کو کپڑے اتارنے کی اجازت ہے سنگار چمکائے بغیر تو اس سے کیا مراد ہے؟۔ فرض ستر کہاں گیا؟ اور زینت کا تبرج کیا ہے؟۔دوبئی میں برقعہ پوش عورتوں کا جسم ڈھکا ہوا مگر سینوں کی جھلک نمایاں دیکھی اور یہی تبرج ہے۔ مغرب کا ماحول بھی شرمگاہوں کیساتھ سینوں کو چھپاتا ہے۔ اگر چہرہ زینت اور فرض ہوتا پھر حج و عمرے میں اس کا کھلا رکھنا کیوں ضروری تھا؟۔ کیا چہرے کو اللہ نے زینت قرار دیا؟ اور باقی لباس اتارنے اور چہرہ ڈھکنے کا حکم دیا؟۔
مولانا طیب طاہری شیخ پنج پیر کی یہ تصویر وائرل ہے اور لوگ پشتون کلچر کے بھی خلاف سمجھتے ہیں۔ دفاع نہ مخالفت مگر موقع غنیمت ہے۔ مذہبی طبقے کی جہالتوں کا خاتمہ کرنا ہے جنہوں نے اسلام کی غلط تصویر عوام پر مسلط کردی ہے۔میں خود بھی علماء حضرات کا ایک ادنیٰ شاگرد ہوں اور جو انہوں نے بتایا تو اس کو درست سمجھا اور عمل کیا لیکن جب عربی سمجھنے لگا اور قرآن وحدیث کو دیکھا تو یہ شرم محسوس نہیں کی کہ کل کیا کہتا تھا ؟۔ اصل خدا کی اطاعت ہے اور علماء ومفتیان خود عمل نہ کریں تو ان کی فقہ وتفہیم بھی رہنمائی کا وسیلہ ہے۔ لیکن جب یہ شیعہ پر قرآن کی معنوی اور لفظی تحریف کی بنیاد پر کفر کا فتویٰ لگائیں اور اپنی کتابوں کا پتہ چلے تو چوتڑکو کھجائیں ؟۔پھر شیوخ نہیں شیاطین اور دجالین ہیں۔ فنڈز ملتا ہے تو بزرگ علماء ومفتیان شیعہ کوکافرقرار دیں ، پھر فنڈملنا بندتو مسلمان؟۔ انکے فتوؤں کو ان کی پچھاڑیوں ہی میں ڈالنا ہوگا۔
ــــــــــ

علامہ سید محمد یوسف بنوری کی
ایمان افروز کوشش کے نتائج

علامہ یوسف بنوری کا انتقال1977ء میں ہوا۔ دورۂ مصر کی یہ ویڈیو ہے۔ بنورینے شاہ فیصل سے کہاکہ” حرمین فحش مناظر پر پابندی لگائیں” تو سعودیہ نے عورتوں کو حجاب کا پابند بنایا۔1979ء کا ایرانی انقلاب حجاب لایا۔ ملا عمر کی نسبت موجودہ طالبان بدل گئے۔ کابل بازاروں سے ویڈیو زآئی ہیں۔ سعودی عرب نے اپنا رویہ بدل دیا اورایران بھی تقریباً کافی بدل چکا، برطانیہ اور فرانس نے کالونیوں کو آزاد کیا تو کابل، عراق، ترکی، الجزائر اور برصغرپاک وہند پر خواتین کے پردہ داری پر گہرا اثر چھوڑا گیا پھر حکومتوں اور علماء ومذہبی جماعتوں نے ماحول کو بدل دیا تو اسلام کے احکام بھول گئے ۔ اور یہ نہیں دیکھا کہ شرعی پردہ کیا ہے؟۔
امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی نے لکھا کہ ”شرعی پردہ کوئی بھی نہیں کرتا ہے ۔ جہاں پردہ ہے یہ اشرافیہ کا پردہ ہے اور اس سے بہتر ہے کہ پردہ نہیں کیا جائے اسلئے کہ جن قوموں میں پردہ ہوتا ہے وہاں قوم لوط کا عمل بہت بڑھ جاتا ہے جو زنا کاری سے زیادہ بدتر ہے”۔

صدر وفاق المدارس پاکستان مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا:” عورت کا نکاح سے پہلے کتنا جسم دیکھنا جائز ہے؟۔ جمہور کے ہاں ہاتھ و چہرہ دیکھنا جائز ہے۔ امام اوزاعی نے شرمگاہ کے علاوہ پورا جسم دیکھنا جائز قراردیا۔ علامہ ابن حزم کے نزدیک پورا جسم دیکھنا جائز ہے۔(کشف الباری شرح بخاری)

امام اوزاعی بنوامیہ کے دور کا تھا اور علامہ ابن حزم نے بھی قرطبہ یورپ میں صدیوں بعد بنوامیہ کے حکمرانی کے دور میں مذہبی مسائل بیان کئے تھے۔ لونڈیوں کی منڈیاں لگتی تھیں اور ان کے پردہ وغیرہ تو دور کی بات ہے جسمانی اعضاء کے ناپ تول کے ماہرین جنسی خواہشات کیلئے ہر غیر انسانی بے حیائی کا منظر پیش کرتے تھے۔ لیکن آزاد عورتوں کا کباڑہ مسلمانوں کے غلط مذہبی مسائل نے کیا۔ الجزائر کے مسلمان غنڈہ گردی سے گوروں کو پکڑ کر ترکی، ایران اور برصغیر پاک وہند میں غلام اور لونڈیاں بناکر بیچتے تھے۔ جاویداحمد غامدی نے امریکہ کو بالکل غلط مہذب فاتح قرار دیا اسلئے کہ جاپان پر ایٹم بم گرانے کے اکلوتے مجرم نے افغانستان ، عراق ، لیبیا، شام اور جہاں اپنے مفادات دیکھے بہت بدتمیزی اور ظالمانہ طریقے سے مخالفین کی تذلیل کی ہے لیکن تاریخ کے اوراق جایدغامدی کے چہرے اور سیاہ دل سے بھی زیادہ سیاہ ہیں۔ انسان زبان کے نیچے ہے۔

قرآن کا سادہ اور درست ترجمہ
آج تک نہیں ہوسکا ہے۔

والقواعد من النساء الاتی لایرجون نکاحًا فلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجاتٍ بزینةٍ وان یستعففن خیر لھن واللہ سمیع علیمO(سورہ النورآیت:60)

”اور قانونی وہ عورتیں جن کو نکاح کی امید نہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے کپڑے اتاریں اپنی زینت کو دکھائے بغیر۔ اور اگر پاکدامنی اختیار کرلیں تو ان کیلئے یہ بہتر ہے۔ اور اللہ سننے جاننے والا ہے”۔

ایران متعہ اور سعودی عرب میں مسیار والی عورتوں کو نکاح کی امید نہیں ہوتی ہے تو ان کیلئے قانون کیا ہے؟۔ ایران میں ایک طرف جبری حجاب تھا اور دوسری طرف متعہ کے اڈے۔ سعودی عرب نے مسیار کی اجازت دی تو حجاب پر وہ پابندی بھی برقرار نہیں رکھی۔ آیت میں قواعد سے مراد بوڑھی عورتیں نہیں اور پھر زینت سے مراد کیا ہے؟۔ جہاں بہت ہی گرا ہوا ماحول ہے تو وہاں بھی شرمگاہ کیساتھ عورتیں اپنے سینے کو ڈھانپ لیتی ہیں۔

اگلی آیت النور:61میں جن افراد کے گھروں میں کھانے کی اجازت ہے تو یہی پردہ پوری دنیا میں رائج ہے نہ کم نہ زیادہ اور ہرچیز میزان میں ہے اور اچھی لگتی ہے۔ اللہ نے واضح فرمایا:
” نہیں ہے حرج نابینا پراور نہ لنگڑے پر اور نہ مریض پر کہ تم کھاؤ اپنے باپوں کے گھروں میں یا ماؤں کے گھروںمیں، یا بھائیوں کے گھروںمیں،یا بہنوں کے گھروں میں،یا چچوں کے گھروںمیں، یا پھوپھیوں کے گھروں میں،یا ماموں کے گھروں میں،یا خالاؤں کے گھروں میں، یا جن کے گھروں کی چابیوں کا تمہیں اختیار ہے یا دوست کے گھر میں ۔ کوئی گناہ نہیں کہ تم سب مل کر کھاؤ یا علیحدہ علیحدہ”۔ (النور:61)

شاہ ولی اللہ کے بیٹوں نے پہلا اردو ترجمہ اور حواشی لکھے اور لکھ دیا کہ ”اندھا، نابینا اور لنگڑا میں حرج نہ ہونے سے مراد یہی ہے کہ جمعہ کی نمازاور جہاد سے وہ معذورہیں”۔ بات کیا ہے؟ اور مفہوم کیا نکالا؟۔ باقی مذہبی طبقات تو برائلر کی طرح ہیں۔

امام اوزاعی اور ابن حزم نے نکاح کیلئے لوگوں کو بے لباس کرنے کا بڑا گھناؤنا شرعی حکم جاری کیا۔ پھر جن کو نکاح کی امید نہ ہو تو متعہ و مسیار والوں کا کیا حکم ہوگا؟۔ یورپ کے لوگ دھوپ کھانے کی غرض سے بے لباس ہوتے ہیں اور مسلمانوں سے خوفزدہ ہیں اوران کو اس حال تک پہنچانے میں مذہبی فقہ کا کردار تھا؟۔ افہام وتفہیم کیلئے وسیع میدان سجانا پڑے گا۔
ــــــــــ

فاطمہ نسومر خولة الجزائر

الجزائر پر فرانس کا1830ء میں قبضہ ہوا۔ فاطمہ نسومر مذہبی گھرانہ سید احمد کے گھر پیدا ہوئی۔ قرآن حفظ کیا۔ شادی کے بعد علیحدگی مگرخلع نہ ملا۔ سلطنت عثمانیہ کے ولی عہدکا رشتہ نہ لیا۔ فرانس کیخلاف جہاد کیا۔1863میں جیل میں فوت ہوئیں۔ الجزائری طاہر بن عاشور1879پیدا اور آزادی بعد1973میں فوت ہوا۔مختصر خطبۂ جمعہ سے بڑی شہرت مل گئی کہ” تمہاری عورتیں بازاروں میں ننگی ہیں ، تمہاری نماز میں کوئی خیر نہیں”۔

الجزائر کے مسلمان کبھی جہازوں میں لوٹ مار کرتے تھے ۔ عورتوں، بچوں کو غلام بناکر مختلف جگہ بیچتے تھے۔ آج ہمارا علم و کردار درست ہوگا تو تاریخ کا خوف غیرمسلموں کے دلوں سے نکلے گا۔ قرآن وحدیث کی درست تعلیمات دنیا کو پہنچے تو سعودی عرب ، ایران اور افغانستان سے زیادہ بہتر اسلام کا نفاذ جمہوری انداز میں دنیا بھر کے غیر مسلم کریں گے۔ اسلام کو مسخ کیا گیا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

ایرانیوں نے تہران میں پاکستان کے جھنڈے اٹھائے جبکہ انقلاب مخالف ایرانیوں نے لندن میں اسرائیل کے حق میں یہود کے ساتھ ڈانس کیا
خطایا المہدی المنتظر و خفاؤہ
ولا یأتونک بمثل الا جئناک بالحق واحسن تفسیرًا