مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کو جواب نمبر3
مارچ 5, 2026
مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی کے بیان اور فتوے میں دلائل کا جواب تاکہ سب علماء ومفتیان حقائق سمجھ جائیں
حضرت مفتی محمد حسام اللہ شریفی مدظلہ العالی کی تصدیق شدہ ہمارے فتوی پر مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی نے یہ کہاہے کہ
”وعلیکم السلام ورحم اللہ وبرکاتہ۔ یہ محترم زبردستی جو ہے اہلسنت کا نام استعمال کرکے اب ظاہر سی بات ہے کہ لوگوں کو یہ بات پتہ ہے کہ اپنے من گھڑت کسی فرقے کا نام لیں گے تو فوری طور پر جو ہے لوگ آگاہ ہو جائیں گے ان کے کان کھڑے ہو جائیں گے اور انہوں نے ساتھ پھندنا یہ بھی لگا دیا کہ جی فرقہ واریت کی لعنت نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ہے۔ تو اگر فرقہ واریت کی لعنت نے یہاں تک پہنچایا تو آپ فرقہ واریت پر مبنی فتوے لیتے کیوں ہیں؟ ایسے لوگوں سے فتوے کیوں لیتے ہیں جو فرقہ واریت پر مبنی فتوے دیتے ہیں؟ اگر ایسی بات ہے قرآن و سنت کے حوالے سے کوئی آپ نے بات چیت کرنی ہے تو جمیع صحابہ کرام کا متفق علیہ، ائمہ اربع کا متفق علیہ فتوی، احادیث صحیحہ سے ثابت شدہ فتوی یہ ہے کہ بیک وقت ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں۔ یہ کوئی پاگل اور سٹھیایا ہوا آدمی ہی ہوتا ہے کہ جو یہ کہہ دے کہ تین جو ہے نا ایک ہوتا ہے۔ تین کب سے ایک ہونے لگ گیا؟ یہ اس وقت سے ایک ہونے لگا ہے جب غیر مقلد وہابی حضرات نے تین کو ایک بنایا ہے، ٹھیک ہے؟ باقی اسناد صحیحہ سے ثابت شدہ، سند صحیح سے ثابت شدہ جو احادیث ہیں ان سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے اور میں نے اپنا ایک فتوی بھی بھیج دیا ہے اس کے اندر بھی یہ بات بالکل واضح ہے کہ تین طلاقیں تین ہی شمار کی جاتی تھیں۔ اور یہ کوئی بعد کے دور کا مسئلہ نہیں ہے۔ صحابہ کرام کے دور میں بھی یہی رہا ہے، تابعین کے دور میں بھی یہی رہا ہے، تبع تابعین کے دور میں بھی یہی رہا ہے۔ چاروں فقہ کے چاروں آئمہ کا متفقہ مذہب بھی یہی ہے۔ حتی کہ یہ جو وہابی غیر مقلد اہل حدیث حضرات جو اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں ان کے جو ٹاپ آف دا لسٹ جو ہے مطلب جن کو یہ سب سے زیادہ فالو کرتے ہیں یا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ابن تیمیہ اس نے بھی اپنے مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ کے اندر یہ لکھا ہے کہ تین طلاقیں بیک وقت جو دی جاتی ہیں وہ تین ہی شمار ہوں گی۔ ٹھیک ہے؟ اب یہ اس کے اندر زمین و آسمان کے قلابے ملا کر جھوٹ کو سچ سچ کو جھوٹ بنانے کی کوشش کریں تو ظاہر ہے کہ یہ انہیں کو ہی روا ہے، ہم تو اس کے حوالے سے جو ایک واضح موقف ہے وہ دے چکے ہیں السلام علیکم”۔(مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی)
مفتی حسام اللہ شریفی شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد مولانا رسول خان ہزاروی اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم قاری محمد طیب کے شاگرد ہیں جن کے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع شاگرد تھے ۔مولانا شریف اللہ کے شاگرد ہیں جنکے مولانا سید ابوالاعلیٰ موددی شاگرد تھے جو اکٹھے استاذ سے ملنے گئے تھے۔ پہلے مدارس میںمفتی کا کورس نہیں تھا۔مولانا احمد علی لاہوری نے مفتی حسام اللہ شریفی کو مسائل کا حل لکھنے کی اجازت دی ۔
مفتی شریفی صاحب
1:مشیر وفاقی شرعی عدالت حکومت پاکستان۔
2:مشیر شریعت بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان۔
3:رکن مجلس تحقیقات علوم قرآن وسنت رابطہ عالمی اسلامی ، مکہ مکرمہ ۔
4:کتاب وسنت کی روشنی میں ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی۔
5:ایڈیٹر ماہنامہ ”قرآن الہدیٰ ” کراچی (اردواور انگریزی میں شائع ہونے والا بین الاقوامی جریدہ)۔
حنفی عبدالشکور لکھنوی نے ” مجموعة الفتاویٰ ” میں3طلاق کو ایک قرار دیاجو مولانا رشید احمد گنگوہی نے فتاویٰ رشیدیہ میں نقل کیا ۔ پیر کرم شاہ الازہری نے ”دعوت فکر” لکھا۔ بریلوی مکتب نے کتاب غائب کردی اور ہندوستان احمد باد میں دیوبندی، جماعت اسلامی ، اہل حدیث اور بریلوی مکتب نے1972ء کا مشترکہ سیمینار منعقد کیا جس کی روئیداد لاہور سے شائع ہوئی۔
پاکستان بھرسے کئی بریلوی علماء ومفتیان ہمارے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ مفتی کامران شہزاد حلالہ کے بغیر رجوع کا فتویٰ دیتے ہیں۔ ہم نے قرآن و حدیث، خلفاء راشدین ،امام ابوحنیفہ اور درس نظامی کا حنفی مؤقف پیش کرنا ہے تاکہ قرآن وسنت اور حنفی مسلک سے حلالہ کی لعنت کا ایسا خاتمہ ہو جائے کہ ابلیس ملعون کی موت کا وقت معلوم آجائے۔
حدیث کی کتابوں میں صحاح ستہ کے اندر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی سند کو شہرت کا درجہ حاصل ہے ۔ طلاق کے حوالہ سے ہم سب سے پہلے اس بات کا ذکر کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ چار وں امام کا اصل مؤقف کیا ہے ؟ اور پھر بخاری ومسلم اور دیگر کتب کی احادیث کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری اور لوگ اصل حقائق کو سمجھ جائیں۔
امام ابوحنیفہ و مالک کے ہاں اکٹھی3طلاق بدعت، ناجائز اور گناہ ہے۔ دلیل محمود بن لبید کی روایت ہے کہ ایک شخص نے بتایا کہ فلاں نے بیوی کو3طلاق دی۔ جس پر رسول اللہۖ اٹھ کھڑے ہوئے غضبناک ہوکر فرمایا کہ میں تمہارے درمیان ہوں اور تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟۔ ایک شخص نے پیشکش کردی کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔(سنن النسائی)
امام شافعی کے نزدیک اکٹھی3طلاق دینا سنت ، مباح اور جائز ہیں اور دلیل عویمر عجلانی کی لعان کے بعد تین طلاق ہیں۔ جبکہ امام احمد بن حنبل کے دواقوال ہیں ۔ ایک قول تو اپنے استاذ امام شافعی کے مسلک پر ہے اور دوسرا قول اپنے دادا استاذ امام مالک اورپردادا استاذامام ابوحنیفہ کے مطابق ہے۔
صدروفاق المدارس العربیہ پاکستان محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان کی شرح بخاری ”کشف الباری” کودیکھ لیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے ذخائر میں سے صرف دو احادیث؟ جن پر امام مالک و ابوحنیفہ اور امام شافعی نے اتفاق نہیں کیا اور بخاری ومسلم ، ابوداؤد کے استاذ امام احمد بن حنبل دونوں مؤقف کے درمیان تذبذب کا شکار تھے؟۔اس پر ذرا تدبیر کریں!۔
مجتہد امام اور مقلد محدث میں کیا فرق ہے؟۔ مفتی تقی عثمانی نے حدیث لکھ دی کہ” علم علماء کے اٹھ جانے سے اٹھ جائیگا، جب کوئی عالم باقی نہیں رہیگا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنائینگے۔ جو جانے بغیر فتویٰ دیںگے اور خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریںگے”۔ائمہ مجتہدین کے بعد علم اٹھ گیا ہے اسلئے تقلید واجب ہے۔( تقلید کی شرعی حیثیت : مفتی تقی عثمانی)
مقلد اس فرق کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ تین طلاق واقع ہونا اسلئے ضروری ہے تاکہ عورت طلاق کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکے۔نہ کہ اسلئے کہ رجوع کا دروازہ باہمی رضامندی سے بھی بند ہوجاتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے اساتذہ میرے اساتذہ تھے اور میرے اساتذہ نے مجھے طالب علمی میں امام ابوحنیفہ و امام مالک کی طرح ائمہ مجتہدین کے درجہ پر قرار دیا تھا۔ دوتین اساتذہ کرام اب بھی الحمدللہ دنیا میں زندہ ہیں۔ کسی کو پوچھ لیا جائے۔ کسی کو تلاش کیا جائے اور کسی کو جان کی امان دیں۔
امام ابوحنیفہ جب بچپن و جوانی میں مکہ اور مدینہ گئے، کچھ صحابہ سے ملاقات ہوئی ۔ ابن مروان کے حکمران بیٹے حلالہ سے عزت دری کو اپنا مشن سمجھتے ۔جبکہ امام ابوحنیفہ نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مدینہ میں گورنری اور برطرفی بھی دیکھ لی اور پھر انکے دور میں علم کی آزادی اور پھر انکے بعد پابندی بھی۔ جبکہ سعید بن جبیر کواسلئے شہیدکیا گیا کہ اس نے کہا کہ ”قرآن میںحلالہ کیلئے جماع نہیں نکاح ہے”۔ مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا ہے کہ ” احناف کے نزدیک کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جس کو دلیل بناکر قرآن میں
حتی تنکح زوجًا غیرہ
کے اندرنکاح پر جماع کا اضافہ کیا جائے۔ احناف کے نزدیک قرآن میںنکاح سے جماع مراد ہے”۔(کشف الباری)
حنفی اصول کے مطابق بریلوی علماء عورت کو حلال کرنے کی خاطر صرف ایک دفعہ داخل کردیتے ہیں جس میں حق مہر، عدت اور گواہ وغیرہ کچھ نہیں ہوتے۔ ساس نے داماد سے ہاتھ ملادیا اور شہوت محسوس ہوئی تویہ نکاح ہے۔ داماد پر بیٹی حرام ہوگی۔
اگر روایات پر انحصار کیا تو قرآن پر عقیدہ ختم اور مقلدین کے مسائل پر انحصارکیا تو پھر شرمائے یہود۔ بہو کو ہاتھ ملایا اور شہوت محسوس ہوئی تو اگر خارج کرکے چھوڑا تو درست، نہیں تو بہو بیوی بن گئی اور بیٹے پر حرام ۔ افسوس کے حرمت مصاہرت تک پرانتہائی متضاد روایات مسالک کی بنیاد پر گھڑ رکھی ہیں۔
عورت راضی نہ ہو تو مذاق کی طلاق کے بعد بھی رجوع نہیں اور عورت رجوع پر راضی ہو تو3طلاق اور تکمیل عدت کے بعد بھی رجوع قرآن اور ابوداؤد کی حدیث سے ثابت ہے۔پھر قرآن و احادیث اور اصول فقہ میں شفافیت بھی موجود ہے۔
قرآن کی تفسیر میں کیا واضح گڑبڑ ہوئی ؟۔ احادیث میں کیا کیا گڑبڑہوئی ؟۔ اور اصول فقہ اور فقہ میں کیا گڑبڑہوئی؟۔
امام ابوحنیفہ کے نام پر کم عقلوں نے مسائل گھڑے ہیں ۔ قرآن کی واضح آیات میں واضح گڑبڑ معنوی تحریف کرکے اس کی غلط تفسیر کی گئی ہے۔ اللہ نے چیلنج کیا کہ قرآن میں کوئی تضاد نہیں ہے لیکن جب سورہ بقرہ آیت228میں عدت کے اندر شوہر کو اصلاح اور معروف کی شرط پر رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا گیا ہے اور آیت231اور232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی معروف رجوع کی اجازت بلکہ ترغیب دی گئی ہے تو آیت229اور230البقرہ میں آخر ایسا کیا ہے جو آگے اور پیچھے کی آیات سے مختلف ہے؟۔3طلاق زبان سے نکل گیا اور اللہ کا سارا منصوبہ سوتاژ کردیا؟۔ کیا یہ ممکن ہے کہ دو مرتبہ طلاق رجعی کی اجازت دی جائے؟۔ جس سے عورت کو3قروء کے بجائے9قروء تک کی عدت پر مجبور کیا جائے؟۔بالکل نہیں! مگرکیوں؟ اسلئے کہ اصلاح اور معروف کی شرط اور حق کو معطل کردیا۔حنفی میں نیت نہ ہوتوبھی شہوت کی نظر رجوع اور شافعی مسلک میں نیت نہ ہو تو جماع جاری رکھنے سے رجوع نہ ہوگا۔
یہ خرابی مروان بن حکم اور اسکے بیٹوں کی وجہ سے آئی تھی۔ یزیدکے دور میںعبداللہ بن زبیرپہلے مکہ اور اس کی موت کے بعدسبھی پر حکمران تھے لیکن صحابی کی قدر نہیں ۔ مروان بن حکم نے عبداللہ بن زبیر سے بیعت کرنا چاہی مگر اس کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔جیسے شیطان کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیاتھا:
قال فخرج منھا انک انت رجیم , وان علیک اللعنة الی یوم الدین , قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون , قال فانک من المنظرین , الی یوم .الوقت المعلوم
(سورہ الحجرآیات:34تا38)
”فرمایا: جنت سے نکل جا بیشک تو مردود ہے اور بیشک تجھ پر لعنت ہے یوم جزا تک ۔ کہا اے میرے رب! تو مجھے اس دن تک مہلت دے کہ جب لوگ اٹھائے جائیں گے۔اللہ نے فرمایا: بیشک تجھے مہلت ہے۔ معلوم دن کے وقت تک”۔
مروان بن حکم کی رسول اللہۖ کے دور میں مدینہ بدری ہوئی تھی۔ مولانا نورالحسن شاہ بخاری کی میں نے لیہ میں تقریر سنی ،ان کی کتاب ”عثمان ذی النورین”میں لکھا ہے کہ حضرت عثمان نے مروان بن حکم کیلئے رسول اللہۖ سے اجازت لی تھی اور پھر اپنے دور میں مدینہ کے اندر بلالیاتھا”۔ایک اور شخص عبداللہ بن ابی سرح نے اسلام قبول کرنے کے بعد وحی کی کتابت بھی کی تھی اور پھر مرتد بن گیا تو رسول اللہۖ نے جن افراد کا قتل مباح قرار دیا، ان میں ایک عبداللہ بن ابی سرح بھی تھا اور حضرت عثمان کی سفارش پر اس کو بھی معافی مل گئی۔
حضرت عثمان کی شہادت کا بنیادی باعث مروان بن حکم اور گورنر عبداللہ بن ابی سرح تھے۔ قرآن کہتا ہے کہ
ظہر الفساد فی البر و البحر بما کسبت ایدالناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعونOقل سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبة الذین من قبل کان اکثرھم مشرکینOفاقم وجھک للدین القیم من قبل ان یأتی یوم لا مردلہ من اللہ یومئذٍ یصدعونOمن کفرفعلیہ کفرہ ومن عمل صالحًا فلافسھم یمھدونOلیجزی الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات من فضلہ انہ لایحب الکافرینO
”فساد برپا ہوگیا خشکی اور تری میں بسبب لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے تاکہ اللہ ان کو اپنے بعض اعمال کا مزہ یہاں چھکائے ہوسکتا ہے کہ یہ باز آجائیں۔ کہہ دو کہ زمین میں گھومو تو دیکھو پہلے جو گزرے ہیں وہ کیسے انجام کو پہنچے۔ ان میں اکثر لوگ مشرک تھے۔ پس اپنا چہرہ سیدھا رکھ سیدھے دین کیلئے اس سے پہلے کہ ایسا دن آجائے کہ اللہ کی طرف سے اس کو پھر کوئی پھیر نہیں سکے اس دن لوگ منشتر ہوکر گتھم گتھا ہوں گے۔ جس نے کفر کیا تو اس پر اس کا کفر ہے اور جس نے درست عمل کیا تو اپنے لئے سامان کررہے ہیں۔ تاکہ بدلہ دے ان لوگوں کو جو ایمان والے اور درست اعمال والے ہیں اپنے فضل سے بیشک وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا”۔ (سورہ روم:41تا45)
حضرت عثمان کے دور کافتنہ کہاں تک پہنچا؟۔بنوامیہ و بنو عباس کا کیا حشر ہوا؟۔ پاکستان اور دنیا کے حکمران یہ سمجھ لیں کہ فتنہ جب شروع ہوجاتا ہے تو پھر قابو میں نہیں آتا ہے جس کا انجام پھر بہت خطرناک بن جاتا ہے اسلئے اپنی روش کو درست کریں اور فتنوں کو صرف طاقت کے زور پر نہیں بلکہ عمل وکردار اور اچھے عقائدو نظریات کی بنیاد پر قابو کرنے میں لگ جائیں۔
بخاری میں ہے کہ اسلاف فتنے کے وقت میں جاہلی شاعر امراء القیس کے اشعار سے مثال دینا پسند کرتے تھے:
الحرب اول ماتکون فتیة تسعی بزینتہا لکل جھول حتی اذا اشتعلت و شب ضرامھا ولت عجوزًا غیر ذات حلیل شمطاء ینکر لونہا و تغیرت مکروھة للشم والتقبیل
”جنگ کا اول جوان لڑکی کا سا ہے ۔ اس کی زینت کے عاشق جاہل اس میں دوڑ دھوپ شروع کردیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ بھڑک جائے اور اس کے شعلے پھیل جائیں ۔پھر وہ بوڑھاپے میں بدل جاتی بغیر کشش والی بڑھیا جس کے رنگ سے نفرت ہوجاتی ہے۔وہ ایسی بدل جاتی ہے کہ اسکے سونگھنے اور چومنے سے سب کو کراہیت محسوس ہوتی ہے”۔
افغانستان میں روس کے خلاف جنگ تھی پھر ملاعمر کی آمد ہوئی اور صدر نجیب اللہ شہید کو کئی دنوں تک لٹکائے رکھا۔ پھر امریکہ کی افغانستان میں آمد ہوئی اور طالبان سے جنگ میں سب کی کھلی ہمدردیاں تھیں ۔اب معاملہ کہاں سے کہاں تک پہنچا؟۔ شروع میںمسلمانوں نے قیصر وکسریٰ سپر طاقتوں کو شکست دی تو بڑے مزے تھے لیکن پھر آپس میں جنگ و جدل اور فتنہ وفساد کے ادوار آگئے تو جاہلیت کا شاعر اور اس کی شاعری یاد آگئی۔ قرآن کی طرف رجوع کرتے تو اپنی منزل پھر بھی پاسکتے تھے لیکن قسمت و تقدیر نے خلافت راشدہ کے بعد پھر امارت تک کہاں سے کہاں تک پہنچادیا تھا؟۔
صحیح بخاری میں ایک زبردست حدیث ہے کہ
حضرت حذیفہ نے کہا کہ ہم حضرت عمر کے پاس بیٹھے تھے اور اس نے کہا کہ تم میں سے کس نے نبیۖ کے قول کو محفوظ کیا ہے فتنہ کے بارے میں۔ حذیفہ نے کہا کہ بندے کا فتنہ میں مبتلا ء ہوجانا اپنے اہل ، اپنے مال ، بیٹے اور اپنے پڑوسی کے بارے میں ،تو کفارہ بن جائے گا نماز، صدقہ،امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔ حضرت عمر نے کہا کہ اس فتنے کا نہیں پوچھا بلکہ وہ جس کے بارے تموج کموج البحر جو ٹھاٹھے مارتا ہوا موج ہوگا سمندر کے طوفان کی طرح۔حذیفہ نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین اس کا تمہارے اوپر اثر نہیں پڑے گا بیشک تیرے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ حضرت عمر نے کہا کہ وہ توڑ دیا جائے گا یا کھلے گا۔ حذیفہ : بلکہ توڑ دیا جائے گا۔ عمر نے کہا کہ پھر تو وہ کبھی بند نہیں ہوسکے گا؟۔ حذیفہ : جی ہاں۔
حذیفہ سے پوچھا گیا کہ کیا عمر اس دروازے کو جانتاتھا؟۔ فرمایا : ہاں ! جس طرح میں جانتا ہوں کہ کل سے پہلے رات آئے گی۔ کیونکہ میں نے اغلاط پر مبنی بات نہیں کہی ہے۔ پھر ہم پر ہیبت طاری ہوئی کہ ان سے پوچھتے کہ وہ دروازہ کون تھا؟۔ اسلئے پھر ہم نے مسروق سے پوچھا تو اس نے کہا کہ عمر تھے۔
رسول اللہ ۖ نے حج میں عمرے کا احرام بھی باندھا۔اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ
فمن تمتع بالعمرة الی الحج فما استیسر من الھدی فمن لم یجد فصام ثلثة ایامٍ فی الحج و سبعةٍ اذا رجعتم تلک عشرة کاملة ذٰلک لمن لم یکن اھلہ حاضری المسجد الحرام و اتقوا اللہ واعلموا ان اللہ شدید العقاب
”توجو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے اس پر قربانی لازم ہے جیسی میسر ہوپھر جو قدرت نہیں رکھتا ہے تو3روزے حج کے دنوں میں اور7جب لوٹ کرجاؤ۔یہ مکمل عشرہ10دن ہے۔ یہ اس کیلئے ہے جس کے اہل وہاں مسجد حرام کے پاس حاضر نہیں ہوں۔اور اللہ سے ڈرو ،وہ سخت پیچھا کرنے والا ہے”۔(البقرہ:196)
دورجاہلیت میں حج کیساتھ عمرہ کرنا منع تھا تاکہ لوگ سردی و گرمی میں میلے پر زیادہ سے زیادہ آئیں۔ جیسے لاہور میں پتنگ بازی کا ایک میلہ سردیوں اور دوسرا گرمیوں میں ہو۔ بڑے کاروباری فوائد ہوں۔ سورہ قریش میں سردی گرمی کے سفر سے مانوسی کی نعمت کا ذکر ہے۔ جاہلیت میں حج کے مہینے کو تبدیل کیا جاتا ۔حضرت عمر نے حج وعمرے کا ایک احرام اور اہل کتاب عورتوں کے نکاح سے منع کیا تاکہ عرب کی مسلمان عورتیں بغیر نکاح کے محروم نہ بن جائیں۔ جائز بات سے مصلحت کے تحت منع کرنے میں حرج نہیں تھا جیسے یہود کیلئے ہفتہ کو مچھلی کا شکار منع ہوا۔ آئین پاکستان میں قرآن وسنت کے منافی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ اگر تفریحی مقام پرچھٹی کے دن مچھلی یا پرندوں کے شکار پر پابندی لگائی جائے تو یہ اسلام کے خلاف نہیں ۔
فتوحات کے بعد نومسلم پڑھے لکھوں کی خدمات لی گئیں۔ جن میں ایک مشہور قاضی شریح تھا۔ جو حضرت عمر، عثمان ، علی سے عبدالملک بن مروان کے آخری دور سے چند سال پہلے فوت ہوا۔ قاضی، مورخ ، فقیہ اور مدرس تھا۔ شاگرد پیدا کئے۔ عبداللہ بن عمر نے اہل کتاب کو مشرک قرار دیکر ان سے نکاح کو حرام قرار دے دیا۔ حرام قرار دینے اور منع کرنے میں بڑا فرق ہے۔ جب حضرت عثمان نے حج و عمرے کا احرام ایک ساتھ باندھنے پر پابندی لگائی تو حضرت علی نے اعلانیہ دونوں احرام باندھے اور کہا کہ میں دیکھتاہوں کہ کون روکتا ہے مجھے اللہ کے حکم اور نبیۖ کی سنت پر عمل کرنے سے۔ (صحیح بخاری)
ضحاک گورنر دمشق نے کہا کہ حج و عمرے کا ایک احرام جاہل باندھتا ہے ۔سعد بن ابی وقاص نے فرمایا کہ ” یہ مت کہو، میں نے رسول اللہۖ کو ایک احرام کو اکٹھا باندھتے دیکھا ہے”۔ علامہ غلام رسول سعیدی کی شرح صحیح مسلم میں بہت مواد ہے۔
ایک طرف یزید، مروان بن حکم ، عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹوں کے دور میںسیاسی انحطاط عروج پر تھا تو دوسری طرف حضرت عمر اور حضرت علی کو متوازی متحارب کے طور پر ہی دیکھا جاتا تھا اور پیش کیا جاتا تھا۔ تین طلاق اور حلالہ کی لعنت کا مسئلہ بھی اسی متنازع دور کی پیدوار ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عمر سے پہلے عورتوں کیساتھ متعہ جاری تھاپھر حضرت عمر نے روک دیا۔ شیعہ کے ہاں متعہ اور سعودی عرب نے اس کو اب مسیار کا نام دے دیا ہے۔ بہت ساری چیزوں پر احادیث کی کتابوں میں سخت اختلافات اور تضادات ہیں لیکن جناب مفتی غلام مجتبیٰ ہاشمی برکاتی نے حلالہ پر عجب وغریب قسم کا اجماع نقل کیا ہے۔ حالانکہ یہ محض غلط فہمی یا ہٹ دھرمی کا مرض ہے۔
کسی بھی نعمت کو بدل دیا جاتا ہے تو اس کی جگہ پر بدعت اپنا ڈیرہ ڈال دیتی ہے۔ قرآن کی سورہ النساء میں جہاں محرمات عورتوں کی فہرست چوتھے پارہ کے آخری صفحہ پر بیان ہوئی ہے تو اس فہرست کی آخری عورتیں پانچویں پارہ کے شروع میں ہیں۔ جس کا مطلب اصل حرمت ہے لیکن ضرورت کی وجہ سے جواز بخش دیا گیا ہے۔ اور جواز کی صورت ایگریمنٹ ہے۔ جہاں پھر متعہ کی باقاعدہ وضاحت بھی ہوئی ہے۔ اس طرح سورہ النساء کے شروع میں دودو، تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کی اجازت ہے لیکن جب عدل نہ کرسکنے کا خوف ہو تو پھر ایک یا ایگریمنٹ والیاں۔ جس کا مطلب ہرگز ہرگز بھی لاتعداد لونڈیاں نہیں ہے بلکہ جس طرح ایران یا پھر سعودی عرب میں ایک عورت کیساتھ بھی نکاح کرنے کا عدل نہیں کرسکتا ہو تو پھر ایگریمنٹ، مسیار یا متعہ ہے۔
جب اس کے مفہوم کو تبدیل کردیا گیا تو لوگوں نے بہت ہی بڑی تعداد میں لونڈیاں رکھیں اور اس کو اسلام کا حکم سمجھ لیا تھا اور اس کی وجہ سے آج دنیا مسلمانوں کے غلبہ سے پریشان ہے۔
جبکہ قرآن نے نہ صرف غلام اور لونڈی سے نکاح کا حکم دیا بلکہ ان کی حیثیت غلامی سے نکال کر ایک ایگریمنٹ کے درجہ تک میں رکھی جس کو موجودہ دور میں گروی بھی کہتے ہیں اور یہ گروی رکھنا ملکیت سے نکالنا ہے۔ جس طرح ایگریمنٹ کی دنیا کی تمام زبانوں میں مختلف اقسام ہیں۔ جن میں ہر طرح کا معاہدہ شامل ہے ویسے عربی میں اَیمان کے الفاظ میں کئی اقسام شامل ہیں۔ قرآن میں ایمان سے کہاں کیا مراد ہے؟۔ تو اس میں سیاق وسباق کا بڑا واضح کردار ہے۔ جس کو سمجھنے میں مشکل بھی نہیں ہے۔میرے جیسا آدھا ادھورا بھی کوشش کرے تو حق کی بات سمجھنے میں بہت زیادہ دیر نہیں لگتی ہے۔
جب امام اعظم ابوحنیفہ کی عمر17سال تھی تو محمود بن لبید کا انتقال ہوگیا۔ جب امام ابوحنیفہ کی عمر30سال تھی تو حضرت امام حسن بصری کا انتقال ہوا۔ امام حسن بصری نے جس طرح عبداللہ بن عمر کی تین طلاق کے معاملے پر20سال بعد اپنی رائے بدل دی تو کیا بعد میں مضبوط راویوں کی پیدوار بڑھ گئی تھی یا مسئلہ کچھ اور ہی تھا؟۔ جبکہ حضرت سعید بن جبیر شہادت کی منزل پر ان کی وفات سے15سال پہلے پہنچ چکے تھے۔
ضحاک ظالم گورنر نے حضرت سعد بن ابی وقاص کا تو پھر بھی لحاظ رکھا تھا لیکن حسن بصری سے وہی سلوک ہوتا جو سعید بن جبیر کے ساتھ روا رکھا گیا۔حسن بصری جیسے مستند شخص نے جس طرح عبداللہ بن عمر کے واقعہ پر اپنی رائے بدل دی تو اس کے بعد امام ابوحنیفہ نے کس کس راوی پر کیا اعتماد کرنا تھا؟۔ پھر حسن بصری نے نہلے پر دہلا کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ”حرام کے لفظ سے جو نیت بھی کی جائے۔ بعض علماء کا اجتہاد ہے کہ حرام کا لفظ تیسری طلاق ہے جو کھانے پینے کی طرح نہیں کہ کفارہ ادا کرنے سے حلال ہوجائے بلکہ اس کیلئے حلالہ سے گزرنا پڑے گا”۔ صحیح بخاری نے اپنی کتاب میں یہ لکھاہے ۔
بخاری ، مسلم اور ابوداؤد تینوں امام احمد بن حنبل کے شاگرد ہیں۔ جن کا کام فقہ سے زیادہ روایات اور احادیث کو جمع کرنا تھا انہوں نے متضاد روایات بھی مختلف موضوعات پر لکھی ہیں۔
امام احمد بن حنبل ابوداؤد طالسی کے شاگرد تھے جو سفیان ثوری کے شاگرد تھے۔ سفیان ثوری امام ابوحنیفہ کے ہم عمر اور ان کے سخت مخالف تھے۔ جب عمر بن عبدالعزیز نے احادیث کی اجازت دی تو روایات کی بہتات کا شاخسانہ مسئلہ بن گیا۔ حکمرانوں نے اپنے مطلب کیلئے کس کو کھلی چھوٹ دی اور کس کو پابند سلاسل کیا تھا وہ بھی ایک اپنی جگہ پر زبردست تاریخ ہے۔
حضرت عائشہ کے سامنے حدیث کا ذکر کیا گیا کہ کتے اور عورت کے سامنے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟۔ تو فرمایا کہ تحقیق تم نے ہمیں کتے بنادیا۔ میں نے نبیۖ کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں اور میں آپ اور قبلہ درمیان تھی اور میں نے چارپائی کی طرف ٹیک لگائی تھی …(صحیح بخاری)
اصل بات یہ ہے کہ محمود بن لبید کی روایت میں جن اشخاص کا ذکر ہے وہ دیگر روایات سے ثابت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے طلاق دی تھی اور خبر اور قتل کی پیشکش حضرت عمر نے کی تھی۔ اور بخاری کی کتاب التفسیر سورہ الطلاق میںہے کہ نبیۖ اس خبر پر غضبناک ہوگئے۔ پھر رجوع کا حکم دیااور قرآن کے مطابق عدت کے تین طہر میں تین مرتبہ طلاق کا عمل سمجھایا اور فرمایا کہ یہی وہ عدت ہے کہ جس میں اللہ نے اس طرح سے طلاق کا امر فرمایا ہے۔ یہی روایت بخاری کی کتاب الطلاق، کتاب العدت اور کتاب الاحکام میں بھی ہے لیکن ان میں نبیۖ کے غضبناک ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ ویسے تو قرآن کسی ایسی روایت کا محتاج نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ۖ غضبناک ہوئے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ قرآن میں معاملہ بالکل واضح تھا پھر اسکے باوجود عبداللہ بن عمر نے اس کو کیوں نہیں سمجھا؟۔ یا پھر اس کی خلاف ورزی کیوں کی؟۔ محدثین کے استاذ ابن ابی شیبہ نے امام ابوحنیفہ کے خلاف مستقل کتابچہ مرتب کیا ہے جس میں وہ125مسائل میں امام ابوحنیفہ کی رائے کو حدیث کے خلاف قرار دیتا ہے۔ ابن ماجہ نے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ قرآن کی دس آیات جن میں رجم اور بڑے آدمی کو دودھ پلانے کے احکام تھے وہ بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئے۔ ہوسکتا ہے کہ دو مسئلے یہ بھی125میں شامل ہوں نہیں تو127کردیں۔
حنفی علماء کرام ومفتیان عظام بخاری کی ان17روایات کو نہیں مانتے جن میں نماز کے اندر رفع الیدین کا ذکر ہے لیکن حلالہ کی لعنت کیلئے ختم بخاری کے پیچھے کہانی کوئی اورلگتی ہے۔
بخاری نے حلالہ کی لعنت کیلئے جس حدیث کو پیش کیا ہے وہ انتہائی درجہ کی خیانت اور امت کا بیڑہ غرق کرنے میں بنیادی کردار کا حامل ہے۔ چنانچہ وہ ”من اجاز الطلاق الثلاث” کے عنوان سے وہ روایت نقل کرتے ہیں رفاعة القرظی نے جو ایک عورت کو طلاق دی اور پھر عبدالرحمن بن زبیر القرظی نے اس سے شادی کی تھی اور اس نے دوپٹے کا پلو دکھایا تھا۔
جس سے لوگوں کو یہ مغالطہ ہواہے کہ جیسے آج کل کے مفتی کرتے ہیں کہ اکٹھی تین طلاق پر رجوع کا نہیں حلالہ کا فتویٰ تھوپ دیتے ہیں۔ اگر رسول اللہۖ کے پاس کوئی ایسا فتویٰ آتا تو جب سورہ بقرہ آیت228میں واضح ہے کہ عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے تو رسول اللہۖ اس عورت کو حلالہ کا فتویٰ کیوں دیتے؟۔ ذرا ایمانداری سے اپنے دل پر ہاتھ رکھو اور اپنا ایمان ، انصاف اور مسلک حنفی کو چیک کرو کہ جہاں احادیث صحیحہ کو اسلئے قبول نہیں کیا جاتا ہے کہ قرآن میں حتی تنکح زوجًا غیرہ کے اندر عورت جہاں چاہے وہ اپنا نکاح کرنے میں آزاد ہے۔ اس کے مقابلے میں حدیث
من نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحہا باطل باطل باطل
” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔ کو مسترد کیا جاتا ہے۔
جبکہ اللہ نے فرمایا:
وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا
”اور ان کے شوہر اس مدت میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اصلاح کی شرط پر”۔ قرآن کے خلاف اس حدیث کو کیسے قبول کیا جاتا ہے؟۔
لیکن اس کے خلاف کوئی حدیث ہے بھی نہیں اسلئے کہ جس حدیث کا بخاری نے حوالہ دیا ہے تو وہ بخاری کے علاوہ کسی بھی فقیہ اور محدث کے ہاں قابل قبول نہیں ہے۔ حتی کہ بخاری کے نزدیک اس عنوان کے تحت اس کو یہاں داخل کرنا غلط تھا اسلئے کہ بخاری نے خود ہی واضح کردیا ہے کہ رفاعہ القرظی نے الگ الگ مرتبہ تین طلاقیں دی تھیں۔ دوسرا یہ کہ نامرد ہونے کی بھی شکایت کا مطلب یہ نہیں کہ رات کو بھیج دیا اور صبح عورت حاضر ہوگئی کہ وہ تو حلالہ کے قابل ہی نہیں۔ اگر یہ بات بھی ہوتی تو یہ ایک مفتی بھی نہیں کرسکتے کہ نامرد پر عورت کو حلالہ کرنے اور اسی طرح کے مزے اڑانے پر مجبور کرے چہ جائیکہ نبیۖ پر ایسی تہمت لگائی جائے؟۔ بخاری نے پھر یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کو شوہر کی طرف سے سخت مار پڑی تھی اور اس نے اپنے زخموں کے نشان حضرت عائشہ کے سامنے کپڑا اٹھا کر دکھائے تھے اور بخاری نے یہ بھی واضح کیا کہ اسکے شوہرنے نامرد ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اس کی چمڑی ادھیڑتا ہوں جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ یہ حلالے کا قصہ نہیں تھا۔
صرف ایک دلیل امام شافعی کی ہے کہ لعان کے بعد عویمر عجلانی نے تین طلاق دی لیکن اس کی وجہ سے یہ کہنا حماقت ہے کہ رجوع کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور قرآن کی آیات منسوخ ہوجاتی ہیں۔اسلئے کہ وہ سورہ الطلاق کی وضاحت ہے کہ فحاشی کی صورت میں عدت کے اندر بھی گھر سے نکالی جاسکتی ہے۔
ابوداؤد نے سورہ الطلاق کی وضاحت کیلئے ام رکانہ اور ابورکانہ کے واقعہ بھی نقل کیا ہے جس میں سورہ الطلاق کے عین مطابق مرحلہ وار تین طلاق کے بعد کافی عرصہ بعد بھی ان سے رسول اللہۖ نے فرمایا کہ وہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا ہے؟۔ جب انہوں نے تین طلاق کا بتایا تو نبیۖ نے سورہ طلاق کی پہلی دو آیات سے واقعہ کی صورتحال واضح فرمائی اور شاید ابواداؤد کو خود بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ حدیث مسائل کا حل ہے اسلئے ایک اور حدیث ابوداؤد نے نقل کی ہے کہ اللہ اس شخص کو خوش رکھے جس نے میری بات صحیح نقل کی اسلئے کہ بسا اوقات نقل کرنے والا خود نہیں سمجھتا ہے لیکن جس تک پہنچتی ہے تو وہ سمجھتا ہے۔ مفتی غلام مجتبیٰ صاحب! امید ہے کہ آپ نے حقائق کو سمجھ لیا ہوگا ۔سورہ فاتحہ کوپیشاب سے لکھنے کی بات بھی فقہ کی معتبر کتابوں میں ہے اور ہم نے ریورس گیر لگانے پر مجبور کیا ۔حلالہ کی لعنت بھی جلد ختم ہوجائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ
اگر فقہ کے امام اعظم ابو حنیفہ ہیں اور حدیث کے امام اعظم سفیان ثوری ہیں تو دونوں کا موازنہ کیا ہے؟۔ امام ابوحنیفہ پر حدیث کے مقابلے میں قیاس کو مذہب بنانے کا الزام ہے لیکن اگر امام حسن بصری سے بخاری و مسلم میں عبداللہ بن عمر کی طلاق اور حرام کے لفظ پر علماء کے اجتہاد کو دیکھا جائے جہاں ایک بڑا جلیل القدر تابعی کثیر صحابہ تک رسائی کے باوجود بھی روایوں کا نام نہیں بتاتا ہے جس کو تدلیس کہتے ہیں تو سفیان ثوری نے بھی راویوں کے نام چھپانے میں تدلیس کا ارتکاب کیا تھا اور اس کی توجیہہ بھی غلط بیان کی جاتی ہے کہ عباسی خلفاء سے بچانے کی خاطر یہ کام کیا تھا ۔ممکن ہے ان میں کچھ نے بنوامیہ کے حق میں کچھ گھڑا ہو۔ اور مزے کی بات ہے کہ آخر میں خدا کے ڈر سے اپنے شاگرد کو اپنی کتابیں جلانے کا حکم دیا ۔ کتب احادیث میں کہاں سفیان ثوری کی30ہزار احادیث اور کہاں امام ابوحنیفہکے قیاس والے مسائل؟۔ عبداللہ بن مبارک نے کہا ”شاگردوں نے ابو حنیفہ کو ضائع کردیا” ۔ عبداللہ بن مبارک امام ابوحنیفہ ، اوزاعی،سفیان ثوری،ہشام بن عروہ ،امام مالک کے شاگرداور ابن ابی شیبہ اور ابوداؤد کے استاذ تھے۔3طلاق اور عدت کے بعد ابوداؤد میں رکانہ کے والدین کو نبیۖ کے واضح حکم اور سورہ طلاق کی تفسیر کے تناظر میں دیکھیں اور اسکے مقابلہ میں بخاری کی حلالہ والی روایت کو دیکھیں تو اہلحدیث، شیعہ اور احناف کھلے دل سے حق پر متحد ہوں گے۔ملاجیون کی کتاب”نورالانوار” کے دامے،درمے، سخنے قرآن ، احادیث اور اصول فقہ پر پاکستان اور دنیا بھر میں اجماع ہوجائے گا۔
سبھی فتنے دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث،غامدی، پرویزی،ناصبی، دعوت اسلامی، تبلیغی جماعت، تنظیم اسلامی اور جماعت اسلامی سمیت ایک اور نیک مسلمان بن جائیں گے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ