تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 2
جنوری 6, 2026
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک میں حلالہ کی لعنت کا تصور ممکن ہی نہیں ہے:قرآن اوراحادیث اصول فقہ حنفی کی روشنی میں
امام ابوحنیفہ اور قرآن کریم کے حوالہ جات
فان طلقہا فلاتحل لہ من بعدحتی تنکح زوجًا غیرہ
”پھر اگر اس نے اسے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”البقرہ:230کا تعلق حنفی کے نزدیک البقرہ229 فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ ” تو دونوں پر گناہ نہیں عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں” کیساتھ ہے۔(نورالانوار : بریلوی دیوبندی )
جامعہ بنوری ٹاؤن میں ہمارے استاذمولانا بدیع الزمان حضرت مولاناقاری اللہ داد مدظلہ العالی، مفتی زرولی خان، مفتی تقی عثمانی کے بھی استاذ تھے۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا ” اگر فان طلقھا میں ”ف” تعقیب بلا مہلت نہ ہوتی تو قرآن واحادیث کا یہی تقاضہ تھا کہ الگ الگ مرتبہ تین طلاق پر حلالہ کا حکم جاری ہوتا”۔جبکہ مفتی منیب الرحمن صدر تنظیم المدارس مفتی اعظم کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے حنفی مسلک سمجھنے میں بڑا مغالطہ کھایا۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنے شاگرد مولانا اکرم سعیدی سے فرمایا: ”سید عتیق الرحمن گیلانی کا مؤقف درست ہے”۔ مجھے بھی بالمشافہہ ملاقات میں فرمایا تھا کہ ”مجھے فوت شدہ سمجھ لیں، سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے خلاف لکھا تو اپنے بریلوی علماء مارنے پہنچ گئے تھے”۔
حنفی واضح ہیں کہ حتی تنکح زوجًا غیرہ کا مقصد عورت کی آزادی ہے ایماامرأة نکحت بغیر اذن ولھیا فنکاحھا باطل باطل باطل ” جس بھی عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔ یہ کئی احادیث ہیں جو حنفیوں کے ہاں قابل قبول نہیں ہیں۔
قرآن وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ”اوراس میں انکے شوہر اصلاح کی شرط پر ان کو لوٹانے کے زیادہ حقدار ہیں”۔ پہلی بات یہ ہے کہ کوئی واضح حدیث نہیں جس میں اس آیت کے خلاف حکم ہو کہ عدت میں بھی حلالہ کرکے آؤ لیکن اگر ہوتی بھی تو حنفی بالکل مسترد کردیتے”۔
جمہور کے ہاں طلاق شدہ و بیوہ بھی اجازت کی محتاج ہے ۔ حالانکہ بیوہ کیلئے واضح الفاظ ہیں فاذا بلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف ” اور جب وہ اپنی عدت مکمل کرلیں تو تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں جو بھی اپنے لئے معروف طریقے سے فیصلہ کرلیں”۔یعنی بیوہ فوت شدہ شوہر سے نکاح باقی رکھے یا نئے شوہر کا انتخاب کرے آزاد ہے”۔
وانکحوا لایامٰی منکم و الصالحین من عبادتکم …… ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا لتبتغوا عرض الدنیا و من یکرھھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیمO(سورہ نور آیت32،33)
ان آیات میں طلاق شدہ وبیوہ اور غلام ولونڈی کے نکاح کی ترغیب ہے۔ لونڈی کے حق مہر کا حکم ہے اور غلام کے پاس رقم نہیں ہے اسلئے اس کے ساتھ تحریری معاہدہ کے ذریعے نکاح ہوسکتا ہے اللہ نے کہا ہے کہ اگر اس میں خیر نظر آئے تو کرلو اور اللہ کا دیا ہوا مال بھی اس پر خرچ کرو۔ اور پھر کنواری کا مسئلہ حل کیا ہے کہ اگر وہ نکاح چاہتی ہو تو اس کو بغاوت یا بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ تم دنیا کی وجاہت چاہتے ہو ،اللہ آخرت چاہتاہے۔ اگر انہیں مجبور کیا تو ان کی مجبوری کے بعد اللہ غفور رحیم ہے۔ یعنی حرام کاری کا فتویٰ نہیں۔
وزیرستان کے ملنگ ”خورے نورا گل ”نے بتایا : بیٹا کراچی میں کنڈیکٹر تھا تو ایک لڑکی نے کہا کہ میں خود کشی کروں گی یا مجھ سے شادی کرلو۔ بیٹے نے شادی کی تو کچھ سالوں بعد لڑکی کا والد فوجی افسر ڈیرہ اسماعیل خان پوچھ گچھ کیلئے آیا اور پھر اس کا اڈریس معلوم کیا اور کراچی اس کے گھر گیا اور اس کو پیشکش کردی کہ یہ تمہاری عزت کا مسئلہ ہے جہاں چاہو میرے لڑکے اور اپنی لڑکی دونوں کو مار دو۔ فوجی افسر بڑا خوش ہوا اور کہا کہ تمہارے بیٹے کا کوئی قصور نہیں لیکن اب بیٹی کو بھی تمہاری خاطر معاف کرتا ہوں مگر بہت زیادہ منتوں کے باوجود گھر آنے کی بیٹی کو اجازت نہیں دی ۔ وزیرستان کے لوگوں کی غیرت کا اندازہ اس سے لگائیں۔
فوجی افسر نے بیٹی کی منگنی چچازاد سے کی تھی ۔سورہ نور آیت32،33کا مفہوم معاشرے میں عام کیا جاتا تو اچھے نتائج نکلتے ۔اگر فوجی افسر کو معلوم ہوتا کہ قرآن نے حکم دیا ہے کہ لڑکی کو مجبور کرنا جائز نہیں ہے اور حدیث میں لڑکی کی مرضی کو ضروری قرار دیا گیا ہے تو یہ ناگوار واقعہ پیش نہیں آتا۔ قرآن وحدیث میں لڑکی کو باپ نکاح پر مجبور کرے تو جائز نہیں لیکن اس مجبوری کو قرآن نے لڑکی کے حق میں جائز قرار دیا اسلئے کہ وہ مجبورہے۔ یہ قرآن کا بڑا احسان ہے ورنہ تو جاہل معاشرے کی عورتوں کیساتھ ایک تو جبر ہوتا اور دوسرا ا س کے بچے بھی ناجائز کہلاتے ۔ افسوس کہ علماء نے قرآن کے ترجمہ و تفسیر کا حلیہ ایسا بگاڑ دیا کہ سورہ النور آیت33سے جبری طور پر لونڈی کو بدکاری میں استعمال کرنے کا مفہوم نکالا ہے۔ پھر بیرون ملک بیٹھا ہوا شہریار رضا روایات بتاتا ہے کہ حضرت ابوبکر کے خاندان کا یہ دھندہ تھا۔ العیاذ باللہ۔ علماء حق اورعوام الناس کو چاہیے کہ منبر ومحراب اور عوامی مقامات پر لوگوں میں قرآن کے درست مفہوم کو عام کریں تاکہ امت کے عقائد، نظریات، مسالک اور اعمال کی زبردست اصلاح ہو۔
ــــــــــ
امام ابوحنیفہ اور احادیث کے حوالہ جات
حلالہ کی لعنت کو جواز فراہم کرنے والی احادیث اور فتاویٰ کی کتابیں دیکھو تو دلائل کے بہت بڑے انبار لگتے ہیں مگر کارآمد دلیل کوئی ایک بھی نہیں ہے۔
وفاق المدارس کے صدر استاذ العلماء محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ حنفی مسلک کے اصول سے کوئی بھی ایسی حدیث نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے حتی تنکح زوجًا غیرہ میں نکاح پر جماع کا اضافہ کریں۔ ہم قرآن میں نکاح سے جماع مراد لیتے ہیں۔ (کشف الباری :شرح صحیح البخاری)
قارئین ! احادیث میں حلالہ کی اوقات نہیں۔ نکاح سے عقد کی جگہ جماع ہو تو یہ حنفی شافعی اختلافی مسئلہ حلالہ سے زیادہ گندگی کابڑا ڈھیر ہے ۔امام ابوحنیفہ نے بادشاہ کو اسکے والد کی لونڈی کے جواز کا فتویٰ نہیں دیا اور قاضی ابویوسف نے معاوضہ لیکر دیاپھرامام ابوحنیفہ کے خلاف حرمت مصاہرت کا جھوٹ پھیلایا گیا ۔
وربآئبکم الاتی فی حجورکم من نساء کم الاتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلاجناح علیکم
” اور تمہاری عورتوں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے گھروں میں پرورش پائی اور جنکے اندر تم نے ڈالا اور اگرتم نے نہیں ڈالا، تو پھر ان سے نکاح میں گناہ نہیں”۔(النساء:23)
قرآن نے آنے والے گدھوں سے حفاظت کیلئے حفظ ماتقدم کے طور پریہ واضح الفاظ استعمال کئے کہ ”اگر نکاح کے بعد تم نے اسکے اندر ڈال دیا….”تاکہ حرمت مصاہرت کے بیہودہ مذہبی مسائل پیدا نہیں ہوں۔ سورہ بقرہ میں اللہ نے بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا مگر انہوں نے سوالات پوچھ کر اپنے ہی لئے مشکلات کھڑی کردیں۔ کہتے ہیں کہ ”قرآن حجاز میں نازل ہوا، مصر والوں نے پڑھا اور ہندوستان والوں نے سمجھا”۔ علامہ اقبال نے ذہن ہندی کا کہا۔
عطاء مؤمن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی ، ذہن ہندی ، نطق اعرابی
امام ابوحنیفہ کی پیدائش80ھ کو ہوئی ۔صحابی محمود بن لبید کی وفات97ھ کو ہوئی۔ کوفہ کے فقیہ اعظم سعید بن جبیر نے کہا کہ قرآن میں حلالہ کیلئے نکاح کا حکم ہے جماع کا نہیں تو حجاج بن یوسف نے95ھ میں بہت بے دری سے شہید کیا اورمدینہ کے فقیہ اعظم سعید بن مسیب پرانتہائی تشدداور قیدوبند کی صعوبتوں کے پیچھے مسئلہ طلاق تھا۔ ہشام نے چوتھی بیوی کوطلاق دی تو عدت میں کسی اور عورت سے نکاح کیا تو سعید بن مسیب نے کہا کہ عورت عدت میں انتظار کی پابند ہے تو شوہر رجوع کا دروازہ کھلا رہنے تک انتظار کا پابند ہے۔
لا یحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن من ازواجٍ ولواعجبک حسنھن
”اے (نبی!) آپ کیلئے حلال نہیں اسکے بعد عورتیںاور نہ یہ کہ ان کے بدلے کسی اور کو بیویاں بناؤ اگرچہ آپ کو ان کا حسن اچھاہی کیوں نہ لگے”۔(الاحزاب:52)
بصرہ کے فقیہ اعظم حسن بصریبنوامیہ کے تشدد سے بچ گئے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ڈھائی سالہ اقتدار میں احادیث کے اظہار پر نرمی کی پالیسی بنائی اور101ھ میں زہر سے شہید کردئیے گئے۔ پھر انتہائی ظالم یزید اور ہشام نے اقتدار سنبھالا۔ حسن بصری110ھ میں فوت ہوگئے اور پتہ نہیں کیا دھمکی ملی تھی کہ فرمایا” مجھے20سال پہلے مستند شخص نے کہا کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی پھر20سال تک دوسرا مستند شخص نہیں ملاجو اس کی تردید کرتا۔ پھر ایک زیادہ مستند شخص نے کہا کہ عبداللہ بن عمر نے ایک طلاق دی تھی ۔(صحیح مسلم) یہ مستند شخص کا قصہ کیا ہے؟۔ عمران بن حصین نے کہا کہ ”میں نے نبیۖ کیساتھ حج وعمرہ کا احرام اکٹھا باندھا پھر قرآن وسنت میں کوئی منسوخی کا حکم نہیں آیا، جس نے کیا ،اپنی رائے سے کیا مگر میری وفات تک مجھ سے نقل نہ کرو۔(صحیح مسلم) حسن بصری نے ایک اور نہلے پہ دہلا کیا کہ ” بعض علماء کا اجتہاد ہے کہ بیوی سے حرام کہہ دیا تو یہ تیسری طلاق ہے جو حلالہ کے بغیر حلال نہ ہوگی۔ (صحیح بخاری)
امام شافعی اکٹھی 3 طلاق کو سنت اور دلیل لعان کے بعد عویمر عجلانی کا واقعہ جو سورہ طلاق کا تقاضہ تھا نہ یہ کہ حلالہ کے جواز کیلئے آیات کی تنسیخ کا ثبوت ہے۔
امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے ہاں اکٹھی3طلاق بدعت دلیل محمود بن لبید نے کہا کہ ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے بیوی کو 3 طلاق دی نبیۖ غضبناک ہوکر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟۔ جس پر ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہیں کردوں”۔ (نسائی)قتل کی پیشکش عمر اور طلاق عبداللہ بن عمر نے دی تھی۔ نبی ۖ عبداللہ بن عمر پر غضبناک ہوگئے اور رجوع کا حکم دیا اور عدت میں3طلاق کا سمجھایا۔(تفسیر سورہ طلاق صحیح بخاری)بخاری نے کتاب الاحکام، طلاق و عدت میں نبیۖ کے غضبناک ہونے کا ذکر نہیں کیا۔اکٹھی تین طلاق کا باب باندھا اور حلالہ کی لعنت کیلئے بقرہ آیت229کے پہلے حصہ اوراس روایت سے مغالطہ دیا جس سے کوئی فقہی امام اور محدث متفق نہیں تھا بلکہ بخاری کی دوسری روایات سے اس واقعہ کا حلالہ کیلئے ”غلط درج ہونا” بھی ثابت ہے۔ کیا یہی وجہ ہے کہ شیخ الحدیث بخاری پڑھانے والے کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے؟۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ