تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 4
جنوری 6, 2026
اسلام کی نشاة ثانیہ کا حلالہ کی لعنت کے خاتمہ سے بڑا گہرا تعلق ہے جس میں شیطانی ٹولوں اور علماء حق کا واضح تعارف ہے
اللہ کی کتاب میں ایک ایک آیت سچائی کی دلیل ہے:
وماارسلنا من قبلک من رسول والا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنتہ فینسخ اللہ مایقی الشیطان ثم یحکم اللہ اٰیاتہ واللہ علیم حکیم
”اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ نبی مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں شیطانیت ڈال دی تو اللہ شیطان کی آمیزیش کومٹادیتا ہے پھر اپنی آیات کو استحکام بخش دیتا ہے ،اور جاننے والا حکمت والا ہے۔ ( الحج:52)
القائے شیطانی کی اسلام میں ایک مثال حلالے کا مسئلہ ہے۔ تعجب اس بات پر نہیں کہ حلالہ کیسے رائج ہوگیا بلکہ تعجب کی بات یہ ہے کہ آیات میں اتنی وضاحتوں کے باوجود بھی شیطان کا القا ء کیسے کامیاب ہوگیا؟۔ قرآن کی صداقت کیلئے یہ بھی کافی ہے کہ اس آیت کے مطابق طلاق کے مسئلے میں شیطان کا القا ء کس طرح سے خلاف فطرت مسلط کیا گیا؟۔
1970ء میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور دیگر علماء و مفتیان نے مشرقی اور مغربی پاکستان سے جمعیت علماء اسلام پر کفر کا فتویٰ لگایا تو جمعیت علماء کے ماہنامہ میں حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ، مفتی محمود ، مولانا عبیداللہ انور صاحبزدہ مولانا احمد علی لاہوری، مولانا عبداللہ درخواستی وغیرہ نے کراچی کے ان اکابر علماء ومفتیان گرامی کے نام شائع کردئیے جو حلالہ کے مرتکب تھے اور سرمایہ داروں سے اسکے عوض رقم لیتے تھے۔
1972ء میں احمد آباد ہندوستان کی کانفرنس میں حلالہ کی لعنت کے خاتمے کیلئے تمام مکاتب فکر کے نامورعلماء نے مقالے پڑھے جو مفتی عتیق الرحمن عثمانی بن مولانا عزیز الرحمن عثمانی رئیس دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کی صدارت میں ہوا تھا۔ شیطانی القا کاایک مقصد مفتی تقی عثمانی جیسے دل کے مریض اور جاوید احمد غامدی جیسے سنگ دلوں کے چہروں سے نقاب اٹھانا ۔ لیجعل اللہ ما یلقی الشیطان فتنةً للذین فی قلوبھم مرض و القاسیة قلوبھم وان الظالمین لفی شقاق بعیدٍ ”تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو ان لوگوں کیلئے آزمائش بنادے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بیشک ظالم دور کی گمراہی میں ہیں”۔ (الحج:53)
مفتی تقی عثمانی دل کا مریض ہے، سود کو حلال کیا مگر حلالہ کو ختم کرنے میں رکاوٹ ہے ، غامدی قرآن کے مسائل کی بنیاد پر بکواس کرتا ہے لیکن مسئلہ طلاق کو الجھانے میں لگ گیا ہے۔
شیطانی القا کا دوسرا مقصد علماء حق کی نشاندہی کرنا ہی ہے۔
ولیعلم الذین اوتواالعلم انہ الحق من ربک فیؤمنوا بہ فتخبت لہ قلوبھم وان اللہ لھادالذین اٰمنوا الیٰ صراطٍ مستقیمٍ
”اور تاکہ علم والے اسے تیرے رب کی طرف سے حق سمجھ کر ایمان لائیں پھر ان کے دل اس کیلئے جھک جائیں۔ اور بیشک اللہ ایمان والوں کو سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے”۔ (سورہ الحج آیت:54)
کوئٹہ سے لاہور ، گوجرانوالہ تک اور کراچی سے سوات تک اہل علم کی حمایت جاری ہے۔ کسی کو شک کی بنیاد پر فتویٰ دینا اور یہ کہنا کہ حلالہ کی لعنت کرو اور پھر لکھنا کہ واللہ اعلم بالصواب یعنی ٹھیک بات اللہ جانتا ہے۔ کتنی بڑی گمراہی ہے جس میں کئی مدارس کے علماء کرام اور مفتی عظام آج ملوث ہیں۔شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن ، شیخ الحدیث مولانا نذیراحمد جامعہ امداد العلوم فیصل آباد نے مدرسہ کے بچوں کو نہیں چھوڑا تو حلالہ کی لعنت پر کیا غیرت آئے گی؟۔ صابر شاہ نے امتحان پاس کرنے کیلئے مفتی عزیز الرحمن سے اپنا حلالہ کروایا تو عورتیں اپنے خاوند اور بچوں سے تعلق بحال کرنے کیلئے حلالہ کیسے نہیں کروائیں گی؟ لیکن جب لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ قرآن و حدیث میں اس لعنت کے بغیر بھی معروف رجوع کا راستہ کھلا ہے تو اسلام اور مسلمانوںکی دنیا میں سربلندی شروع ہوجائے گی۔
البتہ اللہ کے واضح احکام سے انکار کرنے والے انقلاب کی آمد تک قرآن سے شک میں ہی رہیں گے ۔ چنانچہ اگلی آیت میں فرمایا:
ولایزال الذین کفروا فی مریة منہ حتی تاتیھم الساعة بغتةًاو عذاب یومٍ عقیمٍ
”اور انکار کرنے والے ہمیشہ قرآن سے شک میں رہیں گے۔ یہاں تک کہ ان پر اچانک بڑا انقلاب آجائے یا بانجھ پن کا عذاب ان پر آجائے”۔(سورہ الحج آیت:55)
امام مہدی کا انقلاب اچانک راتوں رات آئے گا جس کی نشاندہی قرآن اور احادیث میں موجود ہے۔ پھر جنہوں نے سانڈھ جیسے صاحبزادگان اور جانشین پال رکھے ہیں ان کو اس بات کا احساس ہوگا کہ بانجھ ہوکر سارا منصوبہ دھرا رہ گیا ہے۔
الملک یومئذٍ للہ یحکم بیھم فالذین اٰمنوا و عملوا الصالحات فی جنٰت النعیم
”اس دن اللہ ہی کی حکومت ہوگی جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ پس جو ایمان اور عمل صالح والے ہیں وہ نعمتوں والے باغات میں ہوں گے”۔ (سورہ الحج آیت:56)
پاکستان کے آئین میں اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کیلئے ہے اور جب اس آئین پر عمل ہوگا تو یہی انقلاب ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کے آخری پارہ کی تفسیر ”المقام محمود” میں لکھاہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے پہلی صدی ہجری میں تجدید کا کارنامہ انجام دیا اور اس کے دور میں احادیث کو آزادی ملی لیکن اس کی وجہ سے امت مسلمہ میں زوال بھی شروع ہوا اسلئے کہ قرآن کی طرف توجہ کم ہوگئی اور امام ابوحنیفہ نے سب سے بڑا کارنامہ یہ انجام دیا کہ لوگوں کو قرآن کی طرف متوجہ کیا جس میں کامیابی نہیں ملی اسلئے کہ فقہی مسائل کے انبار میں قرآن کی اصل تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔اس خطہ زمین سندھ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر ، پختونخواہ اور افغانستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی اور اس کو ایران بھی قبول کرے گا اسلئے کہ امام ابوحنیفہ ائمہ اہل بیت کے شاگرد تھے۔ انہی کے مسلک کو بنیاد بناکر قرآن سیکھا تھا۔ قارئین مولانا سندھی کو پڑھ لیں۔
امام باقراور امام جعفر صادق ، ائمہ اہل بیت نے کوئی کتاب نہیں لکھی تھی اور زبانی فتویٰ سے رہنمائی کرتے تھے لیکن امام زید نے کتاب ”مجموع” لکھ دی تھی جس میں یہ واضح کیا تھا کہ ” عرب عورت کا نکاح عجم سے جائز ہے اور اس کیلئے یہ دلائل دئیے تھے کہ اگر عربی عورت سے کوئی عجمی نکاح کرے گا تو قرآن کے مطابق ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں وہ عورت نصف حق مہر کی حقدار ہوگی اور ہاتھ لگانے کے بعد اس کو پورے حق مہر کا حقدار قرار دیا جائے گا اور جب اس کو شوہر تین مرتبہ طلاق دے گا تو پہلے شوہر کیلئے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرے شوہر سے نکاح نہیں کرلے”۔
امام زید کے بڑے بھائی امام باقر کی عمر15سال زیادہ تھی جس کے بیٹے امام جعفر صادق تھے۔ امام ابوحنیفہ نے اس طلاق کو تین مرتبہ طلاق کے بجائے فدیہ کی صورت سے خاص کیا تھا جو آج بھی حنفی اصول فقہ میں پڑھایا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر تمام احادیث صحیحہ کا انکار بھی لازم نہیں آتا ہے اورقرآن کی واضح آیات پر بھی درست عمل ہوتا ہے۔ اہل تشیع کے امام غائب کے بعد فقہ جعفریہ کو فاطمی خلافت کے اسماعیلی فرقہ نے مدون کیا اور اس میں امام زید کی کتاب ”مجموع” کا ہی عمل دخل تھا اور اسماعیل صفوی نے بھی جب شیعہ مذہب قبول کیا تو امام زید اور اسماعیلی فرقہ کے فاطمی خلافت سے مسائل اخذ کئے۔
جس طرح ہندوستان میں کھوجہ امامیہ نے اسماعیلی مذہب چھوڑ کر امامیہ کو قبول کیا اسی طرح ایران کی صفوی حکومت نے اثنا عشری کے مسلک کو قبول کیا لیکن مسائل فاطمی حکومت سے لئے تھے۔ بہت اقسام کے شیعہ ہیں۔ نہج البلاغہ میں حضرت عمر کی وفات کے بعد حضرت علی نے زبردست تعریف کی ہے۔ غاصب بدعتی خلیفہ کی حضرت علی تعریف نہیں کرسکتے تھے۔ امام ابوحنیفہ کے قتل میں حکمران ٹولہ اور درباری علماء ملوث تھے اور حنفی مسلک کو بگاڑ کے رکھ دیا گیا۔ سنی مسالک کو بگاڑنے کے بعد چارامام بر حق اور فقہ جعفریہ سے اجتناب کی بنیاد حلالہ تھا اسلئے کئی حکمرانوں نے فقہ جعفریہ کوقبول کرلیا۔ لیکن حکمران اور درباری مولوی شیعہ سے نفرت دلاتے رہے ہیں اور دوسری طرف شیعہ کو بھی صحابہ کرام کی دشمنی کی طرف دھکیل دیا گیا تھا۔
سنی امام اعظم ابوحنیفہ کے درست مسلک کو تبدیل کیا لیکن درسی کتابوں نورالانوار اور اصول فقہ میںوہی پڑھایا جارہاہے جبکہ شیعہ امام جعفر صادق کی جگہ امام زید کے مسلک کو پڑھا رہے ہیں۔ عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا طریقہ کار قرآن اور سنت کے موافق ہے لیکن اس کی وجہ سے حلالہ کی لعنت کا مسلط کرنا شیطان کا بہت بڑا دھند ہ ہے جس کو شیعہ اور سنی ایک دن دونوں مل کر چھوڑیں گے۔ انشاء اللہ
جب دنیا میں انقلاب آجائے گا اور خلافت قائم ہوگی تو
والذین کفروا و کذبوا باییاٰیاتنا فاولئک لھم عذاب مھین
‘ ‘اور جنہوں نے انکار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا تو ان کیلئے ذلت کا عذاب ہے ”۔ ( الحج آیت57)
سود کے عالمی نظام کو جواز بخشنے والے نام نہاد عزت داروں کو انقلاب کے آنے سے پہلے اپنی عزتوں کا لگ پتہ جائے گا اسلئے کہ لوگوں کی عزتیں مدارس گمراہی کے قلعوں میں دین پر اعتماد کی وجہ سے فالودہ بن رہی ہیں۔ جن بے غیرتوں کو لعنت کا شہد چکھنے اور چکھانے میں مزہ آتا ہے تو ان کی بات اور ہے لیکن جن کو غیرت وعزت کے باوجود دھوکہ دیا جارہاہے وہ ذلت کی دہلیز سے مذہبی لبادے والوں کو بھی بدلے میں اتاریں گے۔
قتل وغارت اور حسد وبغض کی دشمنیاں تو بہت چھوٹی بات ہے اور عداوت رکھنے والے آپس میں گرم جوش دوست بنتے ہیں لیکن جس کی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو حلالہ کی ضرورت نہ ہو اور مولانا ، مفتی، ڈاکٹراورشیخ الحدیث کو معلوم ہو لیکن دوست اور عقیدت مند اور عوام الناس کو دھوکے میں رکھا ہوتو کون اس کے بعد ایسے ذلیل اور کمینہ لوگوں کو عزت کا مستحق سمجھے گا؟۔
میڈیا نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف ہوا کھڑا کیا کہ ”لال مسجد والے آبپارہISIکے ناک تلے موجود ہیں اور ان کو کچھ نہیں کہا جارہاہے”۔ جب فوج نے دباؤ میں آپریشن کیا تو سارا میڈیا فوج کے خلاف لگ گیا۔ مفتی عبدالرحیم نے بتایا کہ ”اس نے ضرب مؤمن اور اسلام اخبار میں بھی شہ سرخیاں اور بھڑک بازیاں لگائی تھیں کہ ”سینکڑوں یتیم اور لاوارث بچیوں کو شہید کیا گیا”۔ مؤمن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر فتنہ خوارج کہتا ہے مگر اس کو پتہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند ہندوستان سے افغانستان تک اور پاکستان میں ایک بہت بڑا طبقہ خوارج کے الفاظ سے متفق نہیں ہے۔ پاکستان کے باشعور لوگ ہیں وہ صرف علامہ طاہر اشرفی اور مفتی عبدالرحیم کے کہنے پر ایک دن کسی کو مجاہد اور دوسرے دن ان کو فتنہ خوارج نہیں سمجھیںگے۔ فتنہ خوارج کے میدان کو افغان طالبان اور علماء دیوبند سے علیحدہ کرنا بڑا مشکل معاملہ ہے۔ تبلیغی مرکز رائیونڈ والے بستی نظام الدین مر کز کے ذمہ داروں کو فتنہ خوارج کہہ سکتے ہیں لیکن طالبان طالبان کے متعلق نہیں کہہ سکتے ہیں۔ امریکہ کے خلاف سب نے قربانی دی ہے اور اللہ کرے کہ مسائل اچھے انداز میں حل ہوجائیں:
والذین ھاجروا فی سبیل اللہ ثم قتلوا و ماتو لیرزقنھم اللہ رزقًا حسنًا وان اللہ لھو خیر الرازقین
”اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ قتل کئے گئے یا مرگئے تو انہیں ضرور اچھا رزق اللہ دے گااور اللہ بہترین روزی دینے والا ہے ”۔ (سورہ الحج:58)
اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے جن لوگوں نے ہجرت کی اور قربانی دی اور پھر وہ قتل کئے گئے یا مرگئے تو قبروں میں بھی ان کیلئے اچھی روزی کی خوشخبریاں ہیں اسلئے لواحقین کو فکر نہیں کرنا چاہیے اور جن لوگوں کی بچت ہوئی ہے تو اللہ کا ان سے وعدہ ہے کہ
لیدخلنھم مدخلًا یرضونہ و ان اللہ لعلیم حلیم
”ضرور بضرور اللہ ان کو داخل کرے گا جہاں وہ پسند کریں گے اور بیشک اللہ جاننے والا نرمی رکھنے والا ہے”۔(الحج:59)
ذٰلک ومن عاقب بمثل ما عوقب بہ ثم بغی علیہ لینصرنہ اللہ ان اللہ لعفعو غفور
”وہ اور جس نے اس قدر بدلہ لیا جس قدر اس کو تکلیف دی گئی پھر اس پر بغاوت کردی تو اللہ اس کی ضروربضرور مدد کرے گا ۔ بیشک اللہ معافی دینے والا مغفرت کرنے والا ہے”۔ (سورہ الحج:60)
ذٰلک بان اللہ یولج اللیل فی النھار و یولج النھار فی اللیل وان اللہ سمیع بصیر
”وہ اسلئے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کیاکرتا ہے اور بیشک اللہ سننے والا دیکھنے ولا ہے”۔ (سورہ حج:61)
ذٰلک بان اللہ ھو الحق وان ما یدعون من دونہ ھو الباطل و ان اللہ ھو العلی الکبیر
” یہ اسلئے ہے کہ حق اللہ ہی ہے۔اور اس کے علاوہ جن کو پکارا جاتا ہے وہ باطل ہے اور بیشک اللہ ہی عالی رتبہ بڑائی والا ہے ”۔ (الحج:62)
الم تر ان اللہ انزل من السماء مآئً فتصبح الارض مخضرةً ان اللہ لطیف خبیر
”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی اتارتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔بیشک اللہ نفاست رکھنے والا جاننے والا ہے”۔ (سورہ الحج:63)
لہ ما فی السماوات و مافی الارض وان اللہ لھو الغنی الحمید
”جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور بیشک اللہ غنی اور قابل تعریف ہے”۔ (الحج:64)
اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے افواج پاکستان اور طالبان ایک فریق تھے جنہوں نے امریکہ کو نکالنے کیلئے بڑی قربانیاں دیں لیکن حقیقی اسلام افغانستان اور پاکستان میں نافذ تو کیا علماء اور مفتیان بھی اسلام کی تعبیر ہی الٹی سمجھتے ہیں تو پھرکیا ہوگا؟۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ