پوسٹ تلاش کریں

تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 3

تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 3 اخبار: نوشتہ دیوار

سورة الاعلیٰ میں عروج ملت اسلامیہ کا زبردست نقشہ موجود ہے

بِسمِ اللہِ الرحمٰنِ الرحِیمِ

سبِحِ اسم ربکِ الاعلٰی(1)

اپنے رب کے نام کی تسبیح کیا کر جو سب سے اعلی ہے۔

الذیِ خلق فسوٰی(2)

وہ جس نے پیدا کیا پھر برابر کردیا۔(عالم انسانیت کو)

والذِی قدر فہدٰی(3)

اور جس نے طبقات کی تقدیر لکھی اورپھرہدایات دیں۔

والذیِ اخرج المرعٰی(4)

اور جس نے دین پر فضول مسائل کا انبار کھڑا ہونے دیا۔

فجعلہ غثآء احوٰی(5)

پھراس کو کوڑا کرکٹ بناکر سیاہ کردیا۔(جلایا)

سنقرِئک فلا تنسٰی(6)

عنقریب ہم تجھے پڑھائیں گے پھر آپ نہ بھولیں گے۔

اِلا ما شآء اللہ اِنہ یعلم الجہر وما یخفٰی(7)

مگر جو اللہ چاہے، بیشک وہ ہر ظاہر اور چھپے کو جانتا ہے۔

ونیسِرک لِلیسرٰی(8)

اور ہم آپ کو آسانی سے آسانیو ں کیلئے لے جائیں گے ۔

فذکِر اِن نفعتِ الذِکرٰی(9)

پس آپ نصیحت کیجیے اگر نصیحت فائدہ دے۔

سیذکر من یخشٰی(10)

جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ جلد نصیحت حاصل کرلے گا۔

ویتجنبہا الاشقٰی(11)

اور بدبخت ترین اس سے اجتناب ہی بھرتے گا۔

الذیِ یصلی النار الکبرٰی(12)

جس نے دین حق کا انکار کرکے بڑی آگ میں پہنچنا ہے۔

ثم لا یموت فِیہا ولا یحیٰی(13)

پھر وہ کمبخت اس میں مرے گا نہیں اور نہ ہی جی سکے گا۔

قد افلح من تزکٰی(14)

تحقیق وہ کامیاب ہوا جس نے خود کو پاک کرلیا۔

وذکر اسم ربِہ فصلٰی(15)

اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی۔

بل تؤثِرون الحیاة الدنیا(16)

بلکہ تم تو دنیا کی زندگی (دنیاوی مفادات)کوترجیح دیتے ہو۔

والاخِرة خیر وابقٰی(17)

حالانکہ آخرت (دنیا سے) زیادہ بہتر اور زیادہ پائیدار ہے۔

اِن ہذا لفیِ الصحفِ الاولٰی(18)

بے شک یہی (دین حق کی تعلیم )پہلے صحیفوں میں ہے۔

صحفِ اِبراہِیم وموسٰی(19)

(یعنی) ابراھیم اور موسی کے صحیفوں میں۔
ــــــــــ

بتوں اور علماء ومشائخ کے پجاری نسلی و مذہبی تفریق میں اونچ نیچ کے شکار تھے۔ رب اعلیٰ کی تسبیح کا حکم دیا اور تخلیق میں انسانیت کو برابری کا احسا س دلایا ۔ تقدیر و ہدایت کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی۔ ہر جگہ اچھے اور برے ہوتے ہیں۔ حقیقی دین فضول مسائل کو خس وخاشاک راکھ کا ڈھیر بنادیتا ہے۔

یہود اور مشرکیں عرب دونوں حضرت ابراہیم کو مانتے تھے جو حلالہ کی لعنت کو دین کا تقاضہ سمجھتے تھے۔ یہودی علمی بکواسات سے غضب کا شکار تھے جبکہ عیسائی عملی بدعات کی وجہ سے گمراہ تھے۔ حضرت عمر کے دور میں خلافت کا دائرہ وسیع ہوا تو اہل علم قاضیوں کی ضرورت پڑی اور ان میں ایک معروف نام قاضی شریح تھا۔نت نئے فیصلوں کا سلسلہ وسیع تھا۔ قاضی شریح کا ایک روپ قاضی کا اور دوسرا مفتی کا بھی تھا۔ حضرت عمر نے تین طلاق پر اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ دیا تو اس کو طلاق مغلظ اور طلاق بائن کے فتویٰ میں تبدیل کرنے کا گر قاضی شریح جیسے لوگوں کو معلوم تھا۔جس کی وجہ سے اسلام بہت تیزی سے اجنبی بنتا چلا گیا۔ صحیح بخاری کی حدیث میں حضرت عمر اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر کے مانند فتنے میں ایک بند دروازہ تھا۔ وہ فتنہ کیا تھا؟ اور حضرت عمر اور اس فتنے کے درمیان بند دروازہ کیا تھا؟۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نبیۖ نے فرمایا کہ پہلی امتوں میں محدث ہوتے تھے اگر میری امت میں کوئی محدث ہوا تو وہ عمر ہے۔ محدث کا معنی وجدان سے درست فیصلے تک پہنچنا۔ قرآن کی ساری آیات میں عورت کے حقوق کا تحفظ تھا۔ حضرت عمر نے کمال کیا کہ اکٹھی تین طلاق پر عورت کے حق میں فیصلہ دیا لیکن عبداللہ بن عمر نے اختلاف کیا تو حضرت عمر نے اپنے بیٹے کو خلافت کیلئے نااہل قرار دیدیا کہ طلاق کا مسئلہ نہیں سمجھتا ہے۔

اللہ نے مشرک اور مشرکہ سے نکاح کا منع کیا، غلام مؤمن اور لونڈی کو مشرکوں سے بہتر قرار دیا اور اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کو جائز قرار دیا۔ حضرت عمر نے اہل کتاب سے نکاح پر اسلئے پابندی لگائی کہ عرب کی اپنی عورتیں نکاح سے محروم نہ رہ جائیں۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ اہل کتاب بھی مشرک ہیںاسلئے ان سے بھی جائز نہیں۔لیکن یہ صریح نص ہے۔

الیوم احل لکم الطیبٰت و طعام الذین اوتوا الکتٰب حل لکم و طعامکم حل لھم والمحصنٰت من المؤمنٰت والمحصنٰت من الذین اوتوا الکتٰب (سورہ المائدہ:آیت5)

یہاں محصنات مؤمنات اور محصنات اہل کتاب دونوں کا ایک ہی لفظ کے ساتھ ذکر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو پہلے سے حلال تھیں تو ان کو کیسے حلال قرار دیا؟۔

سورہ النساء آیت:22اور23میں محرمات اور آیت24میں المحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم

یہ محصنات بھی محرمات میں داخل تھیں لیکن پھر ایک استثناء کیا گیاہے۔ جس میں نکاح کی جگہ ایگریمنٹ کا ذکر ہے۔ اور جب صحابہ کرام نے نبیۖ سے عرض کیا کہ کیا ہم خصی ہوں تو نبیۖ نے منع کیا اور ایگریمنٹ کی اجازت دی اور فرمایا کہ لاتحرموا مااحل اللہ لکم من الطیبات ” صحیح بخاری” جب اللہ نے نبیۖ کے نکاح پر پابندی لگائی تو ایک استثناء کا ذکر فرمایا الا ما ملکت یمینک ”الاحزاب:52 )

فتح مکہ کے وقت حضرت علی نے اپنے مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہا تو حضرت ام ہانی نے نبیۖ سے اس کیلئے پناہ لی۔ پھر وہ چھوڑ کر گیا تو نبیۖ نے ام ہانی سے نکاح کی پیشکش کی مگر ام ہانی نے معذرت کرلی کہ بچے بڑے ہیں۔ پھر اللہ نے ان چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ کی بیٹیوں کو حلال قرار دیا جنہوں آپ کے ساتھ ہجرت کی ۔ (سورہ الاحزاب آیت50) پھر کسی بھی عورت سے نکاح کی اجازت نہیں دی مگر ایگریمنٹ اور علامہ بدرالدین عینی نے نبیۖ کی28ازواج کا ذکرکیا جن میں ام ہانی ہیںمگر یہ ایگریمنٹ تھا ،امہات المؤمنین میں شامل نہیں تھیں۔ حضرت ابوسفیان کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ نے اپنی سوتیلی بیٹیوں کی نبیۖ کو پیشکش کی مگر نبیۖ نے فرمایا کہ یہ میرے لئے حرام ہیں۔ (بخاری)

قرآن وحدیث کی وضاحتیں اس وقت اچھی لگیں گی جب حنفی اور شافعی مسلکوں کی وکالت میں ڈھیر ساری بکواسیات نظر آئیں گی۔ حضرت عمر نے متعہ کو اسلئے منع کیا کہ اپنے بچوں سے لوگ منکر ہورہے تھے جیسے عمران خان نے ٹیریان کا انکار کیا۔ لیکن اسکے نتیجے میں لونڈی کے جسم کو بغیر نکاح یا متعہ کے جائز قرار دیا گیا۔ اسی طرح بڑی بڑی غلطیاں ہوگئی ہیں۔

سورہ الحدید کے آخر میں اسلام کی نشاة ثانیہ کی خبر ہے۔

”اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی۔پس بعض ان میں راہ راست پر تھے اور بہت سے ان میں نافرمان۔ پھر ہم نے انکے بعد اور رسول بھیجے۔اور عیسیٰ کو بعد میں بھیجا اور ہم نے اسے انجیل دی اور اس کے ماننے والوں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور رحمت رکھ دی۔ اور رہبانیت کی بدعت خود ڈالی تھی ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی مگر انہوں نے اللہ کی رضا تلاش کرنے کیلئے کیاپس انہوں نے اس کی وہ رعایت نہیں کی جس رعایت کا حق تھا۔ پس ان میں اہل ایمان کو ہم نے اجر دیا اور زیادہ ان میں فاسق تھے۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ، وہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے دے گا۔اور تمہیں ایسا نور عطا کرے گا جس کے ذریعے تم چلتے پھروگے۔ اور تمہیں معاف کردے گا اور اللہ غفور رحیم ہے۔ تاکہ اہل کتاب یہ نہ سمجھیں کہ (مسلمان) اللہ کے فضل سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ اور بیشک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے وہ دیتا ہے۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے”۔ (سورہ الحدید کی آخری آیات)

جاوید احمد غامدی نوجوان طبقے کو قرآن کی غلط تفسیر سے گمراہ کررہا ہے کہ نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں میں ایک بیٹے کی اولاد نے قیامت تک حکومت کرنی ہے۔ چین ، روس ، یورپ اور امریکہ میں ہیں اور قیامت یہ لائیں گے۔ سورہ حدید اور سورہ آل عمران کی آخری آیات بھی اس کی بکواس سے بدظن ہونے والوں کیلئے کافی ہیں۔ اپنے داماد حسن الیاس کو پردے پر لیکچر دے رہا تھا اور کہہ رہاتھا کہ اللہ نے مردوں کو شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا تو مرد کی شرمگاہ گھٹنوں تک ہے اور اپنے والد کا بتایا کہ وہ ناف سے گھٹنے تک تہبند پہنتا تھا۔ پھر عورت کی شرمگاہ کا بتایا کہ وہ ناف سے ذرا اوپر تک ہے۔ حسن الیاس کو بار بار لقمہ دینا پڑا کہ سینہ سے ذرا اوپر تک ۔ کیونکہ اس کو خوف تھا کہ کہیں ساس کا نہیں بول دے کہ یہاں تک کپڑا پہنتی تھی۔

حالانکہ انسان ویسے بھی کپڑے پہنتے ہیں اور شرمگاہوں کی حفاظت کا مطلب کپڑوں کے اندر بھی بچانا ہے۔ ایک لمبی ویڈیو بنائی اور حاصل بکواس جمع بکواس کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خنزیر کے گوشت کو حرام اسلئے قرار دیا کہ لوگ عام طور پر کھاتے ہیں۔ کتے اور گدھے کو نہیں کھاتے تو حرام کہنے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ مرد اور عورت کپڑے پہنتے ہیں اسلئے عورت کو اجنبیوں کے سامنے دوپٹہ سینے پر لپیٹنے کا حکم دیا اور یہ فرمایا کہ سینے کے ابھار کی جھلک مت دکھاؤ جاہلیت کی طرح ۔

اللہ نے اہل کتاب کو عروج بخشنے کے بعد مسلمانوں کو اپنے فضل سے پھر عروج کی طرف لیجانے کیلئے واضح ارشاد فرمایا ہے ۔ جاوید غامدی پیٹ کا گیس نکال کر غلط بول رہاہے۔

سورہ حدید کی ان آخری آیات میں حضرت نوح و ابراہیم کے بعد حضرت عیسیٰ اور پھر امت محمدیہ کا ذکر ہے جن کو اللہ نے دو حصے رحمت کے دئیے ہیں ۔ پ ہلا حصہ نصف اول اور دوسرا حصہ نصف آخر ۔ یہ تقسیم حدیث میں ہے ۔ نبیۖ نے فرمایا: ”وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول میں ہوں اور اس کا درمیان مہدی اور اس کا آخر عیسیٰ ہے مگر درمیان میں کج رو ہونگے ،میں انکے طریقے پر نہیں وہ میرے طریقے پر نہیں”۔

نبی ۖ نے فرمایاکہ ” میرے بعد خلافت، پھر امارت، پھر بادشاہت، پھر جبری حکومتیںاور پھر طرز نبوت کی خلافت ہوگی جس سے زمین وآسمان والے دونوں خوش ہوں گے”۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا: ” پہلا اس امر کا نبوت و رحمت ہے۔ پھر خلافت ورحمت ہے پھر بادشاہت ورحمت ہے۔ پھر اس پر گدھوں کی طرح چال چلن والے ہوں گے۔ پس تم پر جہاد لازم ہے۔ اور بہترین جہاد الرباط ہے اور بہترین رباط عسقلان ہے”۔ اللہ نے فرمایا:

وان من اہل الکتاب لمن یؤمن باللہ وما انزل الیکم وماانزل الیھم خاشعین للہ لایشترون باٰیات اللہ ثمنًا قلیلًا اولٰئک لھم اجرھم عند ربھم ان اللہ سریع الحسابOیایھا الذین امنوا اصبروا و صابروا و رابطوا عاتقوااللہ لعلکم تفلحونO ”

اور بیشک اہل کتاب میں سے وہ بھی ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اور جو ان کی طرف نازل کیا گیا اللہ سے ڈرتے ہوئے وہ اللہ کی آیات پر تھوڑا مول نہیں لیتے۔ان کیلئے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس بے شک اللہ جلد حساب والا ہے۔ اے ایمان والو! صبر کرو اور صبر کی تلقین کرو اور رابطہ کرو۔ ہوسکتا ہے کہ تم کامیاب ہوجاؤ”۔( آل عمران کی آخری آیات)

مسلمانوں کو چاہیے کہ سب سے پہلے ان گدھوں کی چال چلن کو سمجھیں جو اسلام کے نظام کو ہر اعتبار سے تباہ کررہے ہیں اور پھر اسرائیل سے عسقلان میں رابطہ کریں، اگر یہود کو قرآن سے حلالہ کی لعنت سمجھ میں آجائے تو وہ اپنی کتاب کو بھی سمجھ لیں گے اور دونوں پر ایمان لائیں گے اور بیت المقدس بھی مسلمان قوم کے حوالہ کریںگے۔ حلالہ کی لعنت نے مسلمانوں اور یہود کو سخت دل بنادیا ہے۔ عیسائیوں میں نرمی اور رحمت اسلئے ہے کہ انہوں نے حلالہ کی لعنت کو چھوڑ رکھا ہے۔

عیسائیوں نے عملی طور پر رہبانیت کی بدعات ایجاد کیں جن کو وہ رعایت نہیں کرسکے لیکن مسلمانوں اور یہودیوں نے رعونت سے فضول بکواس قسم کے حیلے اور مسئلے مسائل ایجاد کررکھے ہیں جو اخرج المرعٰی کا منظر پیش کررہے ہیں۔

مسئلہ :

ایک شخص نے بیوی سے کہا کہ تجھے تین طلاق اور پھر مکر گیا ، اب عورت خلع لے اگر وہ خلع بھی نہیں دیتا تو عورت اسکے ساتھ حرام کاری پر مجبور ہے۔ (حیلہ ناجزہ : مولانا اشرف علی تھانوی اور بریلوی دیوبندی فتاویٰ کی کتابیں)۔

مسئلہ :

ساس یا بہو کو شہوت کے ساتھ پکڑلیا۔ اگر خارج کیا تو مسئلہ نہیں لیکن خارج کئے بغیر چھوڑ دیا تو اپنی بیوی حرام ہوگی اور بیٹے پر بہو حرام ہوجائے گی۔ (فتاویٰ کی کتابیں)

مسئلہ :

ساس کی شرمگاہ کو باہر سے دیکھا شہوت آگئی تو یہ عذر ہے لیکن اس کی شرمگاہ کو اندر سے جھانکا یا نظر پڑی تو بیوی حرام ہوگی (نورالانوار، اور فقہ اور فتاویٰ کی کتابیں)

قرآن کی موٹی موٹی باتیں معلوم نہیں اور بکواسات سے عوام کا دماغ خراب کررہے ہیں۔ جو امت کیلئے عذاب ہے۔ سیدبلال قطب کے پروگرام میں بہو سے شادی کو جائز قرار دیا اورکہیں بہو کا حلالہ سسر سے کرنیکی خبرہے، مفتی تقی عثمانی رمل بھی غلط سکھارہا تھا۔ جہالتوں کا خاتمہ قرآن وسنت سے کرنا ہوگا۔

قرآن کی تعریف تک اصول فقہ میں انتہائی غلط پڑھائی جارہی ہے جس کے نتیجے میں سورہ فاتحہ کو پیشاب لکھنا تک بھی جائز قرار دیا گیا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اساتذہ کرام نے طالب علمی کے دوران مجھے بڑا حوصلہ دیا تھا جس کی قدر و منزلت اس وقت میں نہیں سمجھ سکتا تھا لیکن اب سمجھتا ہوں کہ وہ مرد قلندر تھے اور قلندر ہرچہ گویددیدہ گوید کے مصداق ہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 6
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 5
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 4