ماما قدیر بلوچ۔۔۔انا للہ و انا الیہ راجعون
جنوری 6, 2026
آہ ماما قدیر۔۔۔۔۔
بیماری گمنامی تو زندگی کٹھن مشکلات میں گزاردی۔ساغر صدیقی نے عورت کے عشق میں زندگی خود ساختہ جبر مسلسل میں کاٹی تو نے پریشان حال خواتین کی خاطر ریاستی جبر مسلسل میں جس طرح زندگی گزاردی ،آج استقامت کی ہوائیں تجھے سلام کہتی ہیں ، استقلال کے پہاڑ تیری شرافت پر جھومتے نظرانہ عقیدت میں خیمہ زن ہیں۔ 6ہزار سے زیادہ دنوں کا دھرنااورکوئٹہ سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کا لانگ مارچ بہت دکھ بھری ایسی داستانیں ہیں جن کی وجہ سے بلوچ قوم، پاکستان اور خطے کی ناک اونچی ہوئی۔ گہرنایاب کم سہی مگر ہیں ضرور ۔ کبھی نکھر نے کا موقع نہیں ملتا۔اللہ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ماما قدیر بلوچ ایک فطری انسان تھے۔میری ملاقات نہیں تھی مگر مجھے انکے اعتماد اور محبت پر ناز ہے۔ رسول اللہۖ نے اپنا وطن چھوڑا، قوم کی جانوں اور خواتین کی عزتوں کو قربان نہیں کیا۔ رسول اللہۖ کی مخالفت اپنی قوم قریش مکہ نے کی۔ اللہ نے فرمایا کہ ”کہہ دو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا مگر قرابتداری میں محبت”۔ فتح مکہ کا موقع ملا تو نبیۖ نے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔ عربی میں طلقاء خوشحالی تھی ،گالی نہیں مگر بنادی گئی ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ