نسا ء رحیم نے بدھ مت سمجھنے سے اسلام کوزیادہ بہتر سمجھا
جنوری 6, 2026
علامہ شمس الدین شکری نے نساء رحیم سے انٹرویو لیا۔
بدھ مت کو مذہب نہیں سائنسی فلسفہ قرار دیا۔ خطہ میں بدھ مت تھا اور محرب پور سندھ میں ایک پسماندہ خاندان ابھی تک موجود ہے۔ نساء رحیم کا گھرانہ خوشحال ہے۔ انٹرویو تفصیلی ہے۔ انبیاء کی بعثت جاری تھی تو رام کرشن اور گوتم بدھ انبیاء تھے یا نہیں؟۔ مشرکین عرب کا ابراہیم کی نبوت پر ایمان تھا مگر صحائف ابراہیمی انکیپاس نہیں تھے اور اہل کتاب نہیں کہلاتے تھے۔ اسلام نے تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کو یکساں احترام دیا ۔سورہ حج میں اللہ نے فرمایا:
الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا اللہ و لو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعضٍ لھدمت صوامع و بیع و صلوٰت و مساجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیرًا و لینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیزOالذین ان مکنا ھم فی الارض اقاموا الصلاة واٰتوا الزکاة وامروا بالمعروف و نھو عن المنکر وللہ عاقبة الامورO
”وہ لوگ جنہیں ناحق انکے گھروں سے نکال دیا گیا صرف یہ کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ اگر اللہ ایکدوسرے کے ذریعے لوگوں کا دفاع نہ کرتا تو ڈھا دئیے جاتے خانقاہیں، مندر، گرجے اور مساجد جس میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے۔ اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ طاقتور زبردست ہے۔ وہ لوگ اگر زمین میں ہم انہیں حکومت دیں تو نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں اور معروف کا حکم دیں اور منکر سے روکیں اور اللہ کیلئے کاموں کا انجام ہے”۔ ( الحج:آیت40،41)
جب طالبان کو حکومت مل گئی تو امیر المؤمنین ملاعمر نے بدھا کے مجسمے گرائے اور تصاویر کے خاکوں پر بھی پابندی لگائی تھی مگر اب طالبان میں شعور آگیا اور ویڈیوز بھی بناتے ہیں اور بدھا کے مجسموں کو بھی کچھ نہیں کہتے۔ طالبان کی اس غلطی میں ایک مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کے غلط علمی اپروچ نے بنیادی کردار ادا کیا اور دوسرا بنیادی کردارمیرا تھا۔ اسلئے کہ1987ء میں اپنے گاؤں جٹہ قلعہ گومل سے سارے ٹی وی نکال دئیے اور پھر1990ء میں پاکستان کے تقریباً اکثر شہروں میں جاندار کی تصویر، داڑھی ، پردے اور نماز، زکوٰة اور حج کی ادائیگی کیلئے آواز اٹھائی۔ جس کے بعد پہلے تحریک نفاذ شریعت صوفی محمد اور پھر تحریک طالبان کی حکومت نے افغانستان میں عملی شکل دی۔
مولانا سید سلیمان ندوی نے ”معارف اعظم گڑھ” میں بڑا ایڈیشن تصویر کے جواز ،مجسموں کی نمائش اور دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں میں بتوں کے تحفظ کیلئے شائع کیا۔ جس پر خوامخواہ میں مفتی محمد شفیع اس وقت استعمال ہوگئے جب وہ پورے عالم ومفتی بھی نہیں بلکہ ایک منشی تھے۔ اگر چہ بعد میں مفتی شفیع نے بعض معاملات سے اگر مگر کرکے رجوع کیا اور یہ بھی لکھ دیا کہ مجھے اس وقت ان کے علمی مقام کا پتہ نہیں تھا لیکن حق یہ تھا کہ جب علم ہوگیا تو کھل کر اس کا اظہار بھی کردیاجاتا۔
علامہ سیدمحمد یوسف بنوری کے نواسے عامر طاسین نے بتایا کہ ان کے گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی تھا جس میں اپنے والد مولانا طاسین کے پروگرام دیکھتے تھے۔ علامہ بنوری وہاں گھر پر تشریف لاتے مگر کبھی ٹی وی کی مخالفت نہیں کی۔ علامہ بنوری نے مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے ساتھ گروپ فوٹو کھینچوانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میں تقوی دار نہیں اور فوٹو سے پرہیز بھی نہیں کرتا مگر شاہ کیلئے یہ کام نہیں کرسکتا”۔
جب ہم نے تصاویر کیخلاف مہم شروع کی تو جماعت اسلامی کی شوریٰ نے بھی فیصلہ کیا کہ” گروپ فوٹونہیں کھینچوائیںگے” اور اس پر2003ء میں جنگ گروپ کے ایک پروگرام”مذہبی انتہاپسندی اور پاکستان کا مستقبل” میں پروفیسر غفور احمد میرے ساتھ شریک تھے تو میں نے جماعت اسلامی کی شوریٰ کے اس فیصلے کا حوالہ بھی اس پروگرام میں دیا تھا۔ اور انتہا پسندی کی بنیاد ریاستی اداروں کے کردار کو قرار دیا تھا۔ لیکن مذہبی شدت میں مذہبی جماعتوں کے کردار کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
2004ء میں جاندار کی تصویر کے جواز کے انکشاف پر ایک کتاب”جوہری دھماکہ” لکھی ہے جس نے مذہبی رحجانات کا کھایا پلٹ دیا۔ علامہ سید سلیمان ندوی کے دلائل بھی تھے ۔ علماء نے لاؤڈ اسپیکر پرنماز، آذان اور اقامت کو ناجائز قرار دیا تو تبلیغی جماعت اس میں پک گئی لیکن علماء نے بہت خیانت اور گونگے شیطان کا کردار ادا کرتے ہوئے یہ نہیں بتایا کہ وہ فتویٰ ہم نے بالکل غلط دیا تھا ورنہ تبلیغی جماعت والے خوار نہ ہوتے لیکن اس کا نقصان علماء کو بھی پہنچا کہ تبلیغی جماعت والے انہیں بے عمل سمجھنے لگے۔ افغانستان کے طالبان کی نظروں میں بھی یہ گرے ہوئے لوگ تھے۔ اگر علامہ سید سلیمان ندوی کے علم کو عام کردیا جاتا تو سارے اکابر علماء کی چھپی ہوئی تصویریں تقیہ کا شکار نہیں ہوتیں۔ جب ہم نے کتاب اور اخبار میں تشہیر کردی تو سارے اکابر تصویر کے معاملے پرماشاء اللہ چھپے رستم نکلے ۔
اگر ملاعمرکو سورہ حج کی آیت اور علامہ سید سلیمان ندوی کی کتاب کا علم ہوتا تو بدھا کے مجسموں کو بدھ مت کے پیروکاروں کیلئے چھوڑا جاسکتا تھا۔ چین، جاپان، برما،کوریا، تھائی لیند اور نپال وغیرہ بہت سارے ممالک کے لوگوں کو قرآن کی آیت پر عمل کرنا اچھا لگتا۔ جب سندھ کو فتح کیا گیا تھا تو ریاست کیلئے بہت زیادہ آمدن کے ذرائع بڑے بڑے مندر بھی تھے۔ قرآن نے مذہبی تجارتی مراکز کیلئے ”بیع” کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کو جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی آمدن سے حصہ نہیں ملتا تھا تو مولانا محمد خان شیرانی کو چلتا کردیا تھا اور مدارس، خانقاہیں، مذہبی وسیاسی جماعتیں اور قوم پرست لسانی تنظیمیں بھی تجارت کے محور ہیں۔ حامد میر نے اوصاف اخبار میں مفتی نظام الدین شامزئی شہید کی بات لکھی تھی کہ ” واشنگٹن امریکہ سے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے ذریعے جہادی تنظیم کو پیسہ آرہا ہے جو علماء کرام کو خریدتے ہیں اگر یہ باز نہیں آئے تو ان کا بھانڈہ چوراہے کی بیچ میں پھوڑ دیںگے”۔ حامد میر نے اخبار کے اداریہ میں لکھ دیا کہ ”باز نہیں آئے تو یہ کام کرلینا”۔
ہمارا مذہبی بہروپیہ طبقہ اپنا دین سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ نساء رحیم کو سنیں ،سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایک بہت زیادہ ذہین اور لکھا پڑھا شخص نفساتی مریض ہوسکتا ہے۔ نساء رحیم نے بتایا کہ جب وہ کسی بدھ مت والے استاذ کے پاس گئی تو اس نے کہا کہ تیری آمد متوقع تھی اور بتایا کہ ایک فرشتے نے تیری آمد کی خبر دی تھی۔ مسلمان مانتے ہیں کہ غزوہ بدر میں فرشتوں اور شیطان نے اپنا کردار ادا کیا تھا۔ حضرت عمران بن حصین نے کہا کہ جب ہم سنت پر عمل پیرا تھے تو اس وقت گلیوں میں فرشتے ہم سے ہاتھ ملاتے تھے۔ اقبال نے کہا کہ ”فضا بدر پیدا کر آسکتے ہیں فرشتے قطار اندر قطار اب بھی” ۔2500علماء کی بیٹھک سے فیلڈ مارشلCDFحافظ سید عاصم منیر نے کہا کہ ”میں نے اللہ کی مدد بنیان مرصوص میں اترتی ہوئی دیکھی ہے”
اعمال صالحہ سے مراد عبادت نہیں بلکہ درست اعمال ہیں۔ ہمارے اسلام کے خول لگانے والے نفرتوں کے فروغ کو عمل صالح سمجھتے ہیں۔نساء رحیم نے بدھ مت میں فرشتے کی تعلیم سیکھ لی یا شیطانی عمل ؟ لیکن اسلام کو پہلے سے زیادہ بہتر سمجھنے کا دعویٰ کررہی ہیں۔ روحانی دنیا میں انکشافات عجیب وغریب تو ہوتے ہیں لیکن درست ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی ہے۔
تری نگاہ میں ہے معجزات کی دنیا
مری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیا
تخیلات کی دنیا غریب ہے لیکن
غریب تر ہے حیات و ممات کی دنیا
عجب نہیں ہے کہ بدل دے اسے نگاہ تری
بلا رہی ہے تجھے ممکنات کی دنیا
علامہ اقبال خود صوفی تھے اور یہ خطاب بھی صوفی سے تھااور علماء دیوبند پر ڈاکٹر مسعودالدین عثمانی نے گمراہی کے فتوے مشاہدات کی وجہ سے لگائے۔ حالانکہ قرآن میں اس سے بھی بڑے بڑے معجزات ہیں اور اس کی بنیاد پر معتزلہ بننے کی جگہ بہتر ہے کہ بندہ الحاد یا بدھ مت کا فلسفہ قبول کرلے۔ بدھ مت کے لوگ بہت ممالک میں بڑی تعداد کے اندر ہیں لیکن زیادہ تر لوگ اس کو مذہب نہیں سائنس سمجھتے ہیں اسلئے اپنے مذہبی خانہ کو خالی چھوڑتے ہیں اور بعض ممالک میں کمیونزم کی وجہ سے ان پر مذہب کے نام کو استعمال کرنے کی پابندی بھی رہی ہے۔
اگر ہم نے درست اسلامی نظام کی حقیقت کو اجاگر نہیں کیا تو معاشی، معاشرتی، سیاسی ، اخلاقی ، ریاستی، حکومتی، تعلیمی اور مقامی وبین الاقومی سطح پربڑی مشکلات میں پڑسکتے ہیں۔
قرآن کے احکام کا درست ڈھانچہ کھڑا ہوگا تو پھر اسکے بعد عالم انسانیت کو اس میں عجیب و غریب علوم بھی نظر آئیں گے۔
آیات متشابہات مشتبہ مشکوک نہیں بلکہ مشابہ جن کی نظیریں دنیا میں نظر آئیں گی۔ سائنسی اعتبار سے الگ حقائق اور روحانی اعتبار سے الگ ۔ معاشرتی اور تاریخی اعتبار سے الگ ہیں۔14سو سال پہلے پہاڑ جیسے سمندری جہازوں اورقد کاٹ کے برابر گاڑیوں کا کوئی تصور نہیں تھا۔ بولنے والی کتاب کا تصور نہیں تھا لیکن کتاب ینطق بولنے والی کتاب اب سمجھ میں آرہی ہے۔ عربی میں جب پہیہ گاڑی ایجاد ہوئی تو اسکا نام عریبہ رکھا۔کیونکہ عربی قوم بھی خانہ بدوش تھی اور سفر میں نقل و حمل جاری رہتی تھی تواسکی مناسبت سے گاڑی کا نام رکھنا عرب زبان کی فصاحت وبلاغت اور قرآن کی پیشگوئی کا معجزہ ہے۔
قرآن میں ”عربًااترابًا: قد کے برابر گاڑیوں کا تصور” موجود ہے لیکن اس کی تفسیر اس وقت درست ہوسکے گی کہ جب ہم قرآن کے مرکزی احکام کے ڈھانچے کو معاشرے میں کھڑا کردیں گے۔ اگر قرآن کے الفاظ دیکھ کر پہیہ والی گاڑی کا نام عریبہ رکھا جاتا تو اس شعوری تفسیر کو اغیار نہیں مانتے لیکن جب لاشعور میں یہ نام رکھا گیا ہے اور پھر اس کی درست تفسیر سامنے آئے تو عالم انسانیت حیرت زدہ ہوکر مان جائے گی۔
نساء رحیم نے ماضی میں جھانکنے کی بات بدھ مت کے حوالہ سے کی ہے۔ و اذاخذ ربک من بنی اٰدم من ظھورھم وذریتھم و اشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالوا بلی شھدنا ” اور جب تیرے رب نے پکڑا ، بنی آدم میں سے ان کی پشتوں سے اور ان کی اولاد سے اور ان کو گواہ بنایا ان کی جانوں پر کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟۔ انہوں نے کہا کہ ہاں !۔ ہم گواہی دیتے ہیں”۔ (اعراف:172)
قال اللیث عن عائشة رضی اللہ عنھاقالت سمعت رسول اللہ ۖ یقول : الارواح جنود مجندة فما تعارف منھا ائتلف و ماتناکر منھا اختلف (3336)
حضرت عائشہ سے رسول اللہ ۖ نے فریاکہ ” روحوں کے تہہ در تہہ جھنڈ تھے پس جو وہاں ایکدوسرے سے اچھے تھے تو یہاں بھی محبت ہوتی ہے۔اور جن کی وہاں پر آپس میں نفرت تھی تو یہاں بھی ایکدوسرے کی مخالفت ہے”۔ (صحیح بخاری)
اگر محترمہ نساء رحیم اتنی توجہ قرآن وسنت کی طرف دیں تووہ ایک انقلاب برپا کرسکتی ہیں۔ ہدی بھرگڑی نے عورت کے حق کیلئے بڑی جاندار آواز اٹھائی مگر نتیجہ خاص نہیں نکلا۔ اگر قرآن کی طرف توجہ کی ہوتی تو بہت بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل جاتی۔
علامہ شمس الدین اتنا ہی بتادیتے کہ ”شیعہ کے نزدیک بھی رجعت کا عقیدہ ہے”۔ہندو اورصوفیاء بھی ماضی میں جھانکنے کا کہہ سکتے ہیںمگر اس میں شیطانی کھیل ہوسکتا ہے۔ البتہ قرآن اور آسمانی کتابوں کی ”وحی” شیطانی مداخلت سے محفوظ ہے۔
سورہ بقرہ کے پہلے دو رکوع میں مؤمنین، کفار اور منافقین کا ڈیٹا بیان کیا گیا ہے۔ یہود تعصب میں عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹااور عیسائی حضرت مریم کوخدا کی بیوی اور حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ ان سے دین ابراہیمی پر قائم رہنے والے وہ لوگ بہترتھے جن کا شرکیہ عقیدہ نہیں تھا۔ رسول اللہۖ کے والدین اور چیدہ چیدہ صحابہ کرام جو اسلام سے پہلے بھی شرک کا ارتکاب نہیں کرتے تھے۔ان کو سورہ بقرہ کے پہلے اور دوسرے رکوع میں کفار اور منافقین کے ترازو میں تولا جائے تو کفر ثابت نہیں ہوگا اسلئے کہ کفار کے دلوں اور کانوں پر اللہ نے مہرلگانے اورآنکھوں پر پردہ ڈالنے کا فرمایا ہے۔ رام کرشن اور گوتم بدھ کے بارے میں بھی اچھا گمان رکھ سکتے ہیں اللہ نے فرمایا:
”اور اگر یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو اس سے پہلے قوم نوح، عاد اور ثمود نے بھی جھٹلایااور قو م ابراہیم اور قوم لوط نے اور مدین والوں نے اور موسیٰ جھٹلایا گیا تو میں نے کافروں کو مہلت دی پھر انکو پکڑلیا۔تو پکڑ کیسی تھی؟۔ سو کتنی بستیاں ہم نے ہلاک کردیں جو ظالم تھیں اور وہ چھتوں پر گری پڑی ہیں اور ویران کنویںاور کتنے پکے محلات اجڑے پڑے ہیں۔ کیا زمین میں یہ چلتے پھرتے نہ تھے ،توانکے دل تھے جن سے سمجھتے تھے اور کان تھے جن سے سنتے تھے ۔پس بیشک آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینے میں ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں۔ یہ تجھ سے عذاب جلدمانگتے ہیں اور اللہ اپنے وعدے کیخلاف نہیں کرتااور ایک دن تیرے رب کے نزدیک ہزار سال کے برابر ہے جس کو وہ گنتے ہیں۔ اور کتنی بستیاں ہیں جن کو مہلت میں نے دی اور ظالم تھیں پھر ان کو پکڑ لیا۔ اور میری طرف ہی لوٹ کے آنا ہے۔ کہہ دو کہ اے لوگو! بیشک میں تمہارے لئے کھلا ڈرانے والا ہوں۔ پس جنہوں نے ایمان لایا اور اعمال کئے درست ،ان کیلئے مغفرت اور عزت والی روزی ہے۔ اور جنہوں نے ہماری آیات کو مغلوب کرنے کی کوشش کی تو یہی لوگ جحیم والے ہیں”۔( سورہ حج آیات:42سے51)
بعض لوگوں نے ڈیڑھ ہزار سال بعد قیامت کا تخمینہ لگایا تھا اور اللہ کے نزدیک ڈیڑ ھ سال ڈیڑھ دن کے برابر ہیں اور مروان ویزید کے دور میں جس طرح اقتدار پر قبضہ کرکے حلالہ کی لعنت مسلط کردی گئی تو گویا ابھی ڈیڑھ دن نہیں گزرے ۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ