پوسٹ تلاش کریں

تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 5

تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 5 اخبار: نوشتہ دیوار

امت جس شاخ پر بیٹھی ہے اسی کو کاٹ رہی ہے ،شیخ چلی نے پہلے نصیحت والے کو برا کہا جب گرا تواحمق نے پھر ولی قرار دیا

اللہ نے قرآن میں بہت وضاحت کے ساتھ بھیڑ چال کی سخت مخالفت کی جس کا تھوڑ ابہت پس منظر بھی ملاحظہ فرمائیں:

وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونًا واذا خاطبھم الجاہلون قالوا سلامًا

"اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر تواضع کے ساتھ چلتے ہیں اور جب ان کو جاہل مخاطب کرتے ہیں تو کہتے کہ سلام ”۔(الفرقان)

اس طرح آیت63کے بعد اللہ کے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ” جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہیں پکارتے۔اور نہ کسی جان کو قتل کرتے ہیں مگر حق کے ساتھ اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جس نے ایسا کیا تو گناہ میں جا پڑا۔ اور اللہ اس کیلئے قیامت میں عذاب کو دگنا کرے گا اور اس میں وہ ہمیشہ ذلیل ہوکر پڑا رہے گا۔مگر جس نے توبہ کی اور درست عمل کیا تو ان لوگوں کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔ اور اللہ غفور رحیم ہے”۔(آیات:68سے70تک الفرقان)

عمل صالح سے مراد درست عمل ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو قتل کرو، زمینوں پر قبضہ کرو، رشوت اور ظلم کرو اور پھر تصوف یا تبلیغی جماعت کی چھتری تلے نمازیں پڑھو۔ فسادی عمل کا ازالہ کرنے کیلئے اپنے اعمال کو درست کرنا پڑے گا۔

فرمایا ”اور جو لوگ جھوٹ گواہی نہیں دیتے۔اور جب لغو عمل سے گزرتے ہیں تو عزت سے گزر جاتے ہیں”۔ نیٹ پر ترجمہ تک بھی غلط لکھ دیا ہے ۔ (آیت72الفرقان)

بھیڑ چال کی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا:

والذین اذا ذکروا باٰیات ربھم لم یخروا علیھا صمًا و عمیانًا

” اور وہ لوگ جن کو اپنے رب کی آیات سے سمجھایا جاتا ہے تو اس پر بہرے اندھے ہوکر نہیں گرتے”۔ ( الفرقان:73)

قرآن کی آیت230البقرہ میں واقعی حلالہ کی لعنت کا حکم موجود ہے لیکن بھیڑ چال کی طرح اللہ نے اس کو ماننے کا نہیں فرمایا ہے بلکہ غور، تدبر اور آگے پیچھے کی آیات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا کہ قرآن سے کوئی حدیث متصادم ہو تو اس کو نہیں مانو۔ قرآن کی آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف رجوع کو اللہ تعالیٰ بہت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ امام باقراور امام جعفر تو پاکستان کی اصطلاح میں فورتھ شیڈول میں تھے۔ امام مالک کے سوفٹ وئر کو بہت بدترین تشدد کا نشانہ بناکر تبدیل کیا گیا تھا۔ مولانا سید ابولاعلیٰ مودودی نے خلیفہ منصور کا لکھا کہ ”ابوزیب سے پوچھا کہ خلافت مجھے خدا نے دی ؟ تو اس نے کہا کہ تم نے غصب کی ہے اور تم نے اس کا استعمال غلط کیا تو خدا کے عذاب سے ڈرو۔ امام ابوحنیفہ وامام مالک نے سمجھا کہ ابھی جلاد کی تلوار اس کا سر تن سے جدا کرے گی۔ خون ہمارے کپڑوں پر پڑے گا۔ پھر امام احنیفہ سے پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ تم نے خلافت غصب کی ہے اور اس میں اہل مشاورت کے لوگ شریک نہیں تھے۔ امام مالک نے جواب دیا کہ یہ منصب خدا نے دیا اگر اہل نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ نہیں دیتا”۔

جاویداحمد غامدی نے ناصبی محمود عباسی کی کتابیں پڑھی تھیں اور امام مالک کے قول کا سہارا مل گیا۔ اسلئے یزید اور مروان کی حکومت کو سپورٹ اور حضرت علی و حسنین کی مخالفت کو قرآن سے ثابت کرنے کا ملکہ حاصل کیا۔ پھر آئندہ کیلئے بھی اسلام کا قصہ تمام کرنے کیلئے حضرت نوح کے تیسرے بیٹے کے نام پر قیامت تک اسلام کے مغلوب کرنے کا ایک فلسفہ گھڑ دیا۔

مولانا مودودی دارالعلوم دیوبند کے داڑھی منڈوے ایک صحافی تھے۔ پھر جماعت اسلامی بناکر علماء کو جمع کیا۔ مدرسہ میں پڑھنے والا طالب علم عالم ہوتا ہے اور بیرون مدرسہ پڑھنے والا دانشور موج ہے دریا میںبیرون دریا کچھ نہیں ۔میرے ساتھی فیروز بھائی نے قرآن کی کسی آیت کا مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ یہ قرآن میں نہیں ہے۔ اس نے دکھایا تو میں نے کہا کہ یہ ترجمہ غلط کیا ہوا ہے۔ کافی عرصہ گزر چکا ہے اور وہ آیت یاد نہیں لیکن مولانا مودوی نے ترجمہ کیا تھا۔ آیت229البقرہ میں خلع مراد نہیں ہوسکتا ہے اور مفتی تقی عثمانی نے مشکل قرار دیا ہے لیکن مولانا مودودی اور جاوید احمد غامدی نے اس کو آسانی سے خلع لکھ دیا۔ جاہل کی دم نہیں ہوتی ورنہ تو بہت لوگوں کے نقاب اُٹھ جاتے۔ علم سمجھ کا نام ہے۔ علماء نے تقلید کا سہارا اسی لئے لیا ہے کہ وہ خود کو علماء نہیں سمجھتے۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتاب ”تقلید کی شرعی حیثیت” میں ان احادیث کو نقل کیا ہے کہ جس کے بعد علم اٹھ چکا ہے اور ان کو فقہ کے ائمہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی وغیرہ پر فٹ کیا ہے۔ جبکہ مولانا یوسف لدھیانوی نے موجودہ دور بلکہ اپنے دور پر ان احادیث کو فٹ کیا تھا۔

ایک روایت میں حضرت لبید کے شعر کو لکھا ہے کہ جن کے سائے میں زندگی بسر ہوتی تھی تو وہ لوگ اٹھ گئے اور میںناکارہ لوگوں میں پڑا رہ گیا ہوں۔ جس کو نقل کرتے ہوئے حضرت اماں عائشہ صدیقہنے فرمایا کہ ”لبید اپنے زمانے والوں کا رونا رو رہا ہے ،اللہ اس پر رحم کرے اگر ہمارا زمانہ دیکھ لیتا تو پھر کیا کہتا؟”۔ حضرت عائشہ صدیقہ کی وفات58ھ کو ہوئی اور اس کے دو سال بعد یزید نے اقتدار سنبھالا تھا۔ حضرت عائشہ کے دور میں ایک عورت نے اپنی عدت کو تین طہر کے بعد پورا سمجھا تو کچھ لوگوں کو تشویش ہوئی اور حضرت عائشہ سے رہنمائی لی۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ” اس نے ٹھیک کیا ہے قرآن میں ثلاثة قروء سے مراد ثلاثة اطہار ہیں”۔

قرآن کی آیت222البقرہ میں حیض کے اندر عورت کی تکلیف اور گند کا ذکر ہے جس میں مقاربت منع ہے اور طہر میں عورت کے پاس آنے کا حکم ہے۔ تو آیت228البقرہ میں عدت کے تین ادوار میں عورت طہر ہی میں انتظار کرسکتی ہے۔ معاملہ عورت کے انتظار کا ہے تو قرآن کو حضرت عائشہ نے بھی ٹھیک ہی سمجھا تھا۔ اہل کوفہ کا ماحول یونان کا فلسفہ تھا اور حضرت امام ابوحنیفہ نے بھی اپنی جوانی اور زیادہ عمر اسی فلسفہ میں گزار دی لیکن بعد میں پکی توبہ کرکے دین کی سمجھ میں کمال حاصل کیا اور ان کے اصولوں کے دعوے پر حنفی مسلک کو بنایا گیا ہے۔

جب اصول فقہ میں حنفی مسلک مولانا بدیع الزمان نے اپنا سبق پڑھایا کہ ”3کا لفظ خاص ہے جو ڈھائی نہیں ہوسکتا ہے اورطلاق کا مشروع حکم طہر میں طلاق دینے کا ہے تو پھر جس طہر میں طلاق دی جائے تو اس میں سے کچھ وقت گزرے گا اور اس کو ادھورا شمار کیا جائے تو عدت3سے کم ہوکر ڈھائی بن جائے گی اور قرآن کے خاص پر عمل نہیں ہوگا اسلئے قرآن میں عورت کی عدت کے تین ادوار سے مراد تین حیض ہیں”۔

مولانا بدیع الزمان بیمار اور ضعیف العمر تھے اسلئے سوال اور جواب مناسب نہیں لگتے تھے لیکن قاری مفتاح اللہ مدظلہ العالی سے کھل کر بولتا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ اگر عدت کے ادوار سے تین حیض مراد لئے جائیں تو جس طہر میں طلاق دی اس کی وجہ سے معاملہ ساڑھے تین تک پہنچے گا۔ قاری مفتاح اللہ مفتی ولی حسن ٹونکی مفتی اعظم پاکستان کے پاس بھیج دیتے تھے لیکن ان کے پاس بھی جواب نہیں ہوتا تھا۔ طلبہ نے کہا کہ عتیق بہت سوال کرتا ہے ۔ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے پڑھ نہیں پائیں گے تو

قاری مفتاح اللہ نے فرمایا کہ ” عتیق امام ابوحنیفہ ، امام مالک کی طرح ایک امام کا درجہ رکھتا ہے اور تم ایک دن فخر کروگے کہ ہم نے بھی عتیق کے ساتھ پڑھا ہے”۔ 95کے قریب طلبہ میں مفتی اعظم امریکہ مفتی منیر احمد اخون بھی شامل تھا۔

جب روزہ رکھا جائے اور رمضان میں سہری کے وقت میں آنکھ نہیں کھلے بلکہ صبح کی نماز بھی قضا ہوجائے تو سورج نکلنے پر بھی کچھ کھائے پیئے بغیر روزہ رکھا جائے تو روزہ پورا شمار ہوگا ۔ اسی طرح جس طہر میں جماع نہیں کیا تو طلاق کے بعد وہ بھی پورا شمار ہوگا۔ جب نورالانوار میں ملاجیون کی اس حماقت پر ہم حیران ہوئے تو قاری مفتاح اللہ صاحب نے ملاجیون کے وہ لطیفے سنائے جنہیں شیخ چلی کی کتابوں میں درج کرنا چاہیے۔

مجھے بچپن سے حساب کا ذوق تھا۔ سکول میں داخلے سے بھی پہلے اپنی طرف سے بھی پہاڑہ ایجاد کیا تھا۔ جس میں2،3،4اور5کے حاصل ضرب کو پھر اسی عدد سے ضرب دیتا تھا۔2ضرب2مثلاً4اور4کو2سے8اور8کو2سے16اور16کو2سے32، اس طرح64وغیرہ اور پھر3اور4اور5اور6کے میرے اپنے الگ بنائے ہوئے پہاڑے تھے۔
ایک آنہ 6پیسہ کا بنتا تھااور دو آنے12پیسے کے۔ لیکن چار آنے پر25اورآٹھ آنے پر50پیسہ۔ اس طرح ایک روپیہ100پیسے کا بھی بنتا تھا اور96پیسے کا بھی۔ میں نے بھائی سے کہا کہ یہ حساب غلط ہے لیکن اس نے معقول جواب نہیں دیا۔

مسلمانوں پر سال میں ڈھائی فیصد زکوٰة فرض ہے اور اپنا نالائق نظام نقد میں چار فیصد کے کھلے گھپلے میں ملوث تھا۔ جب9thکلاس گورنمنٹ ہائی سکول لیہ پنجاب میں پڑھتا تھا تو بیالوجی کی کتاب میں زندگی شروع ہونے کے دو نظریئے لکھ دئیے تھے۔ پہلا نظریہ مردہ سے زندہ پیدا ہوسکتا ہے۔ دلیل یہ کہ گوشت میں کیڑے پیدا ہوتے ہیں۔ دوسرا نظریہ : مردے سے زندہ پیدا نہیں ہوسکتے اسلئے کہ گوشت پر نیٹ رکھ ردیا اور پھر اس میںکیڑے پیدا نہیں ہوئے۔ لہٰذا دنیا میں زندگی پہلے نظریہ پر شروع ہوگئی لیکن اب دوسرے نظریہ پر عمل ہوتا ہے اور کسی بے جان یا مردے سے زندہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔

میں نے استاد جی سے سوال پوچھا کہ یہ سائنس ہے یا کوئی عقیدہ ہے؟۔ جب ایک چیز غلط تجربہ سے ثابت ہوگئی تو پھر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پہلے اس نظریہ پر عمل ہوا؟۔ استاذ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ جس نصاب سے دل کو اطمینان نہیں ہو تو اس کو بندہ کیسے پڑھ سکتا ہے؟۔ علم اندھی تقلید کا نام نہیں بلکہ سمجھ کا نام ہے۔ مولوی حضرات مانتے ہیں کہ وہ مقلد ہیں لیکن جدید تعلیم یافتہ طبقہ ان سے بھی زیادہ کورا ہے۔

جب میں نے کبیر پبلک اکیڈمی کے نام سے سکول کھول دیا تو سکول کے طلبہ کو زیادہ تر الف ب تک بھی نہیں آتے تھے مگر جنہوں نے مسجد میں پڑھا ہوتا تھا تو قرآن کے حروف آتے تھے۔ پھول اور کلیاں ایک کتاب تھی جس کو میں نے امتحان کیلئے رکھا تھا۔ پانچویں تک پڑھے ہوئے طلبہ کو الف ب نہیں آتے تھے۔ جن کو عربی حروف آتے تھے تووہ مسجد کا کرشمہ تھا۔ وہ پھر چ، ڑ، ڈال اور اردو کے حروف نہیں جانتے تھے۔

سماء ٹی وی میں سید بلال قطب اور مولویوں کی جہالت

سیدبلال قطب کو میں نے اپنی کتاب ”ابر رحمت ” دی تو اس کے چیلے نے کہا کہ یہ خود بہت بڑا اسلامی سکالر ہے۔ پھر تقریباً ایک دو سال کے بعد رمضان پروگرام میں اس نے ایک مولانا آزاد جمیل سے پوچھا کہ سسر کو حدیث میں آگ کہا گیا ہے تو کیا شوہر مر جائے تو سسر سے شادی ہوسکتی ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں ۔ دوسرے مولوی بھی بیٹھ کر استفادہ کررہے تھے۔ میں رپیڈ پروگرام دیکھا تو جہالت پر حیران ہوا ۔

قرآن کے نزول سے پہلے جس جہالت میں معاشرہ گرفتار تھا تو آج پھر وہیں پر کھڑا ہے۔ قرآن نے ایک ایک معاملے کو الگ الگ کرکے بہت تفصیل سے سمجھایا تھا۔ کفا ر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے تھے لیکن قرآن کے احکام کا جواب نہیں تھا۔

وکذالک جعلنا لکل نبیٍ عدوًا من المجرمین و کفٰی بربک ھادیًا و نصیرًاOوقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القراٰن جملةً واحدةً کذٰلک لنثبت بہ فوادک و رتلناہ ترتیلًاOولا یأتونک بمثل الا جئناک بالحق و احسن تفسیرًاO

”اوراسی طرح مجرموں میں سے ہر نبی کیلئے دشمن بنائے اور ہدایت اور مدد کیلئے تیرا رب کافی ہے۔ اور کافر کہتے ہیں کہ کیوں اس پر یکبارگی میں قرآن نازل نہیں ہوا۔ اسی طرح تاکہ ہم اس قرآن کے ذریعے تیرے دل کو اطمینان دیں۔ اور ہم نے ٹھہر ٹھہر مزے مزے سے اس کو نازل کیا۔ اور وہ نہیں لاسکتے تیرے پاس کوئی مثال مگر تیرے پاس حق کیساتھ لائیں گے اور بہت اچھی تفسیر”۔ ( الفرقان:آیات:31،32،33)

جاہل الجھی ہوئی جہالتوں کا شکار تھے۔ سورہ مجادلہ میں اللہ نے فرمایا کہ ”مائیں نہیں ہیں مگر وہی جنہوں نے جنا ”۔ سوتیلی ماں کو توحلال سمجھتے تھے ۔مقصد سوتیلی ماں کوحلال کرنے کا فتویٰ نہیں تھا بلکہ بیوی کو ظہار سے حقیقی ماں کی طرح حرام سمجھتے تھے۔اور فرمایا:

لاتنکحوا ما نکح اٰباء کم من النساء الا ماقد سلف انہ کان فاحشة ًو مقتًا وساء سبیلًا

” ان سے نکاح نہ کرو ، جن سے تمہارے باپ نے کیا مگرجو گزر چکا۔ بیشک یہ فحاشی، غضب کا کام اور برا راستہ ہے” ۔ (النساء:22) سورہ احزاب میں منہ بولے بیٹے کی طلاق شدہ بیوی سے نکاح کی اجازت واضح کردی۔ سورہ طلاق معاملات کا حل تھا لیکن یہود کا اعتراض تھا کہ حلالہ کا ذکر نہیں۔ اللہ نے کوئی چیز بھی چھوڑ ی نہیں۔ حلالہ کا ذکر ہے انجیل میں نہیں تھا تو عیسائیوں نے طلاق کا تصور چھوڑ دیا اسلئے اللہ نے فرمایا:

ما نسخ من اٰیةٍ او ننسھا نأت بخیر منھا او مثلھا

” ہم کسی آیت کو محو کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لاتے ہیں”۔ (سورہ البقرہ106)

مولانا نور محمد رغزئی رمضان میں ماموں کے گھر کانیگرم آتے اور قاضی عبداللطیف بھی ساتھ ہوتا تھا۔ مولانا نور محمد کے بیٹے مولانا ظاہر شاہ نے قاضی عبدالکریم کلاچی کا ایک فتوی مجھے دکھایا کہ یہ لوگ علم کے سمندر ہیں۔ فتویٰ میں لکھا تھا کہ کراچی کے بعض علماء تین طلاق کو ایک قرار دیتے ہیں لہٰذا رجوع ہوسکتا ہے۔ میں نے کہا کہ ”یہ تو اہل حدیث کا فتویٰ ہے جو پورے پاکستان میں ہیں ۔ میں فوٹو کاپی نکال کر شائع کرتا ہوں ”۔ پھر مولانا ظاہر شاہ نے کہا کہ ”یہ لوگ پھر مجھے نہیں چھوڑ یں گے”۔

عائلی قوانین میں اکٹھی تین طلاق کو تین مہینے تک غیر موثر قرار دیا ہے ۔ عائلی قوانین پر اور یا مقبول جان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا بکنے والا سیاستدان مفتی محمود تھا۔اور1970ء کے الیکشن میں مولانا نور محمد نے کہا کہ ”مفتی محمود نے بس مانگی ہے”۔ ماموں غیاث الدین نے کہا کہ ” مفتی محمود نے اسلام کو بیچ دیا ہے ،اس کو تو نہیں دیتا لیکن آپ کو دیتا ہوں”۔

میرے والد پیر مقیم شاہ نے مفتی محمود کی پھر بھی حمایت کی ۔ چچا سید محمد صدیق شاہ نے میرے والد کا کہا کہ” وہ طلاق کو مانتا ہی نہیں ہے” اور اس وقت میری سمجھ میں بات نہیں آئی تھی۔1970ء میں عائلی قوانین اور طلاق کا مسئلہ ڈسکس ہوا ہوگا۔ جب قاضی عبداللطیف کے پڑوس میں ایک جوان لڑکی نے یہ دعویٰ کیا کہ میں نے رات کو لیلة القدر کو دیکھا اور اللہ نے لڑکا بنادیا تو اسکا بہت چرچا ہوا۔ میرے والد نے غلط قرار دیا تو لوگوں نے پوچھا کہ کیا اللہ ایسا نہیں کرسکتا؟۔ میرے والد نے جواب دیا کہ اللہ کرسکتا ہے لیکن یہ اس کی عادت نہیں ہے کہ دعا سے جوان لڑکی کو لڑکا بنادے ، اس لڑکی کا کوئی چکر ہے۔ پہلے لوگ توبہ کررہے تھے کہ پیر مقیم شاہ دادا نے اللہ کی قدرت کا بھی انکار کردیا لیکن ان کے خلاف بولتے نہیں تھے اسلئے کہ سبھی ان کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور جب پتہ چلا کہ لڑکی نے اپنے منگیتر سے انکار کیلئے جھوٹا دعویٰ کیا ہے تو پھر حیران تھے کہ دادا اتنے زیادہ ہوشیار ہیں۔ شیخ چلی جس شاخ پر بیٹھا تھا اسی کو کاٹ رہا تھا تو کسی نے بتایا مگر جب تک گرا نہیں وہ مانا نہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 6
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 5
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 4