پوسٹ تلاش کریں

پشتون، افغان اور پٹھان کی حیران کن تاریخ شجرہ کہاں سے آیا؟۔بریگیڈئیر (ر) ہارون کے چونکا دینے والے انکشافات

پشتون، افغان اور پٹھان کی حیران کن تاریخ شجرہ کہاں سے آیا؟۔بریگیڈئیر (ر) ہارون کے چونکا دینے والے انکشافات اخبار: نوشتہ دیوار

شتون، افغان اور پٹھان کی حیران کن تاریخ شجرہ کہاں سے آیا؟۔بریگیڈئیر (ر) ہارون کے چونکا دینے والے انکشافات

1857 ء کے غدار خان اور نواب تھے محمود جان بابر کا یہ انٹرویو مثبت رحجان پیدا کرسکتا ہے لیکن تفصیلات عوام کے سامنے لائیں مزید

محمود جان: وقتا فوقتا ہم ایسی شخصیات سے ملتے ہیں جن کے پاس معلومات، احساسات اور ان کی آپ بیتیاں ہوتی ہیں۔ یہ خزانے اس لیے لائے جاتے ہیں تاکہ آپ انہیں دیکھیں اور آپ کو معلوم ہو کہ آج ہم جس حالت میں ہیں، یہ پاکستان جو بچا ہوا ہے، آخر کن لوگوں کی وجہ سے بچا ہے۔ جی سر، شکریہ۔

پٹھانوں کی تاریخ کے حوالے سے، اور آپ کی تحقیق کے حوالے سے، بڑی عجیب اور دلچسپ باتیں سنی ہیں۔ یہ کام کیسے شروع ہوا جناب؟
ہارون الرشید: یہ کام1987میں شروع ہوا۔ اسلام آباد ایک سیمینار میں شریک ہوا جو کشمیر کی جنگ1947-48کے بارے میں تھا۔ بہت سارے مقرر اور بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔ تقریباً سب نے برا بھلا کہا کہ اگر پٹھان کشمیر نہ آتے تو ہم سری نگر بھی فتح کر لیتے، ہم لداخ بھی پہنچ جاتے۔واقعی مجھے بہت حیرت ہوئی۔میں نے سوچا، کیا واقعی ہم اس طرح کے تھے؟۔

نامور صحافی محمود جان بابر: کیا وہ کشمیری تھے؟۔
جواب: نہیں۔ بولنے والے عام لوگ نہیں تھے۔ یہ چانسلر تھے۔سندھ اور پنجاب سے بڑے سینئر اور پڑھے لکھے لوگ تھے۔اس پر مجھے شدید احساس ہوا کہ یہ کیا بات ہے؟کیا واقعی ہم ایسے تھے؟۔میں واپس آیا اور اپنے بڑے بھائی ریٹائرڈ جرنل سے کہا کہ میں نے تو اپنے بڑوں سے یہ سنا ہے کہ آج آزاد کشمیر ہے، تو پٹھانوں نے آزاد کروایا۔لیکن وہاں جا کر ہمیں گالیاں دی جا رہی ہیں۔

سوال: یہ بات ہم نے خود کشمیریوں سے بھی سنی ہے۔
جواب: کشمیری خود کہہ رہے تھے کہ یہ کام پٹھانوں نے کیا ۔میرے بھائی نے مجھے مشورہ دیا کہ اس لڑائی میں جو پٹھان شہید ہوئے ، ان کو تلاش کرو۔وہ پٹھان جو بطور مجاہد اور لڑاکا، قبائلی آئے ۔ شہداء کے ناموں کی لسٹ ایک کتاب تیار کرو۔ میں نے کتابیں دیکھیں محسوس ہوا کہ پٹھانوں کی تاریخ مکمل نہیں ۔وہcomprehensiveنہ تھی۔ہر ایک نے اپنے قبیلے کے بارے میں لکھا وہ بھی بہتmediocreانداز میں۔ سرسری باتیں تھیں،shallowقسم کی گفتگو تھی۔میرا ارادہ تھا کہ اس کام کو زیادہ ایڈوانس سطح پر لے جاؤں۔ بہتomprehensiveشکل میں پیش کروں۔Research methodologyکے ذریعے۔اسلیے میں نے میں نےarchives visitکیے۔Peshawar Archive،Quetta Archive،Islamabad Archive۔کیبنٹ ڈیویژن سیکریٹری صاحبزادہ امتیاز سے درخواست کی اصل حقیقت چاہیے۔انہوں نے اس طرح مدد کی کہ لندن میں ہماری انڈین آفس لائبریری کی مائیکرو فلم منگوائیں۔ان مائکرو فلمز کی مالیت کروڑوں میں تھی۔ انہوں نے کیبنٹ ڈویژن میں نیشنل ڈاکیومینٹیشن سینٹر بنایا، وہاں سے میں نے معلومات حاصل کی۔میں نےgazetteers، ہماری جتنی پرانی کتابیں تھیں، افغان میگزین دیکھے۔Gazetteersمیں وہ تمام خطوط ہیں جو ایکدوسرے کو لکھے گئے ۔ کچھgazetteersمیں اس وقت کی خاندانی ہسٹری ،کچھ میں قبائلی ہسٹری ہے۔ہر ضلع کا الگgazetteerہے اور ان کی دو تین اقسام ہیں۔پھر ان کی سپلیمنٹ رپورٹس ہیں۔ سپلیمنٹ رپورٹس سے کسی قبیلے کے بارے میں بہت اندر کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔

سوال: میں آپ کی ریسرچ کے ذرائع بھی ساتھ ساتھ سمجھنا چاہ رہا ہوں؟۔
جواب: انگریزوں کی جو یہاں موجودگی رہی ،1848کے بعد، انہوں نے بہت اچھی اچھی کتابیں لکھی ہیں۔بطور مثال ایک ہیںDoctor Bell۔
Doctor Bell first Afghan war میں گئے تھے، جو1839سے1842تک ہوئی۔وہdoctorلیکن وہ جوان کیپٹن بھی تھے۔قندھار میں جو بادشاہ کی بہت اچھی لائبریری تھی، انہوں نے وہاں سے ساری کتابیں اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیں انہوں نے پٹھانوں پر چھ کتابیں لکھیں۔
Races of Afghanistan اور اسی نوعیت کی دوسری مختلف کتابیں مشہور انگریز مصنفین نے لکھی ہیں۔ ان سب کی ایسی کتابیں ہیں جو بڑی محنت سے لکھی گئی ہیں۔اور ان میں آپ کو سچ نظر آتا ہے۔

سوال: کہتے ہیں انگریز نے ہماری تاریخ کو مسخ کیا، تعصب کے ساتھ لکھا۔
جواب: انگریزوں کی بہت سی کتابوں میں پٹھانوں کی تعریف بھی دیکھی۔ یہ الگ ہے کہ جب ہمارے لوگ انکے غلام بن گئے،چند فیملیاں جن کو انہوں نے نواب بنایا، خان بہادربنایا،ان خاندانوں کے بارے میں انہوں نے غلط باتیں لکھی ہیں۔لیکن پٹھانوں کے بارے میں مجموعی طور پر غلط باتیں نہیں لکھیں۔

سوال: پٹھانوں کے بارے میں نہیں، مخصوص خاندانوں کے بارے میں؟
جواب: جی ہاں، بالکل۔ ایک مثال دیتا ہوں1857کی جنگ شروع ہوئی تو پشاور میں چار انگریز افسر تھے۔Edwards،Nicholson،اور دو اور افسر تھے۔Edwardsکا نام آج اسی کے نام پر ہے۔ان چاروں کوGovernor General، جو لاہور میں تھا، نےorderدیا کہ آپ لوگwithdrawکریں۔Edwardsنے کہا کہ نہیں کرتا۔اس نے وہ صوبیدار میجرز کو، جو باغی پلٹنیںتھیں،ان کو چوک میں پھانسی دے دی۔اس کے بعد جتنے بھی خان تھے،وہ سب اس کے پاس حاضر ہو گئے۔انہوں نے کہا:ہم حاضر ہیں، ہمیں حکم دیں، ہمیں حکم دیں۔اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے،جو آج شیشے میں پڑی ہوئی ہےarchivesمیں،وہ لکھتا ہے:
Now the Khanzadas, the Wazirzadas, the Nawabzadas they are waiting outside and they want to be enrolled.
پھر اس نے ان تمام لوگوں کی تفصیل لکھی جو اس قسم کے تھے۔اس بات سے واقعی میرے دل میں درد تھاجبکہ اصل پٹھانوں کی تاریخ پہلے تو اتنی مسخ نہ تھی لیکن اب لوگ اسے مسخ اور غلط باتیں شامل کر رہے ہیں۔ دس سال صرف مواد کے حصول پر لگائے۔ جتنی پرانی کتابیں تھیں،ہر والیم پر میں نے ہزارannotationsدی ہیں ہر صفحے پرannotationsہیں۔یعنی ایک کتاب میں ہزارannotationsہوں گی،جن میں میں نے واضح کیا ہے کہ اس کا کیا مطلب تھا،یہ کیوں ہوا تھا۔

سوال: آپ نے دس کتابیں لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟۔
جواب: جب میں نے مواد کا حصول کر لیااور تقسیم کیا،تو میں نے دیکھا کہ یہ بنیادی طور پر دس والیم بن رہے ہیں۔ہر صفحے پر حوالہ ،صفحہ نمبر دیا ہے،کتاب کا نامbibliographyمیں دیا ہے۔میں نے چار چار انڈکس بنائے ہیں۔

سوال: یہ تو میں اسلئے مانتا ہوں کہ جب کتاب کیauthenticityکی بات آتی ہے،تو میں نے امریکہ میں لوگوں سے سنا،میں نےEnglandمیں لوگوں سے سنا،وہ لوگ کسی کتاب کا حوالہ اس وقت تک نہیں دیتے۔
جواب: یہ کتاب پبلش ہوئے ایک مہینہ ہوا تھا،یہ2002کی بات ہے، مجھے امریکہ سے فون آیا۔وہ عورت جو بات کر رہی تھی،وہ چیئر پرسن تھی
Strategic Studies of America
کی۔اس نے کہاکہ وہ کوہاٹ آنا چاہتی ہیں اس کتاب کیلئے۔ اسی وقت War onTerrorبھی ابھی ابھی شروع ہوئی تھی۔اس وقت دھماکے ہو رہے تھے۔میں نے ہوم سیکریٹری سے بات کی ۔ انہوں نے کہا:Nothing doing، ہم اجازت نہیں دے سکتے۔میں نے اس خاتون کو کہاکہ آپ نہیں آ سکتیں،security problem ہے۔اس پر اس خاتون نے کہا:
This is none of your job. My government will look after me.
اور وہ آ گئیں۔وہ کوہاٹ آنا چاہتی تھیں،ہم نے پشاورمیں روک لیا، ہمارا سفیر ساتھ تھا۔پھر نیویارک سے ایک عورت آگئی، ناروے سے ایک عورت آئی وہ سب میرے گھر اس کتاب کیلئے ٹھہریں ۔
واجپائی مشرف کے دور میں یہاں آئے تو ساتھ تین چار لوگ آئے تھے، انہوں نے پہلے ہی کسی ذریعے سے مطلع کیا تھاکہ وہ مجھ سے اس کتاب کیلئے ملنا چاہتے ہیں۔وہ بھارت سے آئے تھے۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اس کتاب کو والیم کے لحاظ سے بڑا نہ سمجھیں۔
This is when you and you find references at every start reading it point
میں نے ہرfamilyکو اس میں شامل کیا ہے۔
I have not left a single group۔

سوال:یہ کتاب اب دنیا میں کس طرح دیکھی جاتی ہے؟سر، یہ واقعی بہترین کام ہے۔پوری دنیا میں لوگ اس کتاب کو مانتے ہیں۔وہ اسے پڑھتے ہیں،خاص طور پر پختونوں کو سمجھنے کیلئے اسی کتاب کو پڑھتے ہیں۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ آپ نے پختون اور افغان کو الگ الگ کیا ہے۔یہ کیسے؟۔
جواب: اصل میں،ایکraceکوdescribeکرنے کیلئے ہم دو طریقے استعمال کر سکتے ہیں۔ایکlegendaryطریقہ ہے،جو ماں باپ دادا، پردادا سے سنتے آئے ہیں۔دوسرا سائنٹفک طریقہ ہے۔ہم نے دونوں طریقوں سے پٹھان اور افغان کو الگ ثابت کیا ۔Legendaryطریقے میں ہم وہی باتیں کرتے آئے ہیںجو کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں لیکن ان کاکوئیdemonstrative proofنہیں ۔ یہ باتیں سینہ بہ سینہ چلی آ رہی ہیں۔ ہم طالوت علیہ السلام کو جد امجد مانتے ہیںافغانوں کا بھی۔ طالوت کے دو بیٹے تھے، ارقیا اور ارمیا۔ارقیا کا بیٹا آصف،ارمیا کا بیٹا افغان ۔ بخت نصر کا ظلم شروع ہوا،یا یہودیوں پر ظلم ہوا،تو افغان بھاگ کر افغانستان غور میں آباد ہو گیا۔ ارقیا کا بیٹا آصف حجاز گیا۔ اولاد میں خالد بن ولید بنی آصف بنے۔ ادھر جو افغان تھا، قیس عبدالرشد طالوت علیہ السلام سے37ویںنسل میں آتا ہے۔ قیس عبدالرشید کے3بیٹے تھے:سرنن، غرغشت اور بیٹن۔ سرنن بڑی قوم ہے اس میں چھ سات قبائل ہیں، درانی، شیرانی، ترین یہ سب اس میں آتے ہیں۔

اور اس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام متو تھا۔متو کا خاوند ترک تھا، لیکن اسے قیس نے پالا تھا۔ اسی خاندان میں اس کی شادی ہو گئی۔اس سے نیازی، لودھی اور دوسرے لوگ پیدا ہوئے جن کو ہم تھوڑا سا کم سمجھتے ہیں۔پٹھانوںکے بڑوں نے انہیں قبول کیاکہ ہم انہیںhalf Pathanمان لیتے ہیں۔لیکن جو آج کے پٹھان ہیں،وہ اسlegendaryشجرے میں نہیں آتے۔ پٹھانوں کا شجرہ کران سے بنتا ہے۔ کران کون تھا؟اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ افغانستان کے علاقے میںجہاں قیس عبدالرشید رکے رہتے تھے،ان کا ایک پوتا تھا عبداللہ اُرمڑ۔اسے ایک جگہ ایک بچہ ملا جہاں پر ایک قافلہ رات کو رکا تھا، اور ان کا ایک بچہ گم ہو گیا تھا۔وہ شیر خوارتھا۔اس کا نام کران رکھا۔ قیس عبدالرشید نے اس بچے کو پالا اور اپنے خاندان میں اس کی شادی کر دی۔ اس کی اولاد کوپٹھان کہا جاتا ہے۔ اس لیے پٹھانوں کا یہودیوں سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ یہlegendaryروایت ہے۔اب سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے؟

سائنسی تحقیق اور جدید مصنف یہ کہتے ہیں کہ افغانوں کاnucleusان کاSemiticہے۔ لیکن ان کےperipheralعلاقوں میںدوسرے قبائل شامل ہوتے گئے۔افغانوں کے بارے میںماڈرن مصنف کہتے ہیں کہ گندھارا کے علاقے میںAryansآئے ہیں انڈو پاک میں۔ ان کے چار قبائل اس علاقے میں رہ گئے جو آج پاکستان کی طرف ہے۔ گندھارا،پشاور، تیرہ ویلی اورDeadshiوہ نارتھ میں تھی۔ جو گندھاری تھے وہ آباد تھے پشاور کی وادی میں۔یہ پانچویں صدی عیسوی کی بات ہے۔اس زمانے میںWhite Hunsآئے۔White Hunsکون تھے اور ان کا مذہب کیا تھا؟ ان کا مذہبMagian religionتھایہ بدھ مت مذہب تھا۔ اس وقت بدھ مت اس پورے علاقے میں بہت پھیلا ہوا تھا۔ بامیان کے بڑے مجسمے بھی بدھ مت کے تھے۔ان کوWhite Hunsنے یہاں سےshiftکیا۔یہ لوگ ہلمند دریا کے کنارے چلے گئے،اور وہاں انہوں نے اپنیsettlementبنا لی۔ انہوں نے اپنی نئی بستی کا نام گندھار رکھا، جو بعد میں قندھار کہلایا۔ ان کے پاس ایک پیالہ تھا جو بارہ فٹ قطر کا تھا اور وہ پتھر میں چٹان کاٹ کر بنایا گیا تھاکہا جاتا ہے کہ اس میں گوتم بدھ نے غسل کیا تھا۔ یہ ان کیلئے مقدس تھا۔وہ ہاتھیوں پر رکھ کر اپنے ساتھ لے گئے۔یہ آج کابل کے میوزیم میں موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب اس کے اندر آیت الکرسی لکھی ہوئی ہے۔ جب یہ لوگ وہاں گئے تو اس علاقے میںافغان پہلے سے آباد تھے۔ شروع میںدو تین سو سال تک ان کا آپس میں کوئی ملاپ نہیں ہوا۔ بعد میں ان کا ملاپ شروع ہوا۔ پشتو زبانAryanتھی۔ یہEast Iranian languageتھی، یعنی قدیم فارسی سے جڑی ہوئی۔ میں نے اس پر ایک ٹیبل بنائی ہے۔ اگر آپ اس کی فوٹو بھیج دیںتو میں آپ کو دے سکتا ہوں۔ جب انکا آپس میں ملنا جلنا ہوا تو گندھاری مسلمان ہو گئے۔انہوں نے اپنی زبان افغانوں کو دے دی۔اس طرح پشتو وہاں منتقل ہو گئی۔اس میں جو شادیاں ہوئیں تو باپ افغان ہے اور ماں گندھاری ہے تو وہ سیکنڈ کلاس افغان کہلاتا ہے۔اس میں یوسفزئی، خلیل، مہمند اور کئی دوسرے قبائل آتے ہیں۔جہاں پہ باپ اور ماں دونوں افغان ہیں وہ فرسٹ کلاس ہے اور اس میں درانی، شیرانی اور ترین یہ اس میں آتے ہیں۔

سوال:یہ لوگوں کو جب پتا چلے گا اور آپ یہ باتیں کرتے ہیں تو کوئی ناراضگی کسی نے کبھی کسی نے کانٹیسٹ کیا کسی نے ؟۔ چیلنج کیا کسی نے ؟۔
جواب: چیلنج آج تک کسی نے نہیں کیا ایسی ایسی باتیں لکھی ہیں جو میں خود ڈر رہا تھا اور مجھے بڑے لوگوں نے کہا تھا کہ اس طرح مت لکھنا۔ میں نے خوشحال خان خٹک کے خلاف لکھا، خٹک نے جرگہ کیا میرے برادر اِن لا تھے جان بیکری والے امجد۔ تو اس کے پاس گئے کہ یار اس کو منع کرو کہ یہ بات لکھ رہا ہے تو میں نے کہا کہ میں اپنی طرف سے نہیں لکھوں گا جو خوشحال خان خٹک نے خود کہا ہے میں وہ کوڈکروں گا، جو افضل خان خٹک نے لکھا ہے میں اس کو کوڈکروں گا۔ ایک اعتراض کیا ڈان اخبار میں ایک کوئی رائٹر تھا کہ پٹھان بہت ہی گندے لوگ ہیں اور انہوں نے بڑا پنجاب میں ہم لوگوں کو مارا ہے احمد شاہ ابدالی کو کہا انہوں نے۔ پشاور کے کچھ ڈاکٹر وغیرہ نے مجھے فون کیا اس کا جواب دو۔ میں نے پورے ڈان کے پیج کا جواب دیا اور میں نے اس کو یہ کہا کہ میں اپنی پٹھان والی آتھر کی کتاب سے کوڈ نہیں کروں گا جو پنجابیوں نے میرے پٹھانوں کے بارے میں لکھا ہے میں وہ کوڈ کروں گا۔ اور یہ اس کو دیکھ کے بلوچ والوں نے لکھا کہ جی پٹھانوں نے ہم کو مارا ہے اور بڑے خراب لوگ ہیں اس کا جواب بھی میں نے دیا کہ میں بلوچ کی کتاب سے آپ کو کوڈ کروں گا پھر تیسرا آیا پھر چوتھا آیا وہ انکاؤنٹر شروع ہو گیا ڈان اخبار میں۔ ہم پھر آسٹریلیا سے کسی نے لکھا کہ یار اس نے ساری باتیں بتا دی ہیں ابھی اس کا پیچھا چھوڑو وہ تب ختم ہوا۔

سوال: ٹھیک ہے کانٹیسٹ بھی ختم ہوا چیلنج جو کیا وہ بھی ناکام ہوئے آپ نان پختونز کو کیسے ڈیفائن کرتے ہیں ؟۔
جواب: یہ بات میرے لیے مشکل تھی لیکن ایک ریس جو ہے نا ریس جینیٹک ہوتی ہے
it isnot acquired
ہمacquiredچیز جینز میں نہیں جاتی۔ ایک انگریز پشتو بول رہا ہے وہ پٹھان تو نہیں بن سکتا، سید کا یہ شجرہ ہے تو وہ پٹھان نہیں ہو سکتا۔ گنڈاپور ، سواتی وہ پٹھان نہیں، پشتو بولتے ہیں پٹھان کا لفظ جو ہے نا یہ عام نام ہے۔ جو آدمی پٹھان کے علاقے میں رہ رہا ہے وہ اپنے کو پٹھان کہہ سکتا ہے جو پشتو زبان بول رہا ہے وہ کہہ سکتا ہے جو پٹھانوں کے ساتھ اس کا ریلیشن شپ ہے چاہے وہ پنجاب کا ہو کچھ بھی ہو ادھر رہ رہا ہے وہ کہہ سکتے ہیں تو یہ چار لوگ اس کو کہتے ہیں جینیرک نام۔ اصل پٹھان کون ہے اصل پٹھان وہ ہے جو ان سے نکلا ہے انڈو ایرین سے جو میں نے آپ کو بتایا ہے ۔

سوال: ٹھیک ہے۔ یہ جو اپنے آپ کو پٹھان کہتے ہیں اور افغان کہتے ہیں ہندوستانی سلطنتوں کے جو زمانہ وسطی کے جو لوگ تھے کیا وہ ٹھیک کہتے ہیں؟۔
جواب: نہیںبہت ساری پرانی کتابیں انکے نام پڑھوں تو بہت ہیں وہ ان میںmisprintہیںیاintentionalیا غلطی سے۔ ایک آدمی کو تغلق بتا رہے ہیں کہ ترک تھے یہ تھے وہ تھے اور ان کا باپ جو تھا نا پٹھان ہے بھائی آپ ثابت کر رہے ہیں لکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں کہhe is a Turkاس کو پٹھان کہہ رہے ہیں۔ غور والوں کو جنہیں غوری کہتے ہیں یہ پٹھان نہیںthey are Turks۔ ان کی کتابیں دیکھیں پٹھان لکھا ہوا ہے تو وہ لوگ یہ نہیں سمجھتے وہ پٹھان نہیں ۔ خلجی ترک لفظ ہے اور غلزئی پٹھان ہیں اس کا شجرہ ہمارے پاس ہے۔ اپنے کو غلجی کہتے ہیں خلجی نہیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ کسی پرانی کتاب میں لکھا ہے” الامرا” اس کو آگے لکھنے والے نے ”الامرا” کا ترجمہ جب کیا تو اس کو لکھ دیا لودھی۔ اچھا تو اس طریقے سے جب ان کی اصل فارسی زبان میں جو کتابیں ہیں جو پشتوں کی ہیں انکے ترجمے بڑے غلط ہوئے ہیں اسی لیے میں نےoriginalکتابیں پیدا کی ہیں۔تاریخ وہ جو ہے خورشید جہاں اچھا اور یہ حیات افغانی سولت افغانی یہoriginalمیں نے پیدا کی ہیں اور بڑے لوگوں نے میری مدد کی ہے۔ کوہاٹ کیsettlement reportمجھے انہوں نے کلکتہ سے منگوا کے دی ہے کہ1884کی۔

سوال: کن معیار کی بنیاد پہ کچھ خاندانوں کو اپنے اس کام میں شامل کیا ہے۔
جواب:1857کی مثال دوں گا۔ کوہاٹ میںcavalry wasادھر فوجی کیپٹن تھا۔ جوEdwardsنے پھانسی کر دیا تھا ان سب صوبیدار میجرز اور صوبیدار وغیرہ جنہوں نے بغاوت کی پوری پلٹن نے بغاوت کی لیکن اس نے ان کو پھانسی کیا تھا پھر سارے رام ہو گئے چاہے وہ جو بھی تھے جو پٹھان تھے۔

میں اس کا الگ نام نہیں لیتا لیکن یہ کیا نام ہےcavalry cavalryاس کیلئے مبارک شاہ بنوری اس وقت تھا تو وہ اس کے پاس پہنچ گیا جی حاضر ہیں ہمیں بتائیں۔ اس نے کہا جی خزانہ تو لاکھ روپیہ کا ہے اس کو بچاؤ۔ اس نے کہا بالکل بچاتے ہیں اور آرڈرآیا کہ تم جلدی پٹھان لوگrecruitکرو اور دہلی پہنچو۔ مبارک شاہ دہلی گیا جہاں مار دیا گیا۔ اس کے جسم اور انتڑیوں کو سمیٹ کر یہاں لایا گیا اس کا پورا محلہ ادھر پشاور میں آباد کیا گیا اس کا نام مبارک شاہ محلہ ہے۔ جو لوگ تھے ان کو پیسے چاہیے تھے پشاور کے لوگوں نے دیے جو خان تھے وہ ایسے ہاتھ جوڑ کے کھڑے ہو گئے
they said anything you want will provide you against pathans.

مسلمانوں کیلئے سوات کے جو بڑے تھے انہوں نےNicholsonنے کہا کہ جو ان کا سر کاٹ لائے50روپیہ انعام دیں گے ۔سوات کے مذہبی لوگوں نے انکے سر کاٹ کے دئیے۔ چمکنی گاؤں کے خان کو رنجیت سنگھ نے کہا کہ آدم خیل آفریدی کے50سر ہر سال مجھے مہیا کیا کرو۔ ہر سر پہ50روپیہ دیں گے۔ اگر نہیں دو گے تو پچاس روپیہ تمہارے کٹ جائیں گے اور جو بھی ملا اس کا سر کاٹا اس نے کہا جی آفریدی ہے اس کی رسیدیں میرے پاس ہیں۔

سوال: نہیں تو یہ آفریدی ٹارگٹ کیوں تھے؟۔
جواب: اسلئے تھے کہ آفریدیوں کی وجہ سے انگریز کوہاٹ سے بھی نکلے تھے ۔

سوال: یہ تو بڑا منصوبہ لگ رہا ہے سر اس کی تکمیل کب تک ممکن ہے؟۔
جواب: جی ابھی میں
last ninth and tenth volume
کر رہا ہوں اور یہی والیم ہے جس کیلئے میں نے سارا کام کیا ہے اسvolumeکیلئے کیاten volumeکیلئے۔
this is pathan and 1947 war
اس میں پٹھانوں نے کیا کام کیا؟۔ کیا انہوں نے قربانیاں دیں کس طرح لڑے؟۔ جرمن فوج جنگ عظیم دوم میں مشہور تھیblitzkriegتھوڑے وقت میں بہت علاقہ قبضہ کرنا۔ پٹھانوں نے اس ریکارڈ کو توڑا ۔ انہوں نے چار دنوں میں میں 80میل کا علاقہ فتح کیا۔

سوال : کیا پٹھان اس وقت ایک فارمل فوج کے طور پر لڑا؟۔
جواب: یہ قبائل تھے
they were gathered together by the peer of Manki Sharif.
جرمن آرمی تھی ان کی آرمی نہیں تھی لیکن ایک رات میں مظفرآباد فتح کیا اور دوسرے دن بارہ مولہ80میل تک پہنچ گئے ۔ جنرل اکبر ان کی گاڑیوں کا بتارہا ہے کہ یا ٹائر نکلا ہوتا تھا یا ایکسل ٹوٹا ہوتا تھا اور پھر وہ اتر کے اس کو ٹھیک کرتے تھے اور پھر آگے چلتے تھے۔ لیکن ان کو دیکھ کر ڈوگرا آرمی رک نہیں سکی۔شور ہوتا کہ پٹھان آ گئے۔

سوال : آپ کی سورس کیا کہتی ہے ؟۔ پٹھان لوگ تو کہتے ہیں کہ سری نگر بھی فتح کر جاتے اگر ٹیبل پر یہ جنگ نہ ہارتے تو۔
جواب: نہیں اس کی ایک خرابی ہوئی ہے ،بارہ مولہ سے سری نگر35کلو میٹر تھا۔ بارہ مولہ میں جو ان کے بڑے تھے میجر خورشید انور، میجر اسلم انہوں نے ان کو حراست میں لیا۔detainedالٹا پڑ گیا ہمارے لیے انڈیا نے کہا کہ یہ دو دن تک ریپ کرتے رہے ہیں لوٹ مار کرتے رہے۔ حقیقت یہ تھی کہ اس دن فیصلہ کرنا چاہتے تھے کہ بھائی ابھی سری نگر تو ہمارے پاس ہے ہم نے ابھی فتح کر لینا ہے اس کے بعد صدرکون بنے گا؟۔ اس پر لڑائی ہو رہی تھی۔

میزبان محمود جان بابر: جی دوستو! دیکھا آپ کو کیا مجھے خود بھی نہیں معلوم تھا اتنی کتابیں پڑھنے کے بعد بھی مجھے نہیں پتا تھا کہ ہم پختون کون ہیں کہاں سے آئے، کس کا شجر نسب اسرائیل کے ساتھ اور کس کا کس کے ساتھ ہے اور یہ کتاب آپ کو معلوم ہے ابھی ہمیں محترم ہارون رشید صاحب نے بتایا کہ جب یہ کتاب چھپی تو یہ اس وقت پاکستان کے تمام جتنے بھی سفارت خانے دنیا میں موجود ہیں ہمارے لیے کام کرتے ہیں فارن آفس نے انہیں کہا ہے کہ یہ کتاب اپنے پاس رکھیں گے اور یہ ان سب کو بھیج دی گئی ہے انہیں کہا گیا ہے اسے پڑھیں۔دنیا میں جہاں پہ بھی لوگ علم پر یقین رکھتے ہیں وہ اس کتاب سے استفادہ کرتے ہیں سوائے ان کے جن کے بارے میں یہ کتاب لکھی گئی ہے پختون خود۔ اس سے زیادہ میں کیا کہوں ۔ اللہ حافظ سماء ٹی وی چینل ڈیجیٹل
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

– المھدی موجود علی الانترنت
قرآن کی روشنی میں شیخ ابن عربی کی فکرکا تجزیہ
قرآن عدل وتوازن سے وہ انقلاب پیدا کرتاہے کہ زمین میں انصاف ، برزخ اور آخرت کی بشارت ہو۔